دارچینی اور امرود کے پتے شوگر کا شرطیہ علاج ہیں

Posted by

پاکستان میں شائد ہی کوئی گھرانہ ایسا ہو جہاں ذیابطیس کا مریض نہ ہو اور ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر 100 میں سے 17 افراد ذیابطیس کا شکار ہیں۔ یہ مرض دیمک کی طرح انسان کو اندر سے ختم کرتا رہتا ہے اور اُس کی زندگی کو بے سکونی سے بھر دیتا ہے لیکن اگر اسے قابو کر لیا جائے تو یہ نقصان دہ ثابت نہیں ہوتا۔

ہم جب بھی کوئی کھانا کھاتے ہیں تو اس کھانے میں شامل کاربوہائیڈریٹس اور شوگر خون میں شوگر لیول کو اوپر لیکر جاتے ہیں اور یہ شوگر لیول جب ہائی ہوتا ہے تو ہمارا لبلبہ انسولین پیدا کرتا ہے اور یہ انسولین خون میں شامل ہوکر اس میں موجود شوگر کو سیلز میں جذب کرنے میں مدد دیتی ہے جس سے کھانے کے بعد خون میں شوگر نارمل ہو جاتی ہے لیکن اگر لبلبہ مناسب انسولین پیدا نہ کرے یا سیلز انسولین کو پہنچاننے سے انکار کر دیں تو ذیابطیس ٹائپ 2 جیسا مرض پیدا ہوتا ہے جسکے پیدا ہونے کی بڑی وجوہات خوراک میں بد احتیاطی اور روزانہ کی زندگی میں ورزش کا نہ ہونا شامل ہیں۔

شوگر کو مستقل کنٹرول کرنے کے لیے میڈیکل سائنس کے پاس ابھی کوئی مستقل حل نہیں ہے اور ڈاکٹر حضرات عام طور پر ذیابطیس کے مریضوں کو ادویات کے ساتھ متوازن خوراک ، میٹھے سے پاک اور کم کاربوہائیڈریٹس والے کھانے اور ورزش کا مشورہ دیتے ہیں اور اس میں کوئی 2 رائے نہیں کہ پرہیز شوگر کا بہترین علاج ہے۔ اس آرٹیکل میں 2 ایسے کھانوں کو شامل کیا جا رہا ہے جنکا خون میں شوگر کے لیول کو نارمل رکھنے میں کوئی ثانی نہیں ہے اور ساتھ ہی انکا طریقہ استعمال بھی ذکر کیا جائے گا تاکہ شوگر کے خلاف ان سے بھرپُور فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

دارچینی شوگر پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں

G:\Pics Sharing\cinnamon-gb96b9c698_1920.jpg

دارچینی میں ایسے غذائی عناصر پائے جاتے ہیں جو جسم کے خُلیوں کو گلوکوز جذب کرنے میں دیتے ہیں اور جسم میں انسولین کی حساسیت کو بڑھاتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کی بہت سی تحقیقات کے مطابق دارچینی نہار مُنہ شوگر کے لیول میں نمایاں کمی پیدا کرتی ہے اور اسے 24 ملی گرام تک نیچے لیکر آتی ہے۔ ایک تحقیق کے مُطابق 6 گرام دارچینی کا پاوڈر کھانے کے بعد استعمال کرنے سے خون میں شوگر کے بڑھے ہُوئے لیول کو حیرت انگیز طریقے سے کم کرتا ہے اور دارچینی کھانے کے اثرات جسم پر 12 گھنٹے تک رہتے ہیں۔

دارچینی ذیابطیس سے پیدا ہونے والے مسائل جن میں دل کی بیماریاں، بلڈ پریشر، کولیسٹرال وغیرہ میں بھی انتہائی مفید چیز ہے کیونکہ اس میں اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیاں پائی جاتی ہیں اور یہ جسم کے اندرونی اعضا کی سوزش کا خاتمہ کرتی ہے۔

امرود کے پتے اور ذیابطیس

G:\Pics Sharing\plant-flower-petal-bloom-rose-orange-1611541-pxhere.com.jpg

ذیابطیس کے مرض میں امرود ایک بہترین پھل ہے لیکن اسکے پتے شوگر کو جتنا فائدہ دیتے ہیں اگر اس بات کا پتہ سب کو چل جائے تو یہ بازار میں امرود سے زیادہ مہنگے داموں فروخت ہوں۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ امرود کے پتوں میں ایسے فلیونائیڈز پائے جاتے ہیں جو ایسی اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیاں رکھتے ہیں جو خوارک میں شامل کاربوہائیڈریٹس کے جسم میں جذب ہونے کی صلاحیت کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان کاربس کو خون میں شوگر لیول تیزی سے ہائی نہیں کرنے دیتے۔

امرود کے پتے نہ صرف کاربوہائیڈریٹس کو ہضم ہونے کے دوران کنٹرول کرتے ہیں بلکہ یہ خوراک میں شامل شوگر کو خون میں تیزی سے شامل نہیں ہونے دیتے اور خون میں بڑھی ہُوئی شوگر کے لیول کو 10 فیصد تک نیچے لیکر آتے ہیں اور اگر انہیں کھانے کے بعد استعمال کیا جائے تو یہ ذیابطیس کے مرض کو کنٹرول کرنے کے لیے بلکل ادویات جیسا کام کرتے ہیں۔

دارچینی اور امرود کے پتوں کا قہوہ شوگر کا علاج ہے

اگر آپ ان دونوں کو ذیابطیس کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ہر کھانے کے بعد ان دونوں کا قہوہ استعمال کرنا شروع کر دیں۔ قہوہ بنانے کے لیے امرود کے 6 سے 8 پتے اور دارچینی کے 2 بڑے ٹکڑے پانی میں شامل کر کے اچھی طرح پکا کر قہوہ بنا لیں اور ہر کھانے کے بعد اس قہوے کو پینا اپنا معمول بنا لیں یہ عمل آپ کی شوگر کو حیرت انگیز طور پر کنٹرول میں لے آئے گا اور ساتھ ہی آپ کو موٹاپے جیسے امراض سے بھی نجات دلائے گا اور موٹاپا بھی شوگر پیدا ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

نوٹ: ان دونوں چیزوں کا قہوہ ذیابطیس کے لیے استعمال کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں کیونکہ امرود اور دارچینی کا قہوہ خون میں بڑھی ہُوئی شوگر کو تیزی سے نیچے لیکر آتا ہے اور ذیابطیس کنٹرول کرنے والی ادویات کے ساتھ اس قہوے کو استعمال کرنا خون میں شوگر لیول کو نارمل سطح سے نیچے لا سکتا ہے اور گرا ہوا شوگر لیول انتہائی خطرناک ہوتا ہے اس لیے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق انہیں اپنی خوراک میں شامل کریں اور اسکے ساتھ اپنے گلوکوز میٹر سے اپنی شوگر پر نظر رکھیں اور اگر وہ نارمل سطح سے نیچے جاتی ہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرکے ذیابطیس میں استعمال ہونے والی ادویات میں کمی کر دیں۔

Featured Image Preview Credit:
BruceBlaus. When using this image in external sources it can be cited as:Blausen.com staff (2014). "Medical gallery of Blausen Medical 2014”. WikiJournal of Medicine 1 (2). DOI:10.15347/wjm/2014.010. ISSN 2002-4436., CC BY 3.0, via Wikimedia Commons