ذیابطیس کے مریضوں کا ناشتہ سارے دن خون میں بڑھتی شوگر کو بریک لگا سکتا ہے

Posted by

ناشتہ دن کی سب سے اہم غذا ہے۔ دن کی اچھی شروعات کے لیے صحت بخش ناشتہ کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ ہمارے میٹابولک نظام کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کے لیے بھی بہت اچھا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صبح صحت بخش ناشتہ کرنے سے بلڈ شوگر لیول نارمل رکھنے میں مدد ملتی ہے اور یہ چیز ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ بخش ثابت ہوتی ہے کیونکہ ان کے خون میں شوگر کی سطح جلدی بلند ہو جاتی ہے۔

ذیابطیس ایک ایسا مرض ہے جسے آپ اپنی خوراک اور ورزش سے کنٹرول کر سکتے ہیں لیکن لوگ اسے ادویات کے ستھ کنٹرول کرنا چاہتے ہیں جس سے ان کی صحت پر اچھے اثرات نہیں پڑتے۔ ذیابطیس کے مریضوں میں شوگر لیول زیادہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو ناشتے میں شامل چیزوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ ایسے لوگوں کو چینی والے مشروبات، سفید روٹی اور آلو جیسی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس میں بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ناشتے میں پروٹین، چکنائی، فائبر سے بھرپور پھل اور سبزیاں اور کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ شامل کیے جائیں تو بلڈ شوگر نارمل رکھنے میں بیحد مدد ملتی ہے۔

ذیابطیس کے مریضوں کو ناشتے میں کیا کھانا چاہیے

C:\Users\Zubair\Downloads\egg-g349510ad0_1920.jpg

اگر آپ ناشتے میں پراٹھا کھانے کے بہت شوقین ہیں تو ماہرین صحت کے مطابق شوگر کے مریض ناشتے میں میتھی کا پراٹھا جو زیتون کے تیل میں بنا ہو، ایک کپ لو فیٹ دہی اور دو چمچ سورج مکھی کے بیجوں کی چٹنی کھائے سکتے ہیں۔ اس کھانے میں تقریبًا 300 کیلوریز ہوں گی اور تقریبًا 8-10 گرام پروٹین۔ گرمیوں میں آپ صبح ایک سیب، ایک کپ دہی یا بادام کا دودھ، ایک چمچ چیا کے بیج اور اگر یہ بیج میسر نہ ہوں تو تخم بالنگا کے بیج لے لیں اور پالک کے 3-4 اُبلے پتوں کے ساتھ شوگر فری بریڈ کے ایک سے 2 سلائز اُبلے انڈوں کیساتھ کھائیں ۔ اس صحت بخش ناشتے سے شوگر نارمل رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ آپ ناشتے میں باجرے کے آٹے سے بنی روٹی یا جو کا دلیہ اور پھل بھی کھا سکتے ہیں لیکن پھلوں میں کیلا، آم، انگور وغیرہ شامل نہ کریں۔

ذیابطیس کے مرض میں ناشتے میں کیا نہیں کھانا

File:HKCEC Wan Chai bakery food counter Nov-2012.JPG
Ceviewach, CC BY-SA 3.0, via Wikimedia Commons

جو چیزیں لوگ عام طور پر ناشتے میں کھانا پسند کرتے ہیں وہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔ صبح ناشتے میں گندم کے آٹے کا پراٹھا اور فرائی انڈا وغیرہ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے مفید نہیں ہے اسی طرح سفید چنے اگرچہ ذیابطیس میں کھانا مفید ہیں لیکن اگر ان میں بہت زیادہ گھی اور تیل کا استعمال ہے تو یہ فائدہ دینے کی بجائے نقصان پہنچاتے ہیں۔ سفید آٹا اور اس سے بنی اشیا اور پھر اسی طرح بیکری کی پراڈکٹس بھی شوگر کے مریضوں کے لیے اچھی خوراک نہیں ہے۔ ذیابطیس کے مرض میں ناشتے میں اُن کھانوں کو شامل کرنا چاہیے جن میں جسم کی ضرورت کے مطابق تمام غذائی اجزا شامل ہوں خاص طور پر پروٹین، کاربوہائیڈریٹ اور چکنائی توازن کیساتھ شامل ہوں۔

نوٹ: شوگر کے مریض اگر اپنی خوراک کے ذرئیعے شوگر کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے بہتر ہے کہ اپنے نیوٹریشن ایکسپرٹ سے یا ڈاکٹر سے اپنے وزن کے مطابق اپنی خوراک خاص طور پر ناشتے کے لیے چارٹ حاصل کریں اور پھر اس پر عمل کریں۔

Feature Image Preview Credit: David-i98, CC BY-SA 3.0, via Wikimedia Commons