سائنسدان گائے کے پیٹ میں سوراخ کیوں کر رہے ہیں

Posted by

بات اگرچہ عجیب ہو لیکن اگر سائنس کر رہی ہو تو ناقدین کی زبانیں خاموش ہو جاتی ہیں کیونکہ سائنس ایک ایسا علم ہے جو اُسی وقت بولتا جب حقائق کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرلے۔ سائنس اپنے کمالات سے بھی ناقدین کو بولنے نہیں دیتی اور ان کمالات سے آج ساری دُنیا بھری پڑی ہے۔

سائنسی تجربات اکثر سنگین لگتے ہیں جیسے ہارٹ ٹرانسپلانٹ سرجری کو ہوتا دیکھنا بھی عام انسان کے لیے مشکل کام ہے لیکن اس سرجری کے کامیاب تجربے نے دل کے مریضوں کے لیے زندگی کے دروازے کھول دئیے۔ اس آرٹیکل میں سائنس کے ایک اور دلچسپ تجربے کو شامل کیا جا رہا ہے جس میں کُچھ ڈیری فارمز پر گائے اور بھینس کے پیٹ میں سوراخ کر کے اس پر ایک کینولہ لگا دیا جاتا ہے اور پھر گائے وغیرہ کے پیٹ میں خوراک کے ہضم ہونے کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔

File:Cow disc 5201.jpg
Dori, CC BY-SA 3.0 US, via Wikimedia Commons

انسان کی دُنیا میں بڑھتی ہُوئی آبادی کے باعث ڈیری فارمز کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ کم جانوروں کیساتھ زیادہ پیداوار مہیا کرے اور کام کے لیے لائف سٹاک رکھنے والے جانوروں کی مختلف اقسام کی خوراک کی پُوری جانکاری حاصل کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کونسا کھانا کیسے نتائج دے رہا ہے۔ گائے کے معدے میں کینولہ لگانے کے بعد ماہرین کے لیے آسان ہو گیا ہے کہ وہ گائے معدے میں خوراک کی کوالٹی کو چیک کر سکیں۔

گائے کے پیٹ میں کینولہ لگانے کے بعد اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اور پھر 30 سے 45 منٹ کے بعد ماہرین اس کینولہ کی مدد سے گائے کے معدے سے ہضم ہو رہی خوراک کے نمونے حاصل کرتے ہیں اور ان کی جانچ سے اُنہیں پتہ چلتا ہے کہ گائے جس کھانے پر چر رہی تھی اُس کی کوالٹی کیسی ہے اور کیا اُس میں گائے کے جسم کے لیے پُوری غذائی خوبیاں شامل ہیں یا نہیں۔

جانوروں کے ڈاکٹرز عام طور پر فارمز پر کسی ایک صحت مند گائے کو اس لیے بھی کینولہ لگا دیتے ہیں تاکہ اس کے معدے سے ہضم ہوتی صحت مند خوراک کو کسی بیمار گائے کے معدے میں ڈال کر اُسے جلدی صحت مند بنایا جا سکے۔ اس طریقہ کار کو گائے اور بھینس کے علاوہ بھیڑ اور بکریوں پر بھی آزمایا جا سکتا ہے کیونکہ ان میں بھی ایک جیسا نظام انہظام پایا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کینولہ لگی گائے بلکل صحت مند زندگی بسر کرتی ہے اور بعض صورتحال میں وہ عام گائے سے زیادہ لمبے عرصے تک زندہ رہتی ہے۔ اس طریقہ کار کو دُنیا کے دیگر ممالک کیساتھ ساتھ پاکستان میں بھی کُچھ مویشی فارمز میں استعمال کیا جا رہا ہے اور ماہرین کے مطابق اس طریقہ سے دُودھ کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔

سائنس کے اس طریقہ کار پر ناقدین اس تجربے کی بھرپور مخالفت کر رہے ہیں اور اسے جانوروں پر ظلم قرار دے رہے ہیں اور کُچھ ممالک میں اس طریقہ کار پر پابندی لگوانے میں کامیاب ہو چُکے ہیں لیکن سائنس کو تجربات سے بعض رکھنے میں کبھی کامیاب نہیں ہُوئے۔