بابا فرید الدین کا نام گنج شکر کیسے پڑا

Posted by

بابا فریدالدین گنج شکر 4 اپریل 1179 کو ملتان سے 10 کلومیٹر دُور ایک گاؤں کوٹھے وال میں پیدا ہُوئے، آپ صوفی آرڈر میں چشتیہ سلسلے کے بانی مانے جاتے ہیں، آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم ملتان سے حاصل کی اور زمانہ طالب علمی میں حضرت قطب الدین بختیار کاکی سے ملتان میں مُلاقات کی جو اُس وقت بغداد سے دہلی جارہے تھے اور ملتان رُکے تھے اس مُلاقات کے بعد بابا فرید الدین اپنی تعلیم کے اختتام پر "سستان” قندھار” سے ہوتے ہُوئے مکہ حج کے لیے چلے گئے اور پھر واپس آکر دہلی تشریف لے گئے جہاں اُنہوں اپنی تعلیم کا سلسلہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی کی شاگردی میں دوبارہ شروع کیا جنہوں نے بابا فرید الدین کو روحانی علوم سے مالا مال فرمایا۔

حضرت بختیار کاکی کی وفات 1235 میں ہوئی اور آپ کی وفات کے بعد بابا فرید "ہنسی ہریانہ” تشریف لے گئے اور پھر وہاں کُچھ عرصہ قیام کے بعد اجودھن "موجودہ پاک پتن” تشریف لے آئے اور پھر زندگی کے باقی دن وہیں گُزارے اور 1266 میں وہیں وفات پائی۔

گنج شکر کی وجہ تسمیہ

کہا جاتا ہے کہ بابا فرید الدین گنج شکر کو شکر کھانا بہت پسند تھا اس بارے میں ایک مشہور روایت ہے کے شکر کے بیوپاری اپنی شکر کو مویشیوں پر لاد کر بازار جارہے تھے، بابا جی نے اُنہیں روکا اور اُن سے شکر خریدنے کی فرمائش کی، بیوپاری شکر کا کاروبار بوریوں کی صُورت میں کرتے تھے اور بابا فرید سے نا آشنا تھے لہذا اُنہوں نے ٹال مٹول کے لیے بابا جی سےکہا کہ جناب آپ کو غلط فہمی ہُوئی ہے ان بوریوں میں شکر نہیں ہے بلکہ نمک ہے۔ بابا فرید الدین مُسکرائے اور فرمایا” اچھا تُم اگر نمک کہہ رہے ہو تو نمک ہی ہوگا”۔

بیوپاری شکر کی بوریاں لیکر بازار پہنچے اور جب وہاں بوریاں کھولی گئیں تو اُن میں شکر نہیں تھی اور سب بوریوں میں نمک بھرا تھا، بیوپاریوں کو فوراً احساس ہوگیا کہ جس ہستی نے اُن سے شکر خریدنی چاہی تھی وہ کوئی عام شخصیت نہیں تھی چنانچہ فوراً بابا جی کو ڈھوندتے ہُوئے واپس آئے اور بابا جی سے اپنے جھوٹ کی معافی مانگی اور درخواست کی کہ اُنہیں معاف کردیں، بابا فرالدین مُسکرائے اور بیوپاریوں کے حق میں دعا کی جس سے بوریوں کا نمک شکر بن گیا۔

ایک اور روایت کے مطابق بابا فرید کو میٹھا بہت بچپن سے ہی بہت پسند تھا چنانچہ آپ کی والدہ نماز سے پہلے آپ کے جائے نماز کے نیچے مصری کی ڈلیاں رکھ دیتی تھی جنہیں بابا فرید نماز کے بعد جائے نماز کے نیچے دیکھ کر بہت خُوش ہُوا کرتے تھے، ایک دن ماں ڈلیاں رکھنا بھول گئی مگر آپ نے نماز کے بعد جائے نماز اُٹھایا تو مصری موجود تھی کیونکہ حق کو گوارہ نہ تھا کہ اُس کا یہ بندہ ناکام ہو، آپ کی میٹھے سے اسی رغبت کی وجہ سے آپ کولوگوں نے گنج شکر کہہ کر مخاطب کرنا شروع کردیا اور پھر یہ نام آپ کے نام کیساتھ جُڑ گیا اور آپ کو بابا فریدالدین گنج شکر کے نام سے دُنیا یاد کرنے لگی۔

نوٹ: اوپر دی گئی دونوں رویات کو عقل تسلیم نہیں کرتی کیونکہ عقل کو تنقید سے فرصت نہیں ہے مگر اہل علم جانتے ہیں کہ نگاہے مرد مومن سے تو تقدیریں بھی بدل جاتی ہیں۔