ذہین افراد کی 11 نشانیاں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اُن کا دماغ بہت تیز ہے

Posted by

کوئی آدمی کتنا ذہین ہے یہ دیکھنے کے لیے آئی کیو ٹیسٹ کروانا ضروری نہیں ہے بلکہ ذہانت کے معیار کو جانچنے کے لیے اہل علم اور بھی کئی طریقے استعمال کرتے ہیں اور اس آرٹیکل میں اہل علم سے حاصل کیے گئے 11 طریقے شامل کیے جا رہے ہیں جن سے آپ کسی کے بارے میں پتہ چلا سکتے ہیں کہ وہ کتنا ذہین ہے اور خود اپنے بارے میں بھی جان سکتے ہیں۔

نمبر 1 جھوٹ کو پہچان جانا

ذہین لوگوں کی یہ نشانی ہے کہ جب بھی کوئی اُن سے جھوٹ بولتا ہے یہ دھوکا دینے لگتا ہے تو اُن کی ذہانت کی حس اُنہیں خبردار کر دیتی ہے، ذہین افراد دُوسروں کے ارادے، مقاصد، اور خواہشات کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جو ایسا کر سکتے ہیں کوئی شک نہیں کہ بہت ذہین ہوتے ہیں۔

نمبر 2 خود کفیل

ذہین عام طور پر خود کفیل ہوتے ہیں اگرچہ یہ اپنے پارٹنر اور دوست احباب وغیرہ سے محبت کرتے ہیں لیکن انہیں اپنی ذات کے اندر زبردستی گھسنے نہیں دیتے اور اپنے کام کو ان سے کبھی متاثر نہیں ہونے دیتے اور ان کی یہ عادت دُنیا میں انہیں خودکفیل بنا دیتی ہے۔

نمبر 3 بے ترتیب

جو لوگ ذہین ہوتے ہیں اُن کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ اُن کے اردگرد عام طور پر بے ترتیبی پائی جاتی ہے جیسے اُن کے بستر کی چادر ٹھیک نہیں ہوگی کام کے ٹیبل پر چیزیں بکھری ہوں گی وغیرہ اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے کام میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ اُنہیں اس بے ترتیبی کو ٹھیک کرنے کے لیے وقت نہیں ملتا۔

نمبر 4 اپنی ذات سے جھوٹ نہیں بولتے

ایسے افراد نہ صرف دُوسروں سے بلکہ اپنی ذات سے بھی جھوٹ نہیں بولتے اور ان کی یہ عادت انہیں حقیقی دُنیا سے باہر نہیں جانے دیتی جس سے یہ خیالی دُنیا میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرتے اور غیر ضروری اُمیدوں سے بچتے ہیں۔

نمبر 5 اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہیں

یہ افراد اپنے جذبات کو نہ تو بہت زیادہ دباتے ہیں اور نہ ہی چھپاتے ہیں اور نہ ہی ان کو بے قابو ہونے کا موقع دیتے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی ایک حد بنا رکھی ہوتی ہے جس سے یہ باہر نہیں جاتے اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی وجہ سے یہ دُوسرے ذہین افراد کی باتوں میں آنے سے بچتے ہیں اور اپنے حصار کو مضبوط بنا لیتے ہیں۔

نمبر 6 پلاننگ کرنا

ایسے افراد کو جب کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو یہ پہلے اُس کی پُوری پلاننگ کرتے ہیں اور اس کے اچھے اور بُرے پہلووں پر غور کر کے پھر کوئی ایکشن لیتے ہیں اور بس خیالات میں ہی اُنہیں سوچتے نہیں رہتے۔

نمبر 7 کبھی کبھی سُست ہوتے ہیں

ایک تحقیق کے مطابق سُستی ذہانت کی نشانی ہے، اس تحقیق میں دو گروپس کو شامل کیا گیا ایک جو دماغی کام کرتے تھے اور دُوسرے جو جسمانی طور پر پھرتیلے تھے پھر دیکھا گیا کہ دماغ کو زیادہ استعمال کرنے والے اپنا کام جلدی ختم کر کے باقی وقت سُست رہنا پسند کرتے ہیں جبکہ جسمانی طور پر پھرتیلے افراد کام ختم کرکے جلدی بور ہو جاتے ہیں اور کسی دُوسرے کام میں لگ جانا انہیں زیادہ پسند ہوتا ہے۔

نمبر 8 ماضی میں قید نہیں رہتے

یہ لوگ ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہیں لیکن انہیں اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتے اور نہ ہی ماضی میں قید رہتے ہیں بلکہ ماضی سے سیکھ کر یہ حال اور مستقبل کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نمبر 9 غلطیاں کرتے ہیں

اگر کوئی آدمی یہ سوچتا ہے کہ وہ غلطی نہیں کرتا تو کوئی شک نہیں کے وہ بیوقوف ہے کیونکہ غلطی دانا افراد سے ہوتی ہے کیونکہ نیا کام کرتے ہُوئے غلطی ہونا عام سی بات ہے اور دانا افراد انہیں غلطیوں کی وجہ سے دانا اور ذہین بنتے ہیں۔

نمبر 10 بحث نہیں کرتے

ذہانت کی ایک بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ یہ افراد کسی بات پر فضول بحث نہیں کرتے اور اپنی بات کی زیادہ صفائیاں پیش نہیں کرتے اور نہ ہی یہ کہتے ہیں کہ وہ بہت ذہین ہیں بلکہ ایسے افراد اکثر معاملات میں آپ کو خاموش دیکھائی دیں گے اور جب بھی کچھ بولیں گے اُس بات کا وزن ہوگا۔

نمبر 11 جسمانی نشانی

G:\Pics Sharing\IMG_0634.JPG

دماغ کے رویوں پر ہونے والی ایک ریسرچ کے نتائج کے مطابق ہاتھ میں شہادت کی انگلی اور رنگ فنگر کا ذہانت سے تعلق ہوتا ہے اور شہادت کی انگلی کی لمبائی جسم میں ٹیسٹوسٹیرون کو ظاہر کرتی ہے اور یہ جتنی لمبی ہو گی اُتنے ہی زیادہ ٹیسٹوسٹیرون زیادہ ہوں گے اور اس کے حامل افراد معاملات کو گہری نگاہ سے دیکھنے اور فوری ایکشن لینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے جبکہ رنگ فنگر کا لمبا ہونا جسمانی مضبوطی اور پھرتیلے ہونے کی علامت ہے ایسے افراد کھیلوں میں بہت جلد آگے نکل جاتے ہیں اور ذہین افراد کی طرح خطرہ مول لیتے ہُوئے سوچتے نہیں ہیں۔