دارچینی سے شوگر کا کامیاب علاج ممکن ہے اسے اس طریقے سے استعمال کریں

Posted by

ذیابطیس خون میں شوگر کے لیول کو کنٹرول سے باہر کر دینے والی بیماری ہے اور اگر اس بڑھے ہُوئے لیول کو کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ کئی دُوسری خطرناک بیماریوں جن میں دل کی بیماریاں، گُردے کی خربیاں اور اعصاب کی خرابی جیسی بیماریاں شامل ہیں کو جنم دیتی ہے۔

ایلوپیتھی میں ذیابطیس کا کوئی مستقل علاج موجود نہیں ہے اور ادویات اور انسولین وغیرہ اس بیماری کو عارضی طور پر کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہیں اور انہیں مستقل استعمال کرنا پڑتا ہے جس سے صحت پر منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں اسی لیے سمجھدار لوگ اس بیماری کو خوراک کیساتھ کنٹرول کرتے ہیں جو کہ اسے کنٹرول کرنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔

قدرت کے بہت سے کھانے خون میں شوگر لیول کر کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور ان کھانوں میں ایک دارچینی بھی ہے جو صحت کو بیشمار فوائد دینے کیساتھ خون میں بڑھے ہُوئے شوگر لیول کر نارمل رکھنے اور ذیابطیس کے مرض کو بڑھنے سے روکتی ہے۔

G:\Pics Sharing\cinnamon-3220988_1920.jpg

اس آرٹیکل میں آپکو دارچینی کے متعلق وہ سب باتیں بتائی جائیں گی جو اسے شوگر کے مرض کے لیے اکسیر بنا دیتی ہیں۔

دارچینی اور انسولین

ذیابطیس لبلبے میں خرابی کے باعث اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب لبلبہ مناسب مقدار میں انسولین پیدا نہیں کرپاتا اور اس مرض کی دُوسری بڑی وجہ جسم میں موجود سیلز کا انسولین قبول کرنے سے انکار ہے جس کے خون میں انسولین کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جب سیلز اسے قبول نہیں کرتے تو یہ خون میں شوگر لیول کو ہائی کر دیتی ہے۔

میڈیکل سائنس کی کئی تحقیقات کے مطابق دارچینی خون میں شوگر کے بڑھے ہُوئے لیول کو کم کرتی ہے اور جسم کے خُلیوں میں گلوکوز کو جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے اور تحقیق کے مطابق دارچینی کا استعمال انسولین کی حساسیت کو فوری طور پر بڑھاتا ہے اور اس کے استعمال کے اس کے یہ اثرات 12 گھنٹے تک جسم پر رہتے ہیں۔

نہار منہ شوگر لیول کو کم کرتی ہے

علم طب کی بہت سی تحقیقات کے مطابق دارچینی نہار مُنہ شوگر کے لیول کو کم کرنے میں ادویات کی طرح کام کرتی ہے اور خون میں سے شوگر کو 24 مل گرام/ ڈی ایل تک نیچے لیکر آ سکتی ہے۔ دراچینی کے شوگر پر پڑنے والے یہ اثرات اے ون سی ٹیسٹ جو کے گزرے 3 مہینے کا جسم میں شوگر لیول معلوم کرنے کا ٹیسٹ ہے اُس میں بھی کمی لاتی ہے۔

کھانے کے بعد شوگر لیول بڑھنے سے روکتی ہے

کھانے کے بعد خون میں شوگر لیول کا بڑھنا کھانے کی مقدار اور اس میں موجود کاربوہائیڈریٹس اور گلوکوز پر منحصر ہوتا ہے اور اگر کاربوہائیڈریٹس کی کھانے میں مقدار زیادہ ہو تو یہ شوگر لیول کو تیزی سے اوپر لیکر جانے کا باعث بنتا ہے۔

خون میں بڑھنے والی یہ شوگر آکسیڈیٹیو سٹریس کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے اور جسم کو دائمی بیماریوں میں مبتلا کر سکتی ہے۔ دارچینی کھانے کے بعد خون میں بڑھنے والی شوگر کو کنٹرول کرنے میں انتہائی مددگار چیز ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خوراک سے گلوکوز کو خون میں تیزی سے شامل ہونے سے روکتی ہے اور ماہرین کے مطابق کھانے کیساتھ اگر 6 گرام دارچینی کے پاوڈر کو استعمال کر لیا جائے تو یہ کھانے کے بعد شوگر پر حیرت انگیز اثرات مرتب کرتا ہے۔

شوگر سے پیدا ہونے والی خرابیاں روکتی ہے

یہ مزیدار مصالحہ نہ صرف خون میں شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ یہ شوگر سے پیدا ہونے والے مسائل کو بھی پیدا ہونے سے روکتا ہے۔

ذیابطیس کے مریضوں کا دل کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خدشات عام افراد کی نسبت دوگنا ہوتے ہیں اور ایک تحقیق کے مطابق کھانے کے ساتھ اسکے استعمال سے جسم میں بُرے کولیسٹرال کا خاتمہ ہوتا ہے اور اچھے کولیسٹرال میں بہتری آتی ہے اور یہ خون میں ٹریگلروسیرائیڈ (خون کی چکنائی) کو کم کرتی ہے جس سے کولیسٹرال میں بہتری آتی ہے اور دل کی بیماری پیدا ہونے کا خدشہ کم ہوجاتا ہے۔

ذیابطیس پر ہونے والی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے شکار مریض یاداشت کی بیماری جس میں بھولنے کی بیماری شامل ہے کا وقت کے ساتھ شکار ہو جاتے ہیں اور بھولنے کی اس بیماری کو ماہرین ٹائپ 3 ذیابطیس کا نام دیتے ہیں۔

تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ دارچینی میں ایسے عناصر شامل ہیں جو یاداشت کو بہتر بناتے ہیں اور دماغ کو پرسکون رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

اینٹی آکسائیڈینٹس

دارچینی میں بہت زیادہ وٹامنز اور منرلز نہیں پائے جاتے بلکہ یہ مختلف اقسام کے اینٹی آکسائیڈینٹس پر مشتعمل ہوتی ہے اور یہ اینٹی آکسائیڈینٹ جس کو بہت سی بیماریوں سے بچاتے ہیں جن میں کینسر اور سوزش کی بیماری سرفہرست ہے اور 26 مختلف جڑی بوٹیوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دارچینی کو اینٹی آکسائیڈینٹ عناصر زیادہ ہونے کی وجہ سے دوسرا نمبر دیا گیا ہے اور ایک تحقیق کے مطابق روزانہ 500 ملی گرام دارچینی کا استعمال جسم کی آکسیڈیٹیو سٹریس کو 14 درجے کم کرتا ہے اور پری ذیابطیس کے مریضوں میں ذیابطیس پیدا ہونے سے روکتا ہے۔

کونسی دارچینی کھانی چاہیے

بازار میں عام طور پر جو دارچینی مصالحے کے لیے فروخت ہوتی ہے اسے کاسیا دارچینی کہا جاتا ہے جو سستی ہے اور اس میں فاسد مادوں کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے اس دارچینی کو زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے اور اگر اسے بطور سپلیمنٹ استعمال کرنا ہو تو اسے رات بھر پانی میں بھگو کر اس پانی کو استعمال کریں۔

دارچینی کی سب سے بہترین قسم سیلون دارچینی ہے جو کاسیا دارچینی سے مہنگی ہے اور پاکستان میں اس دارچینی کی قیمیت تقریباً 2 ہزار روپئے کلو ہے مگر یہ دارچینی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے اور اس میں فاسد مادے کاسیا کی نسبت بہت ہی کم مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

روزانہ کتنی دارچینی استعمال کرنی چاہیے

ماہرین کے مطابق روزانہ 1 گرام سے 6 گرام تک دارچینی پاوڈر کا بطور سپلیمنٹ استعمال کرنا صحت کے لیے مفید ہے اور ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو روزانہ 1،3، اور 6 گرام دارچینی استعمال کرتے ہیں اُن کی شوگر پر یہ ایک جیسے اثرات ہی مرتب کرتی ہے۔

نوٹ: ماہرین کے مطابق کاسیا دارچینی میں ایک عنصر کومارین پایا جاتا ہے جو صحت کے لیے مفید نہیں ہے اس لیے اس دارچینی کو روزانہ 0.5 سے 1 گرام تک ہی استعمال کرنا چاہیےتاکہ اس کے مضر اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔