جسم میں آکسیجن کی کمی سے ظاہر ہونے والی نشانیاں اور کمی چیک کرنے کا طرہقہ

Posted by

پچھلے سال کی نسبت اس سال کرونا کی انفیکشن کو زیادہ خطرناک سمجھا جا رہا ہے کیونکہ کرونا کی اس میوٹیشن میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہو رہیں اور جب ظاہر ہوتی ہیں تب جسم کے اندر پھیپھڑوں کو کافی نقصان پہنچا چُکی ہوتی ہیں۔ کرونا کی ایک بڑی علامت جسم میں آکسیجن کی کمی ہے اور یہ کمی کرونا کے علاوہ کئی اور بیماریوں کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہے اور اس سے ہماری قوت مدافعت انتہائی کمزور ہو جاتی ہے۔

اس آرٹیکل میں جسم میں آکسیجن کی کمی کی شناخت کے بارے میں ذکر کیا جائے گا تاکہ کرونا کے علاوہ دیگر بیماریوں کی بھی وقت پر شناخت ہو سکے۔

جسم کے اندر آکسیجن کا لیول ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے جسم میں کتنی آکسیجن گردش کر رہی ہے، ہمارے خون میں موجود سُرخ خلیے پھیپھڑوں سے آکسیجن وصول کر کے اسے سارے جسم میں اپنی گردش کے دوران پہنچاتے ہیں جس سے ہمارے جسم کے اعضا تندرست رہتے ہیں اور اگر یہ لیول کم ہو جائے تو صحت پر بُرے اثرات پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہمارے جسم میں عام طور پر آکسیجن کا نارمل لیول 70 سے 100 ملی لیٹر ہوتا ہے اور اگر یہ لیول 60 ملی لیٹر سے کم ہو جائے تو جسم کو فوری طور پر سپلیمنٹ آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے اور جسم میں آکسیجن کی یہ کمی میڈیکل سائنس میں ہائیپوکیسیما کہلاتی ہے۔

جسم میں آکسیجن کی پیمائش کرنے کے عام طور پر 2 طریقے استعمال ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک پلس آکسی میٹر ہے جسے انگلی پر لگانے کے بعد یہ میٹر نبض کی رفتار سے جسم میں آکسیجن لیول کو نوٹ کرتا ہے لیکن اس میٹر سے ملنے والے نتائج پر پُوری طرح بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے اور خون میں آکسیجن کا ٹھیک ٹھیک لیول جاننے کے لیے اکثر ڈاکٹر حضرات خون کے نمونوں کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کروا کر جانتے ہیں کہ آکسیجن لیول کتنا ہے۔

آکسیجن لیول کم   ہونے پر ظاہر ہونے والی نشانیاں

جب جسم میں آکسیجن لیول کم ہوتا ہے تو جسم کے کام کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے معمولی سی حرکت پر شدید تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے سانس لینے میں دُشواری پیدا ہو جاتی ہے، جسم میں خون کا بہاو سُست ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے گھبراہٹ بے چینی محسوس ہوتی ہے اور دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں ایسے موقع پر شدید سردرد، سینے میں درد، نظر کا دھندلانا اور کمزور ہونا اور جسم کا درد کرنا اس بات کی نشانیاں ہے کہ جسم کو پُوری طرح آکسیجن نہیں مل رہی۔

جسم میں آکسیجن لیول کم ہونے کی وجوہات

ہم آکسیجن ہوا سے وصول کرتے ہیں اور اگر ہوا آکسیجن کم ہے جیسا کے اکثر بلندی پر یہ لیول کم ہوتا ہے تو اس سے جسم میں آکسیجن کا لیول کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اسکے ساتھ ساتھ اگر خُون پھیپھڑوں میں ٹھیک طرح گردش نہیں کر رہا تب بھی یہ کمی واقع ہوتی ہے۔

جسمانی طور پر متحرک نہ رہنے والے افراد میں بھی یہ کمی عام طور پر پیدا ہو جاتی ہے اور اس کمی کا تعلق ہماری خوراک سے بھی ہے اگر خوراک صحت مند نہیں ہے خاص طور پر اگر خوراک میں آئرن کی مناسب مقدار شامل نہیں ہوتی تو یہ کمی پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ آئرن خون میں سُرخ خلیوں کو پیدا کرتے ہیں اور یہ خُلیے آکسیجن کو خُون میں لیکر چلتے ہیں۔

آکسیجن کی کمی اور بیماریاں

اگر یہ آکسیجن کی کمی کرونا کی وجہ سے ہو رہی ہے تو یہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پھیپھڑے ٹھیک کام نہیں کر رہے بعض اوقات دمہ کے مریضوں پر جب دمہ کا اٹیک ہوتا ہے تب بھی اُن کے جسم میں آکسیجن کا لیول کم ہو جاتا ہے۔

جسم میں آکسیجن لیول کم ہونے سے دماغ پر شدید اثر پڑتا ہے اور ہارٹ اٹیک ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں، آکسیجن کی کمی اگر ذیابطیس کے مریض میں ظاہر ہو تو اُسکے خون میں شوگر کا لیول ہائی ہو جاتا ہے اور یہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

خون میں کم ہُوا آکسیجن لیول تھائی رائیڈ ہارمون کا توازن خراب کر دیتا ہے اور ایسی صُورت میں یہ ہارمون یا تو بہت زیادہ ہوجاتے ہیں یہ کم ہوجاتے ہیں اور کئی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔

آکسیجن لیول چیک کرنے کا گھریلو طریقہ

اگر آپ گھر میں آکسیجن لیول چیک کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے پاس آکسی میٹر رکھ لیں لیکن اگر گھر میں آکسی میٹر موجود نہیں ہے تو سانس کی اس مشق سے آکسیجن لیول چیک کریں۔ سب سے پہلے تین سیکنڈ میں پُورا سانس اندر کھینچیں اور پھر سانس روک لیں اور 15 سے 20 سیکنڈ روکے رکھیں اور پھر خارج کر دیں اگر آپ مقررہ وقت تک آرام سے سانس روک پا رہے ہیں تو ظاہر کرتا ہے کہ جسم میں آکسیجن کا لیول نارمل ہے لیکن اگر آپ ایسا کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں تو یہ جسم میں آکسجین کی کمی کو ظاہر کرے گا۔

نوٹ: یہ طریقہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو ٹھیک رزلٹ مہیا کرے کیونکہ اکثر بھی ہوتا ہے کہ جسم میں آکیسجن کی کمی ہوتی ہے اور مریض سانس روک پانے میں آسانی سے کامیاب ہو جاتا ہے اس لیے آکسیجن کا ٹھیک لیول ڈاکٹر سے چیک کروائیں اور اپنے پاس آکسی میٹر ضرور رکھیں۔