جمائی میڈیکل سائنس اور اسلام

Posted by

جمائی ایک اضطراری کفیت ہے جو انسان پر عام طور پر سونے سے پہلے ، سو کر اُٹھنے کے بعد، اُکتاہت، تھکاوٹ وغیرہ کے دوران طاری ہوتی ہے لیکن جمائی لینے کا آغاز بچہ ماں کے پیٹ سے ہی شروع کر دیتا ہے یعنی یہ ایک ایسی کفیت ہے جو انسان فطرت سے لیکر آتا ہے۔

File:Yawning Infant, August 2018.jpg
Martin Falbisoner / CC BY-SA

اس آرٹیکل میں ہم میڈیکل سائنس کی رُو سے جانیں گے کہ ہم جمائی کیوں لیتے ہیں اور اسکا کیا مقصد ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی جانیں گے کہ اسلام جمائی کے بارے میں کیا کہتا ہے۔

بہت سی احادیث میں جمائی کے متعلق اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان ملتے ہیں جس میں جمائی کے دوران مُنہ پر ہاتھ رکھنے کی تلقین کی گئی ہے اور بعض جگہ ارشاد ملتا ہے کہ اسے روکو، جمائی کے دوران مُنہ پر ہاتھ رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ جمائی ایک آدمی سے دُوسرے کو فوراً لگتی ہے بلکہ یہ انسان سے جانوروں خاص طور پر کُتے، بلی، پرندے، سانپ اور بندروں میں پھیلتی ہے اور اسی طرح جانوروں سے انسانوں میں بھی پھیلتی ہے۔

ایک تحقیق کے مُطابق جمائی قریبی دوست اور رشتے داروں میں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے اور اگر آپ کسی ایسی جگہ جہاں آپ کا قریبی عزیز بھی موجود ہو جمائی لیں گے تو دوسروں کی نسبت قریبی عزیز کے جمائی لینے کے چانسز زیادہ ہوں گے۔

میڈیکل سائنس نے جمائی پر بہت سی تحقیات کی ہیں جس میں انسانوں اور جانوروں کی جمائی لینے کی ایک سے زائد وجوہات نوٹ کی گئی ہیں۔

خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کا بڑھنا

File:Carbon-dioxide-3D-vdW.svg
Jacek FH / Public domain

ایک تحقیق کے مُطابق جمائیاں آنے کی ایک وجہ خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کا بڑھنا ہے اور جب یہ مقدار بڑھتی ہے تو خون کو آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کے جمائی کے دوران آکسیجن کی اتنی مقدار جسم میں داخل نہیں ہوتی جتنی عام سانس لینے کے دوران داخل ہوتی ہے۔

جانوروں کی جمائی دوسروں کے لیے پیغام ہوتا ہے

C:\Users\Zubair\Downloads\brown-long-coated-animal-yawning-158403.jpg

ایک تحقیق کے نتائج کے مُطابق جب کوئی جانور تھکاوٹ یا بوریت کے باعث جمائی لیتا ہے تو یہ گروپ کے دوسرے جانوروں کے لیے ایک پیغام ہوتا ہے کے باخبر رہیں اور حالات پر نظر رکھیں ۔

نروس ہونا بھی جمائی پیدا کرتا ہے

نروس ہونے کے بعد انسان کا جسم فوری ایکشن کے لیے تیار ہوتا ہے اور ایک تحقیق کے مُطابق ایسے موقع پر جمائی لینے سے جسم جلدی الرٹ ہوجاتا ہے، تحقیق کے دوران یہ بات بھی نوٹ کی گئی کے جہاز سے پیرا شوٹ کے ذریعے چھلانگ لگانے والے افراد اکثر چھلانگ لگانے سے پہلے جمائی لیتے ہیں اور اتھلیٹ حضرات بھی کھیل سے پہلے جمائی لیتے ہیں اور یہ جمائی اُن کو چاک و چوبند کرتی ہے۔

جمائی دماغ کا درجہ حرارت کنٹرول کرتی ہے

C:\Users\Zubair\Downloads\headache-2438002_1920.jpg

ایک تحقیق کے مُطابق دماغ کا درجہ حرارت اگر بڑھ جائے تو بھی جمائی پیدا ہوتی ہے اور دماغ کو ٹھنڈا کرنے کا باعث بنتی ہے، ایسا عام طور پر اُس وقت بھی ہوتا ہے جب آپ دماغ سے کوئی ایسا کام لے رہے ہوں جس میں آپ کا دل نہ لگ رہا ہو تو دماغ کو ایسا کام کرنے کے دوران زیادہ مشقت کرنی پڑتی ہے جس سے اُس کا درجہ حرارت زیادہ بڑھتا ہے جسے کم کرنے کے لیے جمائیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔

جمائی بڑے دماغ کی نشانی ہے

Our brain is a problem. It's so big and yet so unused ...

ایک تحقیق کے مُطابق اگر انسان کے دماغ کا حجم بڑا ہے اور اُس میں عام دماغ کی نسبت زیادہ برین سیلز موجود ہیں تو ایسے افراد بھی بہت جلد جمائیاں لینی شروع کر دیتے ہیں کیونکہ زیادہ برین سیلز کی وجہ سے اُن کا دماغ زیادہ حرارت پیدا کرتا ہے جسے ٹھنڈا کرنے کے لیے جمائیوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔

جمائی بیماری کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہے

بہت زیادہ جمائیاں آنے کی ایک وجہ میڈیکل سائنس کے مُطابق یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپ کا دل ٹھیک کام نہیں کر رہا اور ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ ہے اور اس کی ایک وجہ دماغ میں ٹیومر کا ہونا بھی ہوسکتا ہے۔