تعلیم کی کمی وقت سے پہلے موت کا سبب بن سکتی ہے

Posted by

آج کے دور میں تعلیم سیکھنے میں سب سے پہلے انسان کا لکھنا اور پڑھنا سیکھنا ضروری ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں کہنے کولکھنے پڑھنے والوں کی تعداد 65 فیصد ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے افراد کی تعداد جو اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتے کروڑں میں ہے اور اس آرٹیکل میں ہم آج اُن وجوہات کا ذکر کریں گے جو تعلیم کی کمی کے باعث وقت سے پہلے انسان کی موت کا سبب بن سکتی ہیں۔

C:\Users\Zubair\Downloads\pile-of-books-159866.jpg

تعلیم کی کمی کی وجہ سے لوگ اپنی صحت کے متعلق ضروری باتیں جان نہیں پاتے اور ایک تحقیق کے مطابق ناخواندہ لوگوں کا خواندہ لوگوں کی نسبت مرنے کا تناسب 50 فیصد زیادہ ہے اور تمباکو نوشی کے بعد موت کی دُوسری سرفہرست بننے والی وجہ ناخواندگی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مریض کو اُس کے مرض کے متعلق مکمل آگاہی اُسکے خواندہ ہونے کی صُورت میں ہی دی جاسکتی ہے بصورت دیگر وہ مرض کی وجوہات کو نہیں جان پاتا اور دوا کا اثر ختم ہوتے ہی دوبارہ تکلیف میں مُبتلا ہوجاتا ہے اور اگر وہ کسی خطرناک مرض جیسے ہارٹ اٹیک وغیرہ میں مُبتلا ہے تو ہنگامی حالات میں کیا کرنا ہے وہ یہ معلومات نہیں رکھتا۔

پاکستان میں شرح اموات کی سب سے بڑی وجہ ہارٹ اٹیک ہے اور پاکستان میں 2018 کے ایک سروے کے نتائج کے مطابق ملک کی 63.3 فیصد آبادی دیہاتوں میں آباد ہے جہاں ناخواندہ افراد کی تعداد شہروں کی نسبت کہیں زیادہ ہے اور اس طرح کی کسی بھی ہنگامی صُورت میں فوری کیا کرنا ہے وہ یہ نہیں جانتے چنانچہ نتائج آپ کو معلوم ہیں کہ عام طور پر کہہ دیا جاتا ہے ” کل تک اچھا بھلا تھا صبح اچانک پتہ نہیں کیا ہُوا” اور "رب دی مرضی”۔

ماہرین کا کہنا کے کہ نا خواندہ افراد عام طور پر اپنا علاج کروانے کے لیے بھی سنجیدہ نہیں ہوتے اور جب تک مرض اپنے عروج پر نہ پہنچ جائے اور روح کا جسم میں رہنا بے چین نہ کردے یہ افراد ڈاکٹر سے رابطہ نہیں کرتے اور ایسا کرنے کی ایک بڑی وجہ عطائی حکیموں کی ایک بڑی تعداد ہے جو ہر مرض کا شافی علاج کرتے ہیں اور جب وقت ختم ہو چُکا ہوتا ہے تو کہتے ہیں "اینو فوراً ہسپتال لے جاؤ”۔

غیر تعلیم یافتہ افراد اُن مریضوں کے لیے بھی موت کا سبب بن سکتے ہیں جو ناخواندہ افراد کی زیر نگرانی ہیں خاص طور پر اُن کے ماں باپ اور بچے اور یہ افراد کسی بھی بیماری کی صُورت میں سو فیصد آزمودہ نسخہ جات کی پریکٹس سے گُزارے جاتے ہیں اور جب روگ بڑھ جاتا ہے تب ہسپتال لائے جاتے ہیں اور کئی دفعہ تو نہیں لائے جاتے ،نتیجتاً عام سُننے کو ملتا ہے "حضرات فلاں بن فلاں کا رضائے الہی سے انتقال ہو گیا ہے” اور بندہ سوچتا ہے کہ یہ تو اچھا خاصہ تھا۔

ناخواندہ افراد مرض کو چھپانے کی بھی کوشش کرتے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد خواتین کی ہے جواپنا اصل مرض خود نہیں جانتیں اور معالج کو مرض سے پیدا ہونے والی وجوہات بتا کر طاقت کا ٹیکہ لگانے کی فرمائش کرتی ہیں اورمعالج اُن کی خواہش کے عین مطابق سٹیرائیڈ کا ٹیکہ اُنہیں لگا کر 50 سے 100 روپئے لے لیتا ہے، اس سے وقتی آرام ملتا ہے مگرپھر اسکا نتیجا بھی اچھا نہیں نکلتا۔

ایک تحقیق کے مُطابق چونکہ ناخواندہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے اس لیے وہ آج کے جدید میڈیا کے نظام جس میں سوشل میڈیا بھی شامل ہے سے نا آشنا ہیں اور انٹرنیٹ کی معلومات سے دُور ہیں لہذا تازہ معلومات کا فُقدان انہیں وقت پر حرکت کرنے سے روکے رکھتا ہے۔

اس وقت کرونا وائرس صحت کے حوالے سے دُنیا کا سب بڑا مسئلہ ہے اور ناخواندہ افراد اس مسلے کو مسئلہ سمجھنے کے لیے ابھی تیار نہیں ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ نزلہ زکام میں اگر ہسپتال گئے تو ڈاکٹر ٹیکہ لگا کر کام تمام کر دے گا۔

ہمیں چاہیے کہ اپنے اردگرد ایسے تمام افراد جو ناخواندہ ہیں یا تعلیم کی کمی کا شکار ہیں اُنہیں اعتماد میں لیکر درست معلومات کی آگاہی دیں تاکہ وہ اپنے اور دُوسروں کے لیے خطرہ نہ بنیں۔