بھوک نہ لگنے کی اہم وجوہات اور بھوک بڑھانے کے آسان گھریلو ٹوٹکے

Posted by

بھوک نہ لگنا یا کم لگنا ایک ایسی بیماری ہے جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اور اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو اس بیماری سے اور کئی بیماریاں پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ کھانا نہ کھانے سے جسم کو توانائی نہیں ملتی جس سے جسم کے اعضا کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

اس آرٹیکل میں ہم بھوک نہ لگنے کی چند اہم وجوہات کا ذکر کریں گے اور بھوک کو بڑھانے کے چند مُفید گھریلو ٹوٹکوں کو شامل کریں گے تاکہ آپ کو اگر بھوک کی کمی کی شکایت ہے تو ان ٹوٹکوں کو استعمال کرکے اپنی بھوک بڑھا سکیں۔

بھوک نہ لگنے کی وجوہات

G:\Pics Sharing\635px-Symptoms-lost-appetite.jpg

بھوک کا نہ لگنا یا کھانے کو جی نہ چاہنا ایک بیماری ہے جس میں کھانے کے بارے میں سوچنے سے بھی جی متلانے لگتا ہے اور اگر یہ بیماری زیادہ لمبے عرصے تک کنٹرول نہ کی جائے تو جسم بھوک کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کی میڈیکل یا نفسیاتی کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے اور اگر آپ بھوک نہ لگنے کے ساتھ ساتھ بلا وجہ تھکاؤٹ کا شکار بھی ہیں تو یہ وارننگ سائن ہے جس پر توجہ دینی ضروری ہے۔

بھوک نہ لگنے کیساتھ تھکاؤٹ محسوس ہونا

C:\Users\Zubair\Downloads\exhausted-female-student-sleeping-at-table-in-library-3808119.jpg

تھکاؤٹ اور بھوک نہ لگنا صحت میں کئی خرابیوں کی نشانی ہوسکتی ہے جس میں عام طور پر نزلہ زکام اور بخار جسی علامات شامل ہیں، ذہنی تناؤ پریشانی بھی ایسی علامات ہیں جو بھوک کو ختم کرنے کیساتھ ساتھ جسم میں تھکاؤٹ پیدا کرتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ نظام انہظام میں خرابی بھی بھوک کو ختم کرنے کا باعث بنتی ہے۔

کئی اور ایسی سنجیدہ بیماریاں جیسے کینسر وغیرہ بھی بھوک کو ختم کرکے جسم میں تھکاؤٹ پیدا کرتا ہے اس لیے طبیب حضرات کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں بھوک نہ لگنے اور تھکاؤٹ محسوس کرنے کی اس نشانی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے تاکہ جلد از جلد مرض کی تشخیص ہو سکے اور اس کا وقت پر علاج ہوسکے۔

بھوک کو بڑھانے کے چند مُفید گھریلو نُسخے

C:\Users\Zubair\Downloads\hunger-4291381_1920.png

طب ایوردیک اور طب یونان میں بھوک بڑھانے کے لیے طبیب حضرات اکثر لیموں اور ادرک کی چٹنی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں اور کوئی شک نہیں کہ یہ چٹنی جہاں معدے کی صفائی کرتی ہے وہاں بھوک کی خواہش کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے اور اگر اس چٹنی میں دھنیہ بھی شامل کر لیا جائے تو یہ اور زیادہ مُفید ثابت ہوتی ہے۔

بھوک نہ لگنا اور کھٹی ڈکاریں آنا جیسی علامات اگر محسوس ہو رہی ہوں تو ایسے میں لیمو کی شکنجبین کا استعمال انتہائی مُفید ثابت ہوتا ہے، ایک گلاس پانی میں ایک لیموں نچوڑ کر اس میں تھوڑی شکر یا چینی شامل کریں اور روزانہ استعمال کریں۔

ایک چمچ ادرک کا رس، ایک لیموں اور ساندھا نمک (قدرتی راک سالٹ) کو پانی میں مکس کر کے پینے سے بھی پیٹ کی کئی بیماریاں ختم ہوتی ہیں اور بھوک کُھل کر لگنے لگتی ہے۔

منکا، نمک اور کالی مرچ کو مکس کرکے ہلکا سا گرم کریں اور پھر اس کو کھا لیں اس سے بھی آپ کی بھوک چمک اُٹھے گی اور اگر بھوک پُرانے بخار کی وجہ سے ختم ہوئی ہے تو اُس میں بھی آرام آئے گا۔

اگر آپ بھوک نہ لگنے کی بیماری کا شکار ہیں تو صبح کے وقت سُرخ ٹماٹر کاٹ کر اُس پر کالی مرچ چھڑک کر کھائیں اس سے بھی آپ کی بھوک میں اضافہ ہوگا۔

پیٹ بھر کر کھانا کھانے سے بھی بھوک کم ہو جاتی ہے اور ایسے کھانے جو تیل وغیرہ میں فرائی ہو اور فاسٹ فوڈ بھی بھوک کو ختم کرنے کا باعث بنتا ہے اس لیے جب بھی کھانا کھائیں بھوک رکھ کر کھائیں اور پیٹ بھر کر مت کھائیں اور بازاری کھانے جیسے فاسٹ فوڈ وغیرہ سے اجتناب کریں۔

تھوڑا میتھی دانہ لیکر اسے پانی میں شامل کریں اور گرم کر کے قہوہ بنا کر پی لیں اس سے بھی بھوک پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے یا پانچ گرام میتھی دانہ لیکر اسے گھی میں تھوڑا فرائی کر لیں اور سُرخ ہونے پر گھی سے نکال کر ٹھنڈا کر لیں اور پیس کر پانچ گرام شہد میں ملا کر کُچھ روز متواتر استعمال کریں یہ آپ کی بھوک کو بڑھانے کا باعث بنے گا۔

سبز دھنیے کی چٹنی بھی بھوک کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ معدے اور جسم کے بڑھے ہوئے درجہ حرارت کو ٹھنڈا کرتی ہے اس لیے اس چٹنی کو بھی اپنی خوراک میں شامل کریں یہ آپ کی بھوک کو بڑھانے کا باعث بنے گی۔

گرمی کے موسم میں شدید گرمی کی وجہ سے بھی بھوک کم لگنے لگتی ہے اس لیے کھانا کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے تھوڑا ٹھنڈا پانی پی لیں یہ بھی آپ کی بھوک کو بڑھانے کا باعث بنے گا۔

نوٹ: اگر آپ کو بھوک نہ لگنے کی شکایت ہے تو چائے اور کافی سے اجتناب کریں کیونکہ یہ ڈرنکس معدے میں تیزابیت پیدا کرتے ہیں اور بھوک کو ختم کر دیتے ہیں اور اگر آپ کی بھوک کی علامات برقرار رہتی ہیں تو اپنے معالج سے ضرور رابطہ کریں اور مکمل چیک اپ کروائیں تاکہ اگر کوئی پیچیدہ بیماری ہے تو اس کا وقت پر علاج ہو سکے۔