بند شریانوں کی 07 ایسی علامات جو ہم اکثر نظر انداز کرتے ہیں

Posted by

دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں لوگ امراض قلب کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔انسانی جسم میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جانے کی وجہ سے شریانیں بند ہو جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے دل کے دورے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ امریکا کے “Center of disease control and prevention”کی ایک تحقیق کے مطابق ہر 40 سیکنڈ کے بعددنیا میں ایک شخص کو دل کا دورہ پڑتا ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ شریانوں کا بند ہو جانا ہے۔

لوگ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ بندشریانوں کا مرض صرف بوڑھے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔لیکن یہ مرض آجکل نوجوانوں میں بھی عام پایا جاتا ہے۔ مرض سے ناواقفیت کی وجہ سے کئی نوجوان اپنی قیمتی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس لیئے شریانوں کے بند ہونے کی علامات کا جاننا بہت ضروری ہے تاکہ ہم بروقت ڈاکٹر سے رجوع کر سکیں اور اس جان لیوا مرض کا تدارک کیا جا سکے۔

اپنے اس آرٹیکل کے ذریعے ہم اپنے قارئین کو 07 ایسی علامات کے بارے میں بتائیں گے جو خون کی شریانوں کے بند ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

پنڈلیوں ، رانوں اور کولہوں میں درد

چلنے کے دوران ٹانگوں ، پٹھوں اور پیر یا بازو میں درد بند شریانوں کی علامات ہو سکتی ہیں۔ جو یہ ظاہرکرتی ہیں کہ جسمانی اعضاء کو خون کا مناسب بہا ؤ نہیں مل رہا۔ درد کا مقام بند ہوجانے والی شریان پر منحصر ہوتا ہے۔

سینے میں درد

سینے میں دریا انجائنا دل کو خون کی کمی ہو جانے کا نتیجہ ہے۔ انجائنا کی علامات میں سینے میں جلن ، درد ، گھٹن اور دباؤ شامل ہیں۔ انجائنا کی علامات آرام کرتے وقت ظاہر نہیں ہوتیں لیکن جب مشقت سے بھرپور کام کیا جائے تو یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

آنکھوں کی بینائی میں عارضی کمی

کروٹائڈ آرٹری(وہ شریان جو گردن اور دماغ تک خون پہنچاتی ہے) اگر بند ہو جائے تو آنکھوں کی بینائی عارضی طور پر کم ہو جاتی ہے۔ یا آنکھ میں دھندلا پن پیدا ہو جاتا یے۔ اگر یہ شریان مکمل طور بند ہو جائے تو فالج ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کمر میں درد

کمر درد پریشان اور سنگین علامت ہے۔ اسے ہر گز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ جب بند شریانوں کی وجہ سے جسم کے نچلے حصے تک خون کم پہنچتا ہے تو کمر کے درد کی شکائیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں 10 فیصد لوگ 20 سال کی عمر میں ہی پیٹ تک پہنچنے والی شریانوں کے بند ہونے کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

سانس کی قلت

اگر دل کو آکسیجن پہنچانے والی شریانیں بند ہو جائین تو سانس کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ سانس اکھڑنے لگتا ہے۔ انسان تیز تیز سانس لیتا ہے۔ کیونکہ دل کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیئے صحیح مقدار میں آکسیجن نہیں مل پاتی۔ ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگ سانس کی قلت کو سنگین مسئلہ نہیں سمجھتے۔ لیکن بعض اوقات سانس کی قلت دل کے دورے کی طرف لے جاتی ہے۔

پیروں اور ہاتھوں کا ٹھنڈا ہو جانا

پیریفیرل آرٹیریل(وہ شریانیں جو ٹانگوں اور باذوں تک خون پہنچاتی ہیں) میں بندش پیدا ہو جانے کی وجہ سے ہاتھ یا پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ پیروں کی کمزور نبض بھی بعض اوقات پیروں کو ٹھنڈا کرتی ہے۔ اگر آپ کےہاتھ پاؤں مسلسل ٹھنڈے رہتے ہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں ،کیونکہ پیریفیرل آرٹری کی بندش دل کے دورے اور فالج کا باعث بن سکتی ہے۔

تھکاوٹ اور چکر آنا

ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کی ایک تحقیق کے مطابق یہ علامات زیادہ تر خواتین میں پائی جاتی ہیں۔ جسم میں خون کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے آپ تھکاوٹ اور چکر آنا جیسے مسائل کا سامنا کر سکتے ہیں۔

اگر آپ اوپر دی گئی علامات میں سے کوئی ایک بھی محسوس کرتے ہیں تو بہتر ہے کہ اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں تاکہ وقت پر بیماری کا علاج ہو سکے اور بڑی پریشانی سے بچا جا سکے۔

Featured Image Preview Credit: BruceBlaus, CC BY 3.0, via Wikimedia Commons, The Image has been edited and BruceBlaus. When using this image in external sources it can be cited as:Blausen.com staff (2014). "Medical gallery of Blausen Medical 2014”. WikiJournal of Medicine 1 (2). DOI:10.15347/wjm/2014.010. ISSN 2002-4436., CC BY 3.0, via Wikimedia Commons.