حکیم لقمان کی عقل، شرم، عشق تقدیر، اور لالچ سے ملاقات

Posted by

حکیم لقمان 1100 قبل مسیح میں نُبیا جو آجکل سُوڈان کہلاتا ہے کہ ایک انتہائی اہل علم اور دانشور انسان تھے جن کا ذکر رب کعبہ نے اپنی کتاب قُرآن مجید میں سُورہ لقمان میں کیا اور فرمایا ” ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی” اور اللہ جسے حکمت عطا کرتا ہے اُس کی آنکھوں پر سے پردے ہٹ جاتے ہیں اور اُسے ہر چیز صاف صاف دیکھائی دینی شروع کر دیتی ہے۔

اہل حکمت کی زندگی دُنیا میں رہنے والے انسانوں کے لیے ایک ایسی مشعل راہ ہوتی ہے جسے پکڑ کر اندھیرے میں چلنے والے روشنی کے محتاج نہیں رہتے بلکہ وہ خود روشنی بن جاتے ہیں ایسی روشنی جس سے راستہ ڈھونڈنے والے سیدھی راہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

حکیم لقمان کے متعلق بہت سی حکایات مشہور ہیں جو علم اور دانائی کا پیغام دیتی ہیں اور انہیں حکایات میں سے چند انتہائی گہری اور حکمت اور دانائی سے بھری حکایات کا ذکر ہم کریں گے تاکہ اہل حکمت کی زندگی سے ہم بھی سیکھ سکیں۔

عقل، شرم، عشق، محبت تقدیراور لالچ کی حکیم سے مُلاقات

G:\Pics Sharing\book-read-open-light-night-reading-741646-pxhere.com.jpg

کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ عقل حکیم لقمان کے روبرو پیش ہُوئی اور حکیم سے کلام کیا، آپ نے عقل سے پُوچھا "تُو کون ہے اور کس جگہ رہتی ہے”، عقل گویا سخن ہُوئی اور جواب دیا ” میں عقل ہُوں اور انسان کے دماغ میں رہتی ہُوں”۔

عقل کے بعد حکیم کی خدمت میں شرم حاضر ہُوئی اور مُلاقات کی اجازت چاہی، حکیم نے شرم کو شرف مُلاقات بخشا اور اُس سے سوال کیا ” تُوں کون ہے؟ اور کہاں سے آئی ہے؟”، شرم گویا سخن ہُوئی اور جواب دیا ” میرا نام شرم ہے اور میں انسان کی آنکھوں کے اندر رہتی ہوں”۔

شرم کے جانے کے بعد حکیم کی خدمت میں تقدیر حاضر ہُوئی اور ملنے کی اجازت چاہی، اجازت مرہمت ہُوئی اور حکیم نے تقدیر سے سوال کیا ” تُم کون ہو اور کہاں رہتی ہو؟”، تقدیر نے حکیم کو جواب دیا میں تقدیر ہُوں اور میں انسان کے دماغ میں رہتی ہُوں”، حکیم نے کہا "انسان کے دماغ میں تو عقل کا بسیرہے” ، یہ سُن کر تقدیر بولی ” جب میں آجاتی ہُوں تو عقل کو چلے جانے کا حکم ہوتا ہے”۔

تقدیر کے بعد حکیم کی خدمت میں عشق حاضر ہُوا تو حکیم نے عشق سے پُوچھا ” تُم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو”، عشق نے جواب دیا ” میرا نام عشق ہے اور میں انسان کی آنکھ میں رہتا ہُوں”، حکیم بولے ” انسان کی آنکھ میں تو شرم رہتی ہے”، یہ سُن کر عشق مُسکرایا اور بولا ” جب میں آجاتا ہُوں تو شرم رخصت ہوجاتی ہے۔

پھر حکیم کے پاس محبت آئی اور مُلاقات کی اجازت چاہی، حکیم نے محبت کو اجازت دی اور محبت سے سوال کیا ” تُم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو”، محبت نے عرض کیا ” میں محبت ہُوں جو انسان کے دل میں اُتر کر وہیں رہتی ہوں”۔

محبت کے بعد حکیم کی خدمت میں لالچ حاضر ہُوا اور حکیم نے لالچ سے پُوچھا ” کون ہو تُم اور کہاں سے آئے ہو؟” ، لالچ بولا "میں لالچ ہُوں اور میں انسان کے دل میں رہتا ہُوں”، حکیم نے جواب دیا ” انسان کے دل میں تو محبت رہتی ہے”، یہ سُن کر لالچ نے قہقہہ لگایا اور بولا ” جب میں آجاتا ہُوں تو دل سے محبت کو کھینچ کر باہر نکال دیتا ہُوں”۔

اہل فکر کے لیے اوپر دی گئی باتیں سوچنے کا مقام ہیں کے وہ اپنے اندر محبت، عقل، عشق، شرم کو جگہ دینا چاہتے ہیں یا پھر بدبو دار لالچ، غرور، حرص، بغض، نفرت، حسد ، بے حیائی ، جھوٹ ، دھوکا، مکاری کو جگہ دینا چاہتے ہیں کیونکہ جب یہ چیزیں انسان کے اندر آتی ہیں تو یہ اندر کی تمام خوبصورتی کو کھینچ کر باہر پھینک دیتی ہیں۔