بابا آپ کتنے پیسے کماتے ہیں بیٹے کا سوال

Posted by

ارسلان رات دیر سے گھر پہنچا تو اُس کے پانچ سالہ بیٹےسمیر نے دروازہ کھولا اور باپ کی ٹانگ کیساتھ لپٹ گیا، ارسلان نے کہا "چھوڑو سمیر آج میں بہت تھک گیا ہُوں تم بھی جا کر سوجاؤ”، لیکن سمیر نے باپ کی ٹانگ نہیں چھوڑی بلکہ بولا ” بابا مُجھے آپ سے ایک سوال پُوچھنا ہے؟”۔

ارسلان نے کہا ” اچھا پُوچھو کیا پُوچھنا ہے؟” ، سمیر بولا ” بابا آپ جہاں جاب کرتے ہیں وہاں آپ کو ایک گھنٹے کے کتنے پیسے ملتے ہیں؟”۔

ارسلان بیٹے کے سوال پر تھوڑا ناراض ہوکر بولا ” اس بات سے آپ کا کیا کام، میں نے آپ سے کہا ہے کہ آپ جاکر سو جاؤ”، باپ کی بات سُن کر سمیر بولا ” پلیز بابا میں جاننا چاہتا ہُوں کے آپ کو ایک گھنٹے کے کتنے پیسے ملتے ہیں؟”۔

ارسلان تھوڑا محبت سے بولا ” یار اگر تم جاننا ہی چاہتے ہو تومُجھے ایک گھنٹے کے 1 ہزار روپیے ملتے ہیں”، یہ سُن کر سمیر بولا ” بابا کیا مُجھے آپ 1 سو روپیے دے سکتے ہیں؟َ۔

بیٹے کے اس سوال پر ارسلان نے کہا ” اگر تُم نے اُس 100 روپیے سے گندی چاکلیٹس وغیرہ خرید کر کھانی ہیں تو ہرگز نہیں مل سکتے” یہ بات سُن کر سمیر نے باپ کی ٹانگ چھوڑی اور چُپ چاپ کمرے میں چلا گیا اور دُوسری طرف ارسلان سوچ میں پڑ گیا کہ سمیر بہت کم پیسے مانگتا ہے اور مُجھے انکار نہیں کرنا چاہیے تھا۔

یہ سوچ کر ارسلان سمیر کے پیچھے اُس کے کمرے میں گیا اور جیب سے 1 سو روپیے نکال کر سمیر کو دئیے جس پر سمیر کا چہرہ جگمگا اُٹھا اُس نے باپ سے پیسے پکڑے اور بیڈ کے نیچے سے ایک گتے کا ڈبہ نکالا، ارسلان نے دیکھا کہ اُس ڈبے میں پہلے سے کُچھ پیسے رکھے تھے یہ دیکھ کر ارسلان نے سمیر سے کہا ” تُمہارے پاس پہلے سے اگر پیسے جمع تھے تو مزید ایک سو روپیے کی کیا ضروت تھی تمہیں پہلے یہ خرچ کرتے اور پھر اور مانگتے”۔

سمیر نے ڈبے سے اپنے پیسے اٹھائے اور انہیں گن کر باپ کو دیا اور بولا ” بابا یہ پُورے ایک ہزار روپیے ہیں میں کل آپ کا ایک گھنٹہ خریدنا چاہتا ہوں آپ پلیز کل دفتر سے جلدی گھر آ جائیے گا پھر ہم دونوں گھر کے سامنے والے باغ میں پُورا ایک گھنٹہ کھیلیں گے”۔

اس کہانی کا پیغام اُن سب کے لیے سوچ کو دعوت دینا ہے جو زندگی میں بہت زیادہ مصروف ہیں اوراس مصروفیت کے بعد وہ اتنا تھک جاتے ہیں کہ اُن کے پاس بچوں کے ساتھ گُزارنے کے لیے کوئی وقت نہیں بچتا۔