بچوں کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے اُنہیں انکے یہ من پسند کھانے کھلائیں

Posted by

بدلتے موسم میں فلو کے انفیکشن کے ساتھ ساتھ زکام اور کھانسی کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اور اس موسم میں بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھنا اور زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ اس موسم میں اگر بچے لاپرواہ ہوں تو بچے بیمار ہو سکتے ہیں، وائرل بیماری سے بچنے کے لیے ڈاکٹر ہمیشہ وائرس کے انفیکشن سے بچنے کے لیے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کی تجویز دیتے ہیں۔ خاص طور پر کورونا وائرس کی وبا کے دوران بچوں کی صحت پر منفی اثر نہیں پڑنا چاہیے اس کے لیے بچوں کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے خوراک میں یہ چیزیں اُنہیں کھانے کے لیے ضرور دیں تاکہ اُن کی قوت مدافعت کمزور نہ پڑے۔

بچے عام طور پر چاکلیٹ اور کینڈیز کھانے کے دیوانے ہوتے ہیں اس لیے ان کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے کے لیے انہیں Gummy Bear کینڈیز کھلائیں (یہ کینڈیز کئی فلیورز میں دستیاب ہیں اور کسی بھی اچھے سٹور سے عام مل جاتی ہیں) کیونکہ ان کینڈیز میں گلوکوز سیرپ، سٹارچ، سٹرک ایسڈ اور جیلاٹین جیسے اجزا پائے جاتے ہیں اور یہ اجزا بچوں کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے میں مدد کرتے ہیں اس لیے ان کنڈیز کی مناسب مقدار روزانہ ناشتے کے بعد یا دوپہر کے اوقات میں بچوں کو کھلائیں اور رات کو سونے سے پہلے انہیں میٹھا کھانے کو مت دیں۔

آپ کو بازار میں بچوں کے ایمیون سسٹم کو مضبوط بنانے والی اور کئی چاکلیٹ اور کینڈیز بھی مل جائیں گی جن میں وٹامن سی بڑی مقدار میں شامل کیا جاتا ہے اور بچے انہیں بہت زیادہ شوق سے کھاتے ہیں لیکن ان کینڈیز کی زیادہ مقدار صحت کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے آپ کے لیے بہتر ہے کہ بچوں کے لیے ان کینڈیز کی مناسب مقدار جاننے کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کریں کیونکہ ڈاکٹر بچے کے وزن کے حساب سے اُس کے لیے ان کی مقدار تجویز کرے گا۔

بچوں کی ایک اور محبوب غذا بسکٹ ہیں جنہیں کھانے میں وہ بہت زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اور یہ بسکٹ گھر میں بھی آسانی سے بنائے جا سکتے ہیں اور اگر آپ کے پاس بسکٹ بیک کرنے کے لیے اوؤن نہیں ہے تب بھی یوٹیوب وغیرہ پر ایسی بہت سی بسکٹ بنانے کی تراکیب موجود ہیں جن میں اوؤن کے بغیر بسکٹ بیک ہوتے ہیں، بس ایک چیز کا خیال رکھیں کے بسکٹ کے اجزا میں ایسی چیزیں شامل کریں جو قوت مدافعت کے لیے بہترین ہوں ،جیسے خُشک میوہ جات خاص طور پر کاجو، اخروٹ، بادام، گُڑ، دارچینی، ہلدی، کالی مرچ شہد اور ریفائن نہ کیا گیا اناج اور تازہ مکھن وغیرہ۔

مختلف پھلوں کے تازہ جُوسز وغیرہ وٹامن سی سے بھرپُور ہوتے ہیں اور ڈاکٹر حضرات کا کہنا ہے کہ وٹامن سی ایک ایسا وٹامن ہے جو قوت مدافعت کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے، اس لیے تازہ پھلوں کے جُوس جن میں سیب، مالٹا، مسمی، گاجر، کیوی اور بچوں کے دیگر من پسند پھلوں کے جُوسز انہیں ناشتے کے بعد اور دوپہر کے کھانے سے پہلے پینے کے لیے دیں تاکہ اُن کا جسم جُوسز میں شامل غذائی اجزا کو بہترین طریقے سے جذب کر سکے اور اُن کی قوت مدافعت کو طاقتور بنائے۔

نوٹ: بچے کھیل کے دوران اپنے ہاتھ وغیرہ گندے کر لیتے ہیں اس لیے اُنہیں ہاتھوں کو دھونے کی لازمی تقلین کریں کیونکہ یہ گندے ہاتھ جراثیموں کا گڑ ہوتے ہیں، اور جب وہ انہیں بے دھیانی میں یا جانتے بوجھتے منہ میں ڈالتے ہیں تو یہ جراثیم اُن کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں۔ اور ایسے میں اگر اُن کا ایمیون سسٹم مضبوط ہو تو وہ ان جراثیموں کو قابو کر لیتا ہے اور ان سے انفیکشن پیدا نہیں ہونے دیتا۔ لیکن اگر بچے میں کوئی انفیکشن پیدا ہوجائے تو ڈاکٹر سے اُس کا معائنہ کروائیں تاکہ بیماری کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔