خوشخبری ذیابطیس کے مریض اب شوگر فری آم کھا سکتے ہیں صرف 150 روپئے کلو

Posted by

ذیابطیس کے مریض اکثر گرمیوں کے موسم میں ڈاکٹر سے ایک ہی بات پُوچھتے ہیں اور وہ یہ کہ کیا ڈاکٹر صاحب ہم آم کھا سکتے ہیں اور اگرچہ آم اُن کی صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہوتا لیکن اُن کے اسرار پر ڈاکٹر آخر کار اُنہیں ایک آم کھانے کی اجازت دے دیتا ہے مگر یہ ایک آم گلیسمیک انڈیکس ہائی ہونے کی وجہ سے اُن کے خون میں شوگر کا لیول تیزی سے ہائی کرتا ہے اور ذیابطیس کے مرض کو کنٹرول سے باہر لیجاتا ہے۔

لیکن اب ذیابطیس کے مریضوں کے لیے خوشخبری کی بات یہ ہے کہ وہ بھی آم کھا سکتے ہیں کیونکہ اُن کے لیے ٹنڈواللہ یار کے غلام سرور جو آموں کے ایکسپرٹ ہیں نے ایم ایچ پنور فارمز میں کئی سالوں کی محنت کے بعد ایسے آم اُگائے ہیں جو شوگر فری ہیں اور اس دریافت سے شوگر کے مریض بھی پھلوں کے اس بادشاہ کے ذائقے سے بے فکر ہو کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

آم کی مشہور اقسام جیسے چونسا اور سندھڑی وغیرہ میں 12 سے 16 فیصد تک شوگر ہوتی ہے جسکی وجہ سے یہ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے مفید پھل نہیں مانا جاتا لیکن ایم ایچ فارمز میں غلام سرور صاحب نے آموں کی تین نئی اقسام اُگائی ہیں جن کے نام سونارو، گلین اور کیت ہیں اور یہ تینوں اقسام اپنے اندر صرف 4 سے 6 فیصد تک شوگر رکھتی ہیں اور اس کام کے لیے غلام سرور صاحب نے پھل اُگانے والی ایسی تکنیکس کا استعمال کیا ہے جن کے کئی تجربات کے بعد وہ شوگر فری آم اُگانے میں کامیاب ہو گئے۔

غلام سرور صاحب کے شوگر فری آموں کی تینوں اقسام اس وقت مارکیٹ میں فروخت کی جارہی ہیں اور اس کی قیمت بھی زیادہ نہیں ہے بلکہ یہ آم آپ کو 150 روپئے کلو میں دستیاب ہو سکتے ہیں اور اگر آپ شوگر کے مریض ہیں اور آم کھانا نہیں چھوڑ سکتے تو آپ کو غلام سرور صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے جن کے علم نے آم کو اس قابل بنا دیا کہ اب اسے شوگر کے مریض بھی کھا سکتے ہیں۔

شوگر کے مرض میں اگرچہ پھل اور فروٹس کھانا صحت کے لیے مفید ہوتا ہے اور یہ ذیابطیس پر اپنے وٹامنز اور منرلز کی وجہ سے زیادہ اثر نہیں کرتے لیکن چند پھل جیسے آم، کیلا اور انگور وغیرہ اپنے اندر بہت سی شوگر لیے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ڈاکٹر حضرات انہیں کھانے سے منع کرتے ہیں لیکن دور جدید میں غلام سرور صاحب جیسے ایگرکلچر کے سائنسدان جیسے آم کو شوگر فری کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ویسے ہی امید کی جاسکتی ہے کہ بہت جلد میڈیکل سائنس اس مرض کا کوئی نہ کوئی مسقتل علاج دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اور اگر ایسا ہو گیا تو دُنیا میں کروڑوں شوگر کے مریض بھی عام انسانوں کی طرح رب العزت کے پیدا کیے گئے تمام کھانوں سے لطف اندوز ہوں گے۔

Featured Image Preview Credit: Khalid Mahmood, CC BY-SA 3.0, via Wikimedia Commons