درجہ حرارت 40 ڈگری سے اوپر چلا جائے تو ان 10 احتیاطی تدابیر کو لازمی اختیار کریں

Posted by

گرمی کی لہر یعنی ہیٹ ویو موسم کی وہ صُورتحال ہوتی ہے جس میں کسی علاقے میں لمبے عرصے تک موسم عام حالات کی نسبت شدید گرم رہے موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی علاقے میں 5 دن سے زیادہ موسم شدید گرم رہے تو وہ علاقہ ہیٹ ویو کے اثر میں ہوتا ہے۔ ماہرین موسمیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ گرمی کے دوران عام موسم کی نسبت درجہ حرارت 10 ڈگری یا اس سے زیادہ ہوجانا ہیٹ ویو کہلاتا ہے۔

گرمی کی لہر اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہوا گرم ہو کر ٹریپ ہو جائے، ایسے موقع پر ہوا گرم اوون کے اندر کی ہوا جیسی ہو جاتی ہے اور یہ اُس وقت ہوتا ہے جب ہائی پریشر ہوا کا سسٹم اوپر سے نیچے کی طرف چل رہا ہو۔ سمندر کا پانی جب عام درجہ حرارت سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے تو اس کے اوپر چلنے والی ہوا بھی گرم ہو جاتی ہے اور اگر یہ ہوا Upper Atmosphere میں چلی جائے تو یہ اردگرد کے علاقوں میں ہیٹ ویو کا باعث بنتی ہے۔

موسم کی یہ شدت اُس علاقے میں رہنے والے ہر ذی روح کو متاثر کرتی ہے لیکن اس سے زیادہ خطرہ بچوں اور بوڑھوں کو ہوتا ہے اور عام طور پر صحت مند افراد بھی جب اس موسم میں بد احتیاطی کرتے ہیں تو وہ گرمی کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

موسم زیادہ سرد ہو یا گرم خطرناک ہی ہوتا ہے لیکن شدید گرمی فوری طور پر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، پچھلے چند سالوں میں جتنے افراد شدید گرمی سے جاں بحق ہوئے ہیں اُن کی تعداد کسی بھی اور موسمی آفت جیسے سیلاب اور زلزلہ وغیرہ سے زیادہ ہے اس لیے ان آرٹیکل میں نیچے دی گئی احتیاطی تدابیر کو لازمی اختیار کریں۔

نمبر 1 پانی

C:\Users\Zubair\Downloads\women-model-people-girl-photography-water-1630672-pxhere.com.jpg

زیادہ سے زہادہ پانی استعمال کریں تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہے اور اس میں پانی کی کمی پیدا نہ ہو۔ شدید گرمی میں جسم زیادہ تیزی سے پسینہ خارج کرتا ہے اور ایسے موقع پر اگر مناسب پانی نہ پیا جائے تو جسم میں پانی کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اپنے ساتھ پانی کی بوتل ضرور رکھیں اور اگر گھر میں ہیں تو بھی قریب پانی کی بوتل رکھیں اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد پانی پیتے رہیں۔

نمبر 2 سائے میں رہیں

دن کے شدید گرم اوقات خاص طور پر دن 10 بجے سے لیکر 4 بجے تک گھر میں رہیں یا سایہ دار جگہ پر رہیں ان اوقات میں سورج کی سیدھی دھوپ سے بچیں اور ان اوقات میں شدید جسمانی مشقت سے پرہیز کریں۔ ہیٹ ویوو کے دوران آوٹ ڈور گمیز اور دیگر سرگرمیاں معطل کر دیں۔

نمبر 3 دھوپ میں نکلنا

اگر دھوپ میں نکلنا بہت ضرور ہو گیا ہے تو کوشش کریں کے سایہ دار راستے سے گزریں اور سر کو کسی ٹوپی یا کپڑے وغیرہ سے ڈھانپ لیں کیونکہ سر کا درجہ حرارت بڑھنے سے آپکے گرمی کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خدشات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ آنکھوں پر دھوپ کا چشمہ استعمال کریں اور کوشش کریں کے دھوپ میں چھتری لیکر نکلیں۔

نمبر 4 چھوٹے بچے

چھوٹے بچوں کو دوپہر میں ہرگز ہرگز گاڑی میں ایک سیکنڈ کے لیے بھی اکیلا نہ چھوڑیں اور اسی طرح اگر آپ کے پاس کوئی پالتو جانور ہے تو اُسے بھی گاڑی میں مت چھوڑیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ گھر میں اُن کے لیے کوئی ٹھنڈی جگہ ہے جہاں وافر پانی اُن کے پینے کے لیے موجود ہے۔

نمبر 5 اے سی

گھر میں اگر اے سی موجود ہے تو اس کو کم درجہ حرارت پر سیٹ کریں اور اگر اے سی نہیں ہے تو پھر گھر کے نچلے فلور پر ہوا دار کمرے میں رہیں اور کمرے کے پردے کھڑکیوں اور دروازوں کے آگے لٹکائیں تاکہ سُورج کی روشنی کمرے میں داخل نہ ہو سکے۔ کمرے کے وسط میں یا پنکھے کے آگے کسی برتن میں برف رکھ دیں اس سے بھی کمرے کے درجہ حرارت میں واضح کمی آئے گی۔

نمبر 6 چائے کافی

ہیٹ ویو کے دوران میٹھے بازاری مشروبات، سوڈا، چائے اور کافی وغیرہ سے پرہیز کریں کیونکہ یہ مشروبات آپ کو ڈی ہائیڈریٹ کر سکتے ہیں اور گرمی میں ڈی ہائیڈریشن جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

نمبر 7 کھانا

شدید گرمی میں پیٹ بھر کر ہرگز مت کھائیں بلکہ اپنی دن بھر کی خوراک کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے وقتاً فوقتاً کھاتے رہیں اور ایسے کھانے کھائیں جن میں پانی بھی شامل ہو جیسے فروٹس وغیرہ خاص طور پر تربوز، خربوزہ، گرما وغیرہ۔

نمبر 8 لباس

ہیٹ ویوو کے دوران ہلکے، کھلے اور ہلکے رنگ کے کپڑے استعمال کریں اور باریک کاٹن اس موسم کے لیے بہترین لباس ہے۔ دھوپ میں سر پر کپڑے کو گیلا کر کے لپیٹ لیں اس سے بھی سر کا درجہ حرارت ٹھنڈا رہے گا یا ہوا دار ہیٹ اور ٹوپی وغیرہ کا استعمال کریں۔

نمبر 9 احباب

گھر میں بچوں اور بوڑھوں کی صحت کا خیال رکھیں اور شدید گرمی کے اوقات میں ان سے رابطے میں رہیں اور ان کے نزدیک ٹھنڈے پانی کی دستیابی یقینی بنائیں۔ اسی طرح اپنے اردگرد احباب میں بوڑھوں کا حال پُوچھیں اور اگر آپ کا یا آپ کے قریب کسی کو دل کی دھڑکن میں تیزی، بے ہوشی، چکر آنا، سردرد، مسل کمریمپز، اُلٹی یا ڈائیریا محسوس ہو رہا ہے تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

نمبر 10 ایمرجینسی

اگر آپ باہر ہیں اور کوئی سایہ دار جگہ موجود نہیں ہے تو قریب مسجد میں چلے جائیں اور طبیعت بحال ہونے تک وہاں رُکیں۔ اگر شدید گرمی میں بجلی چلی جاتی ہے اور گھر میں بجلی کا کوئی اور بندوبست نہیں ہے تو بھی علاقے کی مسجد میں جاکر دوپہر بسر کریں کیونکہ مساجد میں عام طور پر بجلی کا بدوبست ہوتا ہے۔ جسم اگر زیادہ گرم ہو رہا ہو تو اسے فوراً ٹھنڈا کرنے کے لیے جسم پر پانی ڈالیں اور ماتھے اور کلائیوں پر ٹھنڈا کپڑا رکھیں۔

نوٹ: بچوں کو دوپہر دھوپ میں نہ نکلنے دیں اور اگر گھر کے صحن وغیرہ میں دھوپ آتی ہے تو وہاں بھی بچوں کو ننگے پاؤں مت چھوڑیں اور کسی بھی ہنگامی صورت میں بغیر ایک لمحہ ضائع کیے فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں یہ قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی میں چلے جائیں۔