سرسوں کے تیل کے 25 ایسے فائدے جو بہت سے لوگ نہیں جانتے

Posted by

سرسوں کا تیل بیشمار خوبیوں کا حامل ہے اور ایوردیک اور طب یونان میں اسے بہت سی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے اور طب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تیل میں کھانا پکانا عام کوکینگ آئل اور گھی سے کہیں زیادہ مفید ہے جو ہمیں بہت سی دائمی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

اس آرٹیکل میں سرسوں کے تیل کے 25 ایسے فوائد کا ذکر کیا جائے گا جو ہماری صحت اور خوبصورتی کو 4 چاند لگا دیتے ہیں۔

File:Mustard Oil & Seeds - Kolkata 2003-10-31 00537.JPG
Biswarup Ganguly, CC BY 3.0, via Wikimedia Commons

سرسوں کا تیل اور صحت

میڈیکل سائنس کا کہنا ہے کہ سرسوں کا تیل اینٹی بیکٹریل، اینٹی فنگل، اینٹی کارجینک اور اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیوں کا حامل ہوتا ہے اور کھانے میں اس تیل کا استعمال ہمیں کینسر جیسے موذی مرض سے بچاتا ہے، خاص طور پر پیٹ کے کینسر سے،اور یہ تیل ہمیں بہت ساری انفیکشنز سے بچانے میں بطور دوا کام کرتا ہے۔

ماہرین طب کے مُطابق اس تیل کی تاثیر گرم ہے اور اس تیل کو گرم پانی میں ڈالکر بھاپ لینے سے نزلہ و زکام جیسے امراض کا خاتمہ ہوتا ہے اور یہ کھانسی میں آرام دیتا ہے اور سینے میں جمی بلخم کو خارج کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔

سرسوں کے تیل کی مالش سے جسم میں حرارت پیدا ہوتی ہے اس سے پٹھوں کو تقویت ملتی ہے اور جسم میں دوران خُون بہتر ہوتا ہے جس سے سارے جسم میں آکسیجن کی سپلائی کا نظام زیادہ اچھے طریقے سے کام کرتا ہے۔ نہانے کے بعد سرسوں کا تیل جسم پر ملنا سارے جسم کی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے خاص طور پر اسے نہانے کے بعد کانوں، ناک اور ناف میں لگانا انتہائی مُفید ہے۔

یہ تیل دانتوں کے لیے بھی انتہائی مُفید ہے یہ انہیں مضبوط اور چمکدار بناتا ہے، سرسوں کے تیل میں تھوڑا نمک ڈال کر بُرش کرنے کے بعد اسے دانتوں اور مسوڑھوں پر ملیں یہ مُنہ سے بدبو پیدا کرنے والے بیکٹریا کا خاتمہ کرے گا اور آپ کے مُنہ میں انفیکشن پیدا ہونے سے روکے گا۔

جوڑوں اور گھٹیا کا درد ایک تکلیف دہ بیماری ہے جو سکون کو غارت کر دیتی ہے لیکن اس بیماری میں سرسوں کے تیل کی مالش جوڑوں اور گھٹیا کے درد کو حیرت انگیز طور پر کم کر کے ختم کر دے گی۔

دل کی بیماریوں میں سرسوں کا تیل کھانے میں استعمال کرنا انتہائی مُفید ہے کیونکہ اس میں ایسے فیٹی ایسڈ پائے جاتے ہیں جو صحت کو بہتر بناتے ہیں اور خُون لیجانے والی نالیوں میں جمتے نہیں لہذا ایسے افراد جو دل کی بیماریوں میں مُبتلا ہوں انہیں اس تیل کا استعمال ضرور کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہارٹ اٹیک کے خدشے کو کم کرتا ہے اور انجائنا جیسی تکلیف سے بچاتا ہے۔

سرسوں کے تیل میں مگنیشیم اور سلینیم جیسے منرلز پائے جاتے ہیں اور یہ دمہ اور سانس کی بیماریوں میں انتہائی مُفید منرلز ہیں جو ان بیماریوں کے اثرات کو کم کرتے ہیں۔

میڈیکل سائنس کے مُطابق سرسوں کا تیل ہمارے میٹابولیزم کو بہتر بناتا ہے، دوران خون کیساتھ یہ دماغی کارکردگی کو بھی بہتر کرتا ہے اور ہمارے نظام انہظام پر بہت ہی اچھے اثرات مرتب کرتا ہے اور بھوک میں اضافے کا باعث بنتا ہے اس لیے ایسے افراد جنہیں بھوک نہ لگنے کی بیماری ہو انہیں چاہیے کہ اس تیل میں پکا ہُوا کھانا کھائیں۔

موٹاپا کم کرنے والے افراد کے لیے کوکینگ آئل کی جگہ سرسوں کا تیل استعمال کرنا انہتائی مُفید ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں شامل چکنائی جمتی نہیں ہے اور موٹاپے کا باعث نہیں بنتی اور یہ میٹابولیزم کو بھی بہتر کرتا ہے جس سے جسم میں جمی ہُوئی چربی کو پگھلنے میں مدد ملتی ہے۔

چونکہ سرسوں کے تیل میں اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹریل خوبیاں شامل ہیں اس لیے یہ زخموں کو جلد بھرنے میں بھی مدد دیتا ہے اور اگر مچھر یا کوئی اور حشرات کاٹ لے تو اُسے کاٹے پر سرسوں کا تیل ملنا تکلیف میں راحت کا سبب بنتا ہے۔

سرسوں کا تیل اور خوبصورتی

یہ تیل اپنے اندر بہت سارا موسچرائزر لیے ہُوئے ہوتا ہے اس لیے خُشک موسم میں جب جلد پر خُشکی پیدا ہوتی ہے تو اس جلد پر اس تیل کو ملنے سے جلد تروتازہ اور ملائم ہوجاتی ہے اور جلد پر چمک پیدا ہوتی ہے۔

سرسوں کے تیل میں بڑی مقدار میں وٹامن ای پایا جاتا ہے جو جلد پر جھریاں پڑنے کے عمل کو روکتا ہے اور جلد کی لچک کو بہتر بنا کر بڑھاپے کے اثرات کو ختم کرتا ہے، یہ تیل بالوں کے لیے بھی انتہائی مُفید ہے یہ بالوں کی خوراک ہے اور اس سے سر پر مالش کرنے سے بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور بالوں سے خُشکی سکری جیسے مسائل ختم ہوجاتے ہیں اور یہ تیل بالوں کو لمبا اور گھنا بناتا ہے۔

اس تیل میں وٹامن بی کمپلکیس جیسا اہم وٹامن بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے اور یہ وٹامن جلد پر پڑنے والے داغ اور جھریاں ختم کرکے جلد کا رنگ بہتر بناتا ہے اور جلد کو توانا کر دیتا ہے۔

اس تیل کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ قدرتی سن سکرین کا کام کرتا ہے اور اگر آپ اسے سورج کی دھوپ میں جانے سے پہلے جسم کے کُھلے حصوں پر مل لیں تو یہ سُورج کی نقصان دہ شعاؤں کو روکے گا اور ان سے آپ کی جلد کو متاثر نہیں ہونے دے گا۔

اگر آپ کے بالوں میں وقت سے پہلے سفید بال آنا شروع ہو گئے ہیں تو سرسوں کا تیل آپ کے بالوں کو سفید ہونے سے بچا سکتا ہے اس کام کے لیے اسے دہی میں شامل کر کے ہفتے میں 2 سے تین دفعہ سر میں لگائیں اور پھر کم از کم 15 منٹ لگا رہنے دیں اور بعد میں ٹھنڈے پانی سے سر دھو لیں یہ جہاں بالوں کو سفید ہونے سے روکے گا وہاں آپ کے بالوں کو حیرت انگیز طور پر خوبصورت بنائے گا اسی طرح اگر سر میں خُشکی ہے تو اس تیل کو ناریل کے تیل میں مکس کر لیں اور نہانے سے آدھا گھنٹہ پہلے اس سے سر کی مالش کر کے سر کو تولیے وغیرہ سے ڈھانپ دیں۔