تاریخ کی سب سے کم سن گواہی جو چار مہینے کے بچے نے دی

Posted by

دُنیا قصے اور کہانیوں سے بھری پڑی ہے لیکن اس میں ایک قصہ ایسا ہے جس جیسا اور کوئی نہیں اور یہ قصہ اللہ تعالی خُود سُناتا ہے اور فرماتا ہے ۔
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ
ترجمہ ( ہم سُناتے ہیں تُم کو سب سے بہترین قصہ) سورہ یوسف۔

اور پھر اللہ قرآن پاک میں سورہ یُوسف میں اپنے نبی یُوسف علیہ السلام اور اُن کے بھائیوں کی کہانی سُناتا ہے اور بےشک یہ سب سے بہترین قصہ ہے۔

چار مہینے کے بچے کی گواہی

یُوسف علیہ السلام کو جب اُن کے بھائیوں نے کنویں میں پھینکا اور واپس چلے گئے تو اُس کنویں پر مدین کا ایک رہائشی مالک بن ذعر اپنے قافلے کے ساتھ آیا اور کنویں میں یُوسف علیہ السلام کو دیکھ کر حیران ہُوا پھر اُنہیں اپنے ساتھ مصر لے گیا اور وہاں یُوسف علیہ السلام کو سونے اور چاندی کے عوض مصر کے بادشاہ کے ہاتھ فروخت کر دیا (دُنیا کی تاریخ میں اس سے زیادہ گھاٹے کے سودے کی مثال کہیں نہیں ملے گی)۔

عزیز مصر حضرت یُوسف علیہ السلام کو اپنے ساتھ اپنے محل لے گیا اُس وقت جناب یُوسف کی عمر 12 یا 17 برس کے درمیان تھی، عزیز مصر نے اپنی بیوی زلیخا سے کہا کہ اس غلام کو اعزاز و اکرام کیساتھ رکھا جائے۔

یُوسف علیہ السلام کو اللہ پاک نے حُسن و جمال کا پیکر بنایا تھا زلیخا اس حُسن کی تاب نہ لاسکی اور ایک دن محل میں اکیلا دیکھ کر اللہ کےنبی کو لبھانے کی کوشیش کی، یُوسف علیہ السلام بھاگے، زلیخا نے اُن کا کُرتا پیچھے سے پکڑا جس سے کُرتا پھٹ گیا اور اسی وقت عزیزمصر بھی محل میں داخل ہُوا۔

عزیز مصر کو دیکھ کر زلیخا نے شور مچا دیا کے یُوسف میرے ساتھ بُرائی کا ارادہ رکھتا ہے لہذا اسے ابھی جیل خانے پھینک دیا جائے، زٗلیخا کا الزام سُن کر حضرت یُوسف اپنی صفائی میں بولے کے یہ الزام غلط ہے اور میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا بلکہ ملکہ عالیہ خُود میرے ساتھ زور زبردستی کر رہی تھیں۔

عزیز مصر نے حضرت یُوسف علیہ السلام کی بات سُنی اوربولا "اے یُوسف میں تمہاری بات کا کیسے یقین کروں کے تُم سچ کہہ رہے ہو”، حضرت یُوسف نے جواب دیا کہ گھر میں چار مہینے کا ایک بچہ ہے جو پالنے میں لیٹا ہے اور زلیخا کے ماموں کا بیٹا ہے اُس سے میری گواہی لے لیجیے مُجھے یقین ہے اللہ اُسے میری بے بسی کی گواہی دینے کے لیے زُبان عطا کرے گا۔

چانچہ بچے کو پالنے سے عزیز مصر کے پاس پیش کیا گیا اور بچے نے فصیح زبان میں باآواز بُلند حضرت یُوسف کے حق میں گواہی دی ، اور اللہ پاک اس گواہی کا ذکر اپنی کتاب قُرآن پاک میں ہمیں سُناتا ہے۔

إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍۢ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ(سورہ یُوسف آیت 26)
وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٍۢ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ(سورہ یُوسف آیت 27)
ترجمہ (اگر ان کا دامن سامنے سے پھٹا ہے تو وہ سچی ہے اور یہ جھوٹوں میں سے ہیں۔ اور اگر ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہے تو وہ جھوٹی ہے یہ سچوں میںسے ہیں)۔

یُوسف علیہ السلام کا کُرتا پیچھے سے پھٹا تھا جسے امیر مصر نے دیکھ کر کہا ” اے یُوسف تم اس کا خیال نہ کرو اور اے عورت تُم اپنے گُناہ کی معافی مانگو بیشک تُم گناہ گار ہو”۔
تاریخ میں یہ سب سے کم سن گواہی ہے جوچار مہینے کے بچے نے دی اور اسے قبول کیا گیا۔

Featured image preview  Musée des Beaux-Arts de Rouen [Public domain]