بادشاہ کا جُوتا مرمت کرنے پر موچی کی اُجرت

Posted by

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک رحم دل بادشاہ اپنی رعایا کے ساتھ نیک سلوک کرتا تھا وہ امور سلطنت میں دل و انصاف کے تقاضے پُورے کرتا اور غریب پرور بادشاہ تھا، رعایا بادشاہ کے نظام میں امن و سکون کے ساتھ اپنا وقت گُزار رہی تھی اور بادشاہ کی لمبی عُمر کے لیے ہر وقت دعائیں کرتی تھی۔

بادشاہ کی عادت تھی کہ وہ عام آدمی کے بھیس میں لوگوں کے درمیان گُھل مل جاتا اور لوگوں کے مسائل سے واقفیت حاصل کر کے اُن مسائل کا فوری حل کرتا۔

ایک دن بادشاہ عام آدمی کے بھیس میں اپنے وزیر کیساتھ محل سے نکلا اور قریبی بستی میں لوگوں سے مُلاقات کے لیے چلا گیا، راستے میں بادشاہ کا پاؤں پھسلا جس سے بادشاہ کا جُوتا ٹُوٹ گیا، بادشاہ کا ٹُوٹا جُوتا دیکھ کر وزیر نے بادشاہ سے کہا حضور والا یہاں قریب ہی ایک موچی ہے آئیں اُس کے پاس تشریف لے چلیں وہ آپ کا جُوتا مرمت کر دے گا۔

دونوں قریبی موچی کی چھوٹی سی دُوکان پر پہنچے اور بادشاہ نے اپنا جُوتا موچی کو مرمت کرنے کے لیے دیا، موچی بولا آپ فکر نہ کریں میں ابھی اسے گانٹھ دیتا ہُوں۔

موچھی نے سُوئی میں دھاگا ڈالا اور فوراً ہی جُوتا مرمت کردیا، جُوتا جُڑ گیا تو بادشاہ نے موچی سے پُوچھا آپ اس مرمت کا کتنا معاوضہ لیں گے، موچی بولا ” جناب میں اتنے سے کام کے آپ سے کوئی پیسے نہیں لوں گا اتنا سا کام تو میں ویسے ہی کر دیتا ہُوں اور آپ لوگ تو پردیسی لگ رہے ہو اس لیے آپ سے پیسے نہیں لیے جا سکتے۔

بادشاہ نے موچی سے کہا ” اس کام کے پیسے تو میں تمہیں ضرور دُوں گا اس لیے اپنی جائز اُجرت بتاؤ”، موچی بادشاہ کی بات سُن کر سوچ میں پڑھ گیا کہ اُس کا اس کام پر تو صرف دھاگا صرف ہُوا ہے اور بس تو اتنے سے دھاگے کے وہ کتنے پیسے طلب کرے، پہلے اُس نے سوچا ایک سکہ مانگ لیتا ہُوں مگر پھر خاموش رہا اور کُچھ سوچ کر بولا ” آپ کو جو پیسے مناسب لگتے ہوں وہ اُجرت دے دیں میں رکھ لُوں گا”۔

بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا اسے اس کے کام کی اُجرت میں 2 گاؤں دے دو، تب موچی کو پتہ چلا جس کا جُوتا اُس نے مرمت کیا ہے وہ تو سلطنت کا بادشاہ ہے، موچی بادشاہ کا انتہائی مشکور ہُوا اور دل ہی دل میں اپنی دانائی پر خُوش بھی ہُوا کہ اگر ایک سکہ مُنہ سے اُجرت مانگ لیتا تو کبھی اُسے اتنا بڑا انعام نہ ملتا۔

کہانی کا سبق

انسان جب بھی سوچتا ہے تو وہ اپنے علم اور اپنے قد کے اندر سوچتا ہے اور اُسے معلوم نہیں ہوتا کہ رب کائنات جب کسی کو عطا کرتا ہے تو اپنے منصب کے مُطابق عطا کرتا ہے اسی لیے بزرگ کہتے ہیں کہ نیکی کا کوئی عمل اس لیے نہ کرو کہ تُم اس عمل کے بدلے کوئی پھل حاصل کرو کیونکہ پھل دینا مالک کی مرضی ہے اور وہ جیسے چاہے بے حد و حساب دے دیتا ہے۔

نوٹ: یہ کہانی بچوں کو سونے سے پہلے سُنائیں اس سے اُن کے اچھے کردار کی تشکیل ہوگی