اے سی کے بغیر کمرے کا درجہ حرارت 25 ڈگری سے کم کرنے والی سستی جوگاڑیں

Posted by

شدید گرمی میں جب درجہ حرارت 44 ڈگری سے بھی اوپر چلا جائے تو نہ دن کو چین آتا ہے اور نہ رات کو نیند آتی ہے اور ایسے موقع پر جب بجلی کی شدید لوڈ شیڈینگ ہو رہی ہو تو غریب کی زندگی پنکھے کی گرم ہوا سے بھی محروم ہو جاتی ہے خاص طور پر اگر کسی گھر میں کوئی بیمار ہو یا بوڑھا ہو تو بہت مشکل ہوتی ہے اس لیے اس آرٹیکل میں ہم آپ کے لیے کُچھ ایسی سستی جوگاڑیں لائے ہیں جو آپ کے کمرے کا درجہ حرارت 25 ڈگری سے اوپر نہیں جانے دیں گی۔

دوپہر کے وقت جب سورج کی تیز دھوپ ہر چیز کو جلا رہی ہوتی ہے اُس وقت آپ کا گھر اگر ٹھنڈا ہو تو اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہے لیکن ہر آدمی گھر ٹھنڈا کرنے کے لیے اے سی افورڈ نہیں کرتا ایسے موقع پر گھر کے کمروں میں اے سی جیسی ٹھنڈک پیدا کرنے کے لیے گھر کی چھت کو سیدھی دھوپ پڑنے سے بچائیں اور اگر کمروں کی چھت پر سیدھی دھوپ پڑتی ہے تو چھت کی انسولیشن کروائیں جو کے 10 سے 15 روپئے فی فٹ کے حساب سے ہو جاتی ہے یا چھت کے نیچے ایسی تھرموپول لگوائیں جس کے اوپر سنہری پیپر لگا ہو تاکہ چھت کی گرمی کمرے میں داخل ہونے سے محفوظ رہے۔

کمرے کے روشن دان کھلے رکھیں تاکہ گرم ہوا کمرے سے خارج ہوتی رہے اور کھڑکیاں دوپہر کو بند رکھیں اور ان پر گہرے رنگ کے پردے لگائیں تاکہ روشنی کمرے میں داخل نہ ہو سکے۔ کمرے کے دروازے پر پرانے سٹائل کی بانس وغیرہ سے بنی چیک لگوائیں اور دوپہر کو اسے ٹھنڈے پانی سے گیلا کر دیں یہ آپ کے کمرے کو حیرت انگیز طور پر ٹھنڈا کر دے گی۔

کمرے میں اگر کارپٹ موجود ہے تو گرمی کے موسم میں اسے ہٹا دیں کیونکہ کارپٹ آپ کے کمرے کا درجہ حرارت فرش کی نسبت 5 سے 10 ڈگری زیادہ کر دیتا ہے۔ کمرے کے وسط میں برف کسی برتن میں ڈال کر پنکھے کے نیچے رکھ دیں اس سے بھی کمرے کا درجہ حرارت 5 سے 10 ڈگری کم ہو سکتا ہے۔

گرمی کے موسم میں آپ دوپہر کے وقت جس کمرے میں قیام کرتے ہیں وہاں بجلی سے چلنے والی چیزوں کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ بجلی سے چلنے والی اشیا سے ہیٹ خارج ہوتی ہے جو کمرے کو گرم کر دیتی ہے۔ آپکے کمرے میں اگر وینٹی لیشن کا اچھا انتظام ہے تو روم ائرکولر آپ کے کمرے کو اے سی جیسا ٹھنڈا کر سکتا ہے لیکن اگر کمرے وینٹی لیشن نہیں ہے تو روم ائرکولر کا استعمال فائدہ نہیں دے گا۔ کمرے میں اگر پیڈسٹل فین استعمال ہو رہا ہے تو پانی کی بوتلوں میں برف جما کر اسے پیڈسٹل فین کے پیچھے باندھ دیں یہ بھی آپ کے کمرے کو حیرت انگیز طور پر ٹھنڈا کرنے کا باعث بنے گی۔

گھر کے کمروں میں مٹی کے گملوں میں پودے لگایں خاص طور پر بوتل پام، ربڑ پلانٹ اور گراس فیملی والے پودے۔ پودے ہوا کو نہ صرف ٹھنڈا کرتے ہیں بلکہ یہ ہوا کی صفائی بھی کر دیتے ہیں اور مٹی کے گملے بہت جلد ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور کمرے کو درجہ حرارت کو کم کرنے کا باعث بنتے ہیں اور کمرے کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔

گرمی کے موسم میں باریک اور کاٹن کے کپڑے استعمال کریں اور ایسے کپڑے جس میں پولیسٹر شامل ہو نہ پہنیں۔ کاٹن نہ صرف پہننے میں ایک خوبصورت کپڑا ہے بلکہ یہ جسم کو ٹھنڈا رکھنے کا باعث بھی بنتا ہے اور اگر شدید گرمی پڑ رہی ہو تو ان کپڑوں پر ٹھنڈا پانی ڈال لیں یہ کافی دیر تک آپ کو گرمی لگنے سے بچائیں گے۔

جب باہرتیز دھوپ پڑ رہی ہو تو گرمی شدید ہو جاتی ہے ایسے موقع پر آپ کے جسم کا درجہ حرارت بھی بڑھتا ہے۔ جسم کو گرمی سب سے زیادہ سر اور پاؤں سے لگتی ہے اس لیے کمرے میں کسی برتن میں پانی بھر کر رکھیں اور وقتاً فوقتاً پاؤں کو پانی میں بھگو لیں اور سر پر بھی پانی ڈالیں تاکہ گرمی آپ کو متاثر نہ کر سکے۔

شدید گرمی میں جسم کو پانی کی قلت سے بچائیں اور لسی اور کچی لسی وغیرہ بنا کر قریب رکھیں اور اسے بھی تھوڑی تھوڑی دیر بعد پیتے رہیں تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہے۔ آخری اور سب سے ضروری بات یہ یاد رکھیں کہ غریب کا سہارا اللہ اور اُس کےرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سوا کوئی نہیں اس لیے شدید گرمی میں درود شریف کا ورد کرتے رہیں اور اللہ سے پناہ طلب کریں اور نماز پڑھیں بیشک اللہ اپنے بندے کے حالات سے غافل نہیں ہے اور کبھی بھی اُس پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

Feature Image Preview Credit: OSeveno, CC BY-SA 4.0, via Wikimedia Commons