تھکاوٹ اور نظر کی کمزوری وٹامن A کی کمی کی وجہ سے ہو سکتے ہیں ان کھانوں کا استعمال کریں

Posted by

اگر آپ کی بینائی کم ہے یا اگر آپ جلدی تھک جاتے ہیں تو یہ وٹامن اے کی کمی کی علامت ہوسکتی ہے، اور وٹامن اے جسم کے لیے ایک انتہائی وٹامن ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے جسم میں کوئی وٹامن یا منرل کم ہوتا ہے تو اس سے ہماری صحت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپکے جسم میں وٹامن اے کی کمی ہے تو اسے ہری سبزیاں اور پھل وغیرہ کھا کر پورا کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ پھلوں اور سبزیوں میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

وٹامن اے کی کمی کی علامات

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وٹامن اے کی کمی آنکھوں کی زیادہ تر بیماریوں کا باعث بنتی ہے جیسے نابینا پن، آنکھوں کے سفید حصوں میں دھبوں کا پیدا ہونا، کارنیا کا خشک ہونا وغیرہ اور یہ بیماریاں مستقل اندھے پن کا بھی باعث بن سکتی ہیں اور ان کی ابتدا میں رات کے وقت دیکھائی دینا بند ہو جاتا ہے اور بینائی کمزور ہوجاتی ہے اور اگر اس کمی کو دُور نہ کیا جائے تو پھر یہ بیماری بڑھتی چلی جاتی ہے۔

آنکھوں کے علاوہ اس وٹامن کی کمی جسم پر اور کئی علامات کی صورت میں بھی ظاہر ہوتی ہیں جن میں جلد کا خُشک ہونا، بچوں میں نشوونما میں کمی، تھکاوٹ، ہونٹوں کا پھٹنا، حمل ٹھہرنے میں مسائل، سانس کی نالی کے اوپری حصے کے نیچے انفیکشن ہونا وغیرہ۔

بیماریاں جن کی وجہ سے یہ وٹامن کم ہو سکتا ہے

جسم میں وٹامن اے کی کمی کئی وجوہات کی وجہ سے ہو سکتی ہے لیکن اگر آپ کو جگر کی کوئی بیماری ہے تب اس وٹامن کی کمی کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں، اسی طرح تپ دق، کینسر، نمونیا، گُردوں کی خرابی، مثانے میں انفیکشن جس سے بار بار پیشاب آئے وٹامن اے کی کمی کا باعث بنتے ہیں کیونکہ زیادہ پیشاب آنے سے یہ وٹامن پیشاب کے راستے خارج ہوتا چلا جاتا ہے ۔

وٹامن اے کی کمی کو کیسے دُور کرنا چاہیے

ڈاکٹرحضرات وٹامن اے کی کمی کو علامات کے علاوہ خون کے نمونے لیبارٹری سے ٹیسٹ کروا کر بھی جانتے ہیں اور اس کمی کو پُورا کرنے کے لیے سپلیمنٹ وغیرہ تجویز کرتے ہیں اور ساتھ ہی اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ اپنی خوراک میں انڈے، دُودھ، گاجر، آلو، پپیتا، دہی، سبز پتوں والی سبزیاں، ریفائن نہ کیا گیا اناج اور سویا بین وغیرہ شامل کریں اور ڈرائی فروٹس کا بھی استعمال کریں کیونکہ یہ تمام کھانے وٹامن اے سے بھرپُور کھانے ہیں اور ان میں موجود وٹامن اے جسم میں سپلیمنٹ کے وٹامن کی نسبت زیادہ جلدی جذب ہوتا ہے اور فائدہ دیتا ہے۔

نوٹ: ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی صحت پر توجہ دیتے رہیں اور اگر اوپر دی گئی علامات میں سے کوئی ایک بھی محسوس کریں تو فوراً اپنے معالج کو اس سے آگاہ کریں تاکہ وہ اُس علامت کی ٹھیک تشخیص کر سکے اور ساتھ ہی اپنے طرز زندگی میں ورزش اور متوازن خوراک کو شامل کریں کیونکہ اگر یہ دونوں زندگی میں شامل ہوں تو عام طور پر صحت کو کوئی مسائل لاحق نہیں ہوتے۔