زمین کے 6 حیرت انگیز مقام جہاں کئی کئی دن تک سُورج غروب نہیں ہوتا

Posted by

غروب افتاب دن کا اختتام کرتا ہے اور رات جسے آرام کے لیے بنایا گیا ہے اُس کی آمد کا باعث بنتا ہے لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا اگر سورج غروب نہ ہو تو کیسا لگے؟۔ اس آرٹیکل میں زمین کے اُن خطوں کا ذکر کیا جائے گا جہاں سال میں زیادہ تر سُورج غروب نہیں ہوتا اور اس دوران یہ خطے رات سے محروم رہتے ہیں۔

نمبر 1 ناروے: یہ ملک آرکٹک سرکل کے اندر آتا ہے اور اسے سکینڈن نیویون ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ناروے کو آدھی رات کے سُورج کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں مئی اور جولائی کے درمیان 76 دن تک سُورج مسلسل چمکتا رہتا ہے اور غروب نہیں ہوتا، اسی طرح ناروے میں سولباد کے مقام پر سُورج 10 اپریل سے 23 اگست تک مسلسل چمکتا ہے اور رات نہیں آتی اور دُنیا بھر کہ سیاح اس خطے میں رات کے وقت سُورج کا نظارہ لینے کے لیے جاتے ہیں اور اگر آپ کو اس بات کا یقین نہ آئے تو خود ناروے جاکر دیکھ لیں۔

File:Adventfjorden - Svalbard Norway..JPG
Svein-Magne Tunli – tunliweb.no, CC BY-SA 4.0, via Wikimedia Commons

نمبر 2 کینڈا: نوناوٹ کینڈا کا ایک چھوٹا شہر ہے اور کینڈا کے شمال مغربی حصے میں ہونے کے باعث اس شہر میں گرمیوں میں 2 مہینے تک سُورج غروب نہیں ہوتا اور اسی طرح سردیوں میں یہاں 30 دن تک مکمل رات رہتی ہے۔

Visite du Nunavut

نمبر 3 آئس لینڈ: اس ملک کا شمار برطانیہ کے بعد یورپ کے سب سے بڑے جزیرے میں کیا جاتا ہے جہاں جون کے مہینے میں غروب آفتاب کے وقت بھی سورج غروب نہیں ہوتا اور ایک مہینہ مسلسل دن رہتا ہے۔

C:\Users\Zubair\Downloads\iceland-2111811_1920.jpg

نمبر 4 الاسکا: الاسکا میں بیرو کے مقام پر مئی کے آخر سے جولائی کے آخر تک سُورج غروب نہیں ہوتا اور اسی طرح یہاں نومبر کے آغاز سے اگلے 30 دن تک مسلسل رات رہتی ہے اور اس مسلسل رات کو پولر نائٹ کہا جاتا ہے۔ یہ جگہ برف پوش پہاڑوں اور گلیشیرز کی ایک انتہائی خوبصورت سرزمین ہے اور اگر آپ یہاں مسلسل سُورج کا نظارہ دیکھنے جانا چاہتے ہیں تو مئی سے جولائی کے مہینوں میں یہاں کا وزٹ کریں۔

C:\Users\Zubair\Downloads\aurora-1185464_1920.jpg

نمبر 5 فن لینڈ: ہزاروں چھوٹی بڑی جھیلوں اور جزیروں پر مشتعمل یہ خوبصورت خطہ گرمیوں کے موسم میں 73 دن تک رات سے محروم رہتا ہے اور سُورج یہاں ان دنوں میں غروب نہیں ہوتا۔ اس ملک میں ناردرن لائٹس کا نظارہ لینے کے لیے دُنیا بھر کہ سیاح اور سائنس دان جاتے ہیں اور جہاں یہاں کے عجیب و غیریب دن اور رات سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہاں اپنی تحقیقات سے قدرت کے راز بھی آشکار کرتے ہیں۔

نمبر 6 سویڈن: اس ملک کا شمار بھی یورپ کے سکینڈنیوین ملکوں میں ہوتا ہے اور یہاں مئی سے اگست تک سُورج آدھی رات تک طلوع رہتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو کُچھ ہی دیر میں صبح 4 بجکر 30 منٹ پر دوبارہ طلوع ہو جاتا ہے اور اس علاقے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہاں 6 مہینے دن رہتا ہے اور 6 مہینے رات اسی لیے جب اس سرزمین پر سُورج چمکتا ہے تو یہاں کے لوگ گولف، ماہی گیری، ٹریکنگ اور دیگر مہم جوئی کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اپنی زندگی کے ایام کو یادگار بناتے ہیں۔