بینگن کے پتے کئی دائمی بیماریوں کا علاج ہیں اس طریقے سے استعمال کریں

Posted by

بینگن کو قُدرت نے تاج پہنایا ہے اور دُنیا کے کئی ممالک میں اسے سبزیوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے خاص طور پر ایران میں بینگن بیحد پسند کیا جاتا ہے اور اسے بہت سی دُوسری سبزیوں اور گوشت وغیرہ کے ساتھ پکا کر کھایا جاتا ہے اور ہمارے ملک پاکستان میں بھی اسے بہت سے طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے جس میں آلو بینگن اور بینگن کا بھرتا وغیرہ بیحد لذیز کھانے ہیں۔

آپ نے بھی اکثر اس مزیدار سبزی کو کھایا ہوگا لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ قدرت نے اس کے پتوں کے اندر بھی بیشمار ایسے غذائی اجزا رکھے ہیں جن میں ادویاتی خوبیاں شامل ہیں اور بہت سی دائمی بیماریوں کو قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں بینگن کے پتوں کے اُن فوائد کو شامل کیا جا رہا ہے جو مختلف بیماریوں کی صُورت میں ہمارے لیے بہت فائدہ مند ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی ذکر کیا جائے گا کہ انہیں کیسے استعمال کرنا چاہیے۔

بینگن کے پتوں کے فوائد

نمبر 1 گُردوں کی صفائی کر دیتے ہیں: طب ایوردیک میں بینگن کے پتوں کا استعمال صدیوں سے کیا جا رہا ہے اور ان پتوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ گُردوں کی صفائی کر دیتے ہیں اور جسم سے فاسد مادوں کے اخراج کو بہتر بناتے ہیں۔ بینگن کے 5 سے 6 پتے لیکر اسے پانی میں ڈال کر پانی کو اچھی طرح اُبال لیں اور پھر چھان کر اس قہوے کو دن میں 3 بار استعمال کریں یہ گُردوں کی تقویت کا باعث بنیں گے اور گُردوں کے کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھا کر اُن کی صفائی کر دیں گے۔

نمبر 2 سوزش کے لیے: جسم کو لاحق ہونے والی دائمی بیماریاں اکثر جسم کے اندرونی اعضا میں سوزش کے باعث لاحق ہوتی ہیں جیسے شوگر، جوڑوں کا درد، گھٹیا وغیرہ اور بینگن کے پتوں میں ایسی اینٹی انفلامیٹری خوبیاں قدرت نے رکھی ہیں جو اعضا کی سوزش کو کم کرنے کا باعث بنتی ہیں، بینگن کے پتوں میں ایسے فائٹوکیمکلز پائے جاتے ہیں جو سوزش کا قُدرتی علاج ہیں اور اگر آپ اس سبزی کے پتوں کو سوزش کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ان کا قہوہ بنا کر دن میں دو سے تین دفعہ استعمال کریں۔

نمبر 3 خون کی کمی: بینگن کے پتوں میں آئرن کی ایک بڑی مقدار شامل ہے جو اسے انیمیا کے مرض میں انتہائی مفید بنا دیتی ہے اور اگر آپ اس کے پتوں کو چبا کر کھائیں گے تو یہ جسم میں خون کی کمی کو دُور کر کے چہرے پر لالی کی بحال کرے گا۔

نمبر 4 شوگر کا علاج: بینگن کے پتوں میں قدرت نے میگنیشیم اور فائبر جیسے غذائی اجزا کو رکھا ہے اور یہ غذائی اجزا شوگر کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں خاص طور پر فائبر نظام انظام کو فعال رکھتی ہے اور کھانے کے بعد خوراک سے شوگر کو خون میں تیزی سے شامل ہونے سے روکتی ہے اس لیے آپ کھانے کے بعد بنیگن کے پتوں کا قہوہ استعمال کریں یہ آپ کے خون میں بڑھی ہُوئی شوگر کو نارمل کرنے میں ادویات جیسی مدد کرے گا۔

نمبر 5 کولیسٹرال: یہ بیماری خوراک میں بے راہ روی اور طرز زندگی میں سہولت پسند افراد کو اپنا نشانہ بناتی ہے اور بہت سی دُوسری دائمی بیماریوں کا باعث بنتی ہے جن میں دل، شوگر، بلڈ پریشر وغیرہ شامل ہیں اور بینگن کے پتوں میں قدرت نہ یہ خوبی رکھ چھوڑی ہے کہ وہ جسم سے بُرے کولیسٹرال کا خاتمہ کرتے ہیں اور اگر آپ ان پتوں کو اُبال کر ان کا قہوہ روزانہ 2 سے 3 بار استعمال کرنا شروع کر دیں تو یہ ایل ڈی ایل کولیسٹرال کو بڑھنے سے روکنے میں آپ کی مدد کریں گے۔