بازار میں بکنے والے مختلف کوکینگ آئلز میں سے کونسا تیل صحت کے لیے زیادہ مُفید ہے

Posted by

ہمارا کھانا پکانے کا طریقہ ہماری صحت پر اچھے یا بُرے اثرات پیدا کر سکتا ہے، ایسا کھانا جو حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرتے ہُوئے پکایا جائے ہماری صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے اور کھانے کی غذائی صلاحیت کو ضائع نہیں ہونے دیتا اور اگر ان اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو صحت کے لیے بہترین کھانا بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

تیل اور گھی ہمارے ہاں پکائے جانے والے کھانوں کے بنیادی اجزا ہیں جن میں کھانے کو تلا جاتا ہے، فرائی کیا جاتا ہے، بیک کیا جاتا ہے اور روسٹ کیا جاتا ہے اور بازار میں بکنے والے بیشمار کوکنگ آئل اور گھی وغیرہ میں سے کونسا ہماری صحت کے لیے مفید ہے اس کی پہچان کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم مختلف کوکنگ آئلز اور گھی وغیرہ کا تعارف پیش کریں گے اور اُن کی خوبیوں اور خامیوں کا تقابلی جائزہ پیش کریں گے جنہیں پڑھ کر آپ جان پائیں گے کہ کونسی چکنائی آپکے کھانے کے لیے بہتر ہے۔

نوٹ: کسی بھی کوکنگ آئل اور گھی کو کھانا پکانے کے لیے منتخب کرنے سے پہلے جو چیز سب سے اہم ہے وہ ہے اُس کا Smoke Point یعنی وہ آگ پر کتنےدرجہ حرارت کو برداشت کر سکتا ہے کیونکہ جب تیل سے دُھواں نکلنا شروع ہوتا ہے تو اس میں موجود چکنائی صحت کے لیے نقصان دہ بن جاتی ہے۔

بازار میں بکنے والے کوکنگ آئل مختلف سبزیوں ،پودوں اور اُن کے بیجوں سے حاصل کیے جاتے ہیں اور بازار میں ان کی کئی قسمیں موجود ہیں جن میں سن فلاور آئل، سویا بین آئل، کینولا آئل، کارن آئل، پی نٹ آئل، سیسمی آئل (تلوں کا تیل) وغیرہ شامل ہیں۔

سن فلاور آئل

C:\Users\Zubair\Downloads\oil-2759779_1920.jpg

سن فلاور آئل کھانا پکانے کے لیے ایک اچھا تیل ہے اور دُوسرے کسی بھی آئل کے مقابلے میں اس آئل میں وٹامن ای کی ایک بڑی مقدار موجود ہے اور اس تیل میں 80 فیصد سے زیادہ مونوسیچوریٹیڈ فیٹ ( صحت کے لیے مفید چکنائی) موجود ہوتی ہے اور یہ تیل ہماری جلد، بالوں، قوت مدافعت، ہاضمے اور دل کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔

سن فلاور آئل 220 ڈگری تک کا درجہ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےاس لیے آپ اس سے کُچھ بھی پکا سکتے ہیں یعنی تلنا، فرائی کرنا، بیک کرنا یا روسٹ کرنے کے لیے یہ تیل استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن چیز یاد رکھیں تیز آگ پر جب درجہ حرارت 220 سے اوپر جائے گا تو یہ تیل دُھواں دینا شروع کرے گا اور ایسے موقع پر یہ کھانے کے لیے مفید نہیں رہے گا۔

سویا بین آئل

File:Soybean Oil, Meal and Beans (10059732523).jpg
United Soybean Board / CC BY

سویابین پودے کے بیجوں سے حاصل ہونے والا یہ تیل دُنیا بھر میں مقبول ہے اور شیف حضرات اسے عام طور پر کھانا تلنے اور فرائی کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ آگ پر 230 ڈگری تک کا درجہ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سویا بین آئل میں موجود چکنائی دل کے لیے مفید مانی جاتی ہے اور اس تیل میں وٹامن کے کی بڑی مقدار میں موجودگی ہماری ہڈیوں کے لیے انتہائی مُفید ہے، اس تیل میں اومیگا تھری کی بھی ایک بڑی مقدار موجود ہے اور یہ فیٹی ایسڈ ہماری صحت پر کئی اچھے اثرات مرتب کرتا ہے خاص طور پر ہماری جلد کو تروتازہ بناتا ہے اور ہمارے بالوں کو مضبوط بنانے کیساتھ ساتھ ہمارے دل کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔

کینولا آئل

C:\Users\Zubair\Downloads\canola-837818_1920.jpg

کینولاآئل میں اومیگا تھری اور 6 فیٹی ایسڈ کی موجودگی اور صرف 7 فیصد سیچوریٹیڈ فیٹ کولیسٹرول کو کنٹرول رکھنے کے لیے معاؤن ثابت ہو سکتی ہے، اس تیل میں وٹامن ای اور وٹامن کے ہماری صحت پر انتہائی اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں خاص طور پر یہ ہماری ہڈیوں، بالوں، جلد اور قوت مدافعت کو مضبوط بناتے ہیں۔

اس تیل کا سموک پوائینٹ 204 ڈگری ہے یعنی یہ بہت تیز آگ برداشت نہیں کرسکتا اس لیے ایسے کھانے جو 204 ڈگری سے اوپر درجہ حرارت پر پکائے جاتے ہیں اُن کے لیے یہ تیل مناسب نہیں ہے اور اگر آپ گھر میں اس تیل کو کھانا پکانے کے استعمال کرتے ہیں تو درمیانی آنچ سے زیادہ پر اسے نہ پکائیں اور کوشش کریں کہ فرائی کرنے والے کھانے تیز آنچ پر اس تیل میں فرائی نہ کریں۔

کارن آئل

C:\Users\Zubair\Downloads\corn-1605664_1280.jpg

ڈیپ فرائی کرنے کے لیے یہ تیل شیف حضرات کا پسندیدہ تیل ہے کیونکہ یہ 232 ڈگری تک کا درجہ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ تیل کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ انڈسٹری اور کاسمیٹیکس میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

اس تیل کو نکالنے کے دوان کارن کی بہت سی غذائی صلاحیت ضائع ہوجاتی ہے مگر پھر بھی اس میں وٹامن ای، لینولیک ایسڈ، فائٹوسٹیرول وغیرہ کی مقدار باقی رہتی ہے جو کہ ہمارے دل اور جلد وغیرہ کے لیے مُفید مانے جاتے ہیں۔

پی نٹ آئل

یہ تیل پاکستان میں عام طور پر استعمال نہیں ہوتا لیکن ویسٹرن شیف اسے بھی ڈیپ فرائی کرنے کے لیے ترجیع دیتے ہیں کیونکہ اس کا سموک پوائینٹ بھی کارن آئل کی طرح ہائی ہے اور یہ بھی 232 ڈگری کا درجہ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پی نٹ آئل ذیابطیس کے مریضوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ خون میں انسولین لیول کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسکے ساتھ ساتھ اسے دل کے لیے بھی مفید مانا جاتا ہے۔

Sesame oil (تلوں کا تیل)

C:\Users\Zubair\Downloads\pxfuel.com.jpg

تلوں کا تیل زیتون کے تیل کے بعد صحت کے لیے سب سے زیادہ مفید تیل مانا جاتا ہے کیونکہ اس تیل میں موجود اینٹی آکسائیڈینٹ، اینٹی اینفلامیٹری خوبیاں ہماری صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں، یہ تیل دل کے لیے بھی مُفید ہے اور ذیابطیس کے مریضوں کے لیے بھی مفید ہے کیونکہ یہ بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جوڑوں کی درد میں تلوں کا تیل استعمال کرنا انتہائی مُفید ثابت ہوسکتا ہے، اس تیل میں زخموں کو جلد بھرنے کی صلاحیت بھی موجود ہےاور یہ تیل جلد کو متاثر کرنے والی سورج کی UV لہروں سے جلد کو متاثر ہونے سے بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ تیل نیند کو بہتر بنانے میں بھی معاؤن ثابت ہوتا ہے اور بالوں کی صحت کے لیے بھی مفید مانا جاتا ہے۔

نان ریفائینڈ تلوں کے تیل کا سموک پوائینٹ 177 ڈگری ہے یعنی یہ تیز آنچ پر جلدی دھواں دینا شروع کر دیتا ہے جبکہ سیمی ریفائینڈ تیل کا سموک پوائینٹ 232 ڈگری ہے مگر سیمی ریفائینڈ پروسیز میں اس تیل کی بہت سی غذائی صلاحیت ضائع ہوجاتی ہے۔

زیتون کا تیل

C:\Users\Zubair\Downloads\olive-oil-1596639_1280.jpg

کھانے میں سب سے مفید زیتون کا تیل مانا جاتا ہے جو ہماری صحت پر انتہائی اچھے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا کیونکہ یہ دل، بلڈ پریشر، ذیابطیس اور کئی دائمی بیماریوں میں ہمارے جسم کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

زیتون کے تیل میں ایکسٹرا ورجن کا سموک پوائینٹ 190 ڈگری ہے یعنی تیز آنچ پر پکنے والے کھانوں میں اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے اور ریفائینڈ آئل کا سموک پوائینٹ 199 سے 243 ڈگری ہے جسے تیز آنچ پر استعمال کیا جاسکتا ہے مگر نان ریفائینڈ کے مقابلے میں یہ تیل اپنی بہت سی غذائی صلاحیت ضائع کردیتا ہے۔

سرسوں کا تیل

File:Mustard Oil & Seeds - Kolkata 2003-10-31 00537.JPG
Biswarup Ganguly / CC BY

برصغیر پاک و ہند میں یہ تیل کھانا پکانے کے لیے صدیوں سے استعمال ہو رہا ہے مگر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن FDA امریکہ نے اس تیل کو اپنے ملک میں کھانا پکانے کے ممنوع قرار دیا ہُوا ہے اور اُس کی وجہ اس تیل میں شامل Erucic Acidکی موجودگی ہے جو دل کی بیماریوں کا باعث ہونے کے ساتھ پھپھڑوں کے کینسر اور اینیما جیسی بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔

بناسپتی گھی

کھانا پکانے کے لیے سب سے بُری چکنائی بناسپتی گھی ہے جو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اس لیے ہمارہ مشورہ ہے کہ اگر آپ اسے استعمال کرتے ہیں تو فوراً اس کا استعمال ترک کر دیں۔

نوٹ: کسی بھی چکنائی کی زیادتی صحت کے لیے مُفید نہیں ہے چاہے وہ زیتون ہی ہو اور کھانا پکانے کے دوران تیل اور گھی کا استعمال بھی کھانے کی بہت سی غذائی صلاحیت کو ضائع کر دیتا ہے اس لیے ان چکنائیوں کا استعمال کھانے میں کم سے کم کریں اور یاد رکھیں کہ ہر سبزی اور گوشت کے اندر اپنی چکنائی موجود ہوتی ہے جو صحت کے لیے کافی ہوتی ہے اس لیے کوشش کریں کے تلے ہُوئی فرائی کھانے کم سے کم کھائیں اور اپنی زبان کو پانی میں فرائی ہونے والے کھانوں کے ذائقے کا عادی بنائیں۔

Featured Image Preview Credit: Netojinn / CC BY-SA, The Image Has been Cropped.