سمارٹ فونز کے 10 نئے حیرت انگیز فیچرز جو 2022 میں متعارف ہونے جا رہے ہیں

Posted by

سمارٹ فون آج جتنا سمارٹ ہے اب سے صرف 13 سال پہلے یہ اتنا سمارٹ نہیں تھا اور اگرچہ سمارٹ فون ٹیکنالوجی 1992 سے وجود میں آ چکی تھی اور سائمن پرسنل کمیونیکیٹر کے نام سے دُنیا کا پہلا سمارٹ فون 1994 میں بازار میں فروخت ہونا شروع ہو چُکا تھا لیکن 2007 تک یہ فون اتنے سمارٹ نہیں تھے لیکن پھر ایپل اور اینڈرائیڈ فون لانچ ہونے کے بعد ہر گُزرتے سال نئے سمارٹ فون فیچرز تیزی سے وجود میں آ رہے ہیں۔

اس آرٹیکل میں 2021 کے بعد نئے آنے والے سمارٹ فون فیچرز کا ذکر کیا جائے گا جو آج کے سمارٹ فون کو بھی بدل کر رکھ دیں گے اور انہیں استعمال کرنے والے آج کے موجودہ سمارٹ فون کو بہت جلد بھول جائیں گے۔

نمبر 1 سم کارڈ نہیں ڈالنا پڑے گا

موجودہ سمارٹ فونز میں اگرچہ سم کا سائز بہت چھوٹا کر دیا گیا ہے لیکن سمارٹ بنانے والی کمپنیاں اس سم کارڈ سے اب جان چُھڑانے والی ہیں اور ایپل اور سام سنگ اپنے نئے فونز میں الیکٹریکل سم کارڈ متعارف کروانے جارہے ہیں۔ الیکٹریکل سم کارڈ میں کسی بھی نیٹ ورک سے کونیکٹ کیا جا سکے گا اور نیٹ ورک بدلنے کے لیے سم بدلنا ضروری نہیں ہوگا، اس فیچر سے ایسے افراد جو ایک ملک سے دُوسرے ملک سفر کرتے ہیں انہیں بہت فائدہ ہوگا اور وہ جب چاہیں جہاں چاہیں سم کارڈ بدلے بغیر اپنا نیٹ ورک تبدیل کر سکیں گے۔

نمبر 2 نینو ٹیک بیٹری

لیتھیم ایون بیٹری نے سمارٹ فون بنانے والوں کی بڑی مشکل آسان کر دی تھی کیونکہ یہ بیٹری لمبا عرصہ تک چارج رہتی تھی اور جلدی خراب نہیں ہوتی تھی لیکن اس بیٹری کے باوجود سمارٹ فون استعمال کرنے والی بیٹری کو دیر چارج کرنے کی جھنجٹ سے آزاد نہیں تھے۔

2015 میں سام سنگ گلیکسی ایس 5 میں نینو بیٹری ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی، یہ ٹیکنالوجی بیٹری کو 0 سے 100 فیصد تک صرف ایک منٹ میں چارج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن لیتھیم بیٹری کی نسبت یہ زیادہ دیر تک چارج نہیں رہ پاتی لیکن اب اس بیٹری کو بنانے والی کمپنی سام سنگ کے ساتھ ملکر اپنی اس بیٹری کو جدید طرز پر موبائل فونز میں متعارف کروانے جا رہی ہے جسکے بعد موبائل چارج کرنا صرف ایک منٹ کا کھیل رہ جائے گا۔

نمبر 3 فوٹینک کرسٹل ڈسپلے

آپ نے سمارٹ فونز کو ایل سی ڈی، ایل ای ڈی اور او ایل ای ڈی ڈسپلے میں دیکھ لیا ہے مگر یہ ڈسپلے سُورج یا اور کوئی تیز روشنی میں مانند پڑ جاتے ہیں لیکن اب فوٹینک کرسٹل ڈسپلے سکرینز نینو سٹرکچر کے ساتھ موبائل فونز میں متعارف ہونے والی ہیں جو تیز روشنی میں بھی ڈسپلے کو مدہم نہیں ہونے دیں گی اور یہ سکرینز فولڈ بھی کی جاسکیں گی، سام سنگ فلیکس ایبل سکرینز کو 2013 میں کرسٹل ڈسپلے کے ساتھ متعارف کروا چُکا ہے لیکن اب یہ ٹیکنالوجی جدید طرز پر نئے آنے والے موبائز میں دیکھی جا سکے گی۔

نمبر 4 سراونڈ ساؤنڈ ہیڈ فونز

ہیڈ فونز بنانے والی کمپنیاں سراونڈ ساونڈ سسٹم کو ہیڈ فونز میں اُس طریقے سے متعارف نہیں کروا پائیں جیسے سراونڈ ساونڈ سپیکر سسٹم ہوتے ہیں لیکن اب ڈی ٹی آیس بنانے والے اس تنکید کو منہ توڑ جواب دینے والے ہیں اور موبائلز فونز میں 7.1 ساونڈ سسٹم متعارف کروانے جا رہے ہیں جس کی پھیلنے والی آواز سے آپ عام ہیڈ فون سے بھی لطف اندوز ہو پائیں گے۔

نمبر 5 بائیو میٹرک فونز

آئی فون 6 اور سام سنگ گلیکسی ایس 6 میں اگرچہ ان فون بنانے والی کمپنیوں نے انگوٹھا سکین کرنے کی صلاحیت رکھی تھی لیکن سیکورٹی نقطہ نگاہ سے یہ صلاحیت کئی ڈیٹا پوائنٹس کو پوری طرح محفوظ نہیں بنا پائی تھی چنانچہ نئے آنے والے فونز میں تھم سکین کی بجائے فیس سکین متعارف کروایا گیا لیکن اب کولکوم ٹیلی کمیونیکشن نے ایک ایسا الٹرا سونک فنگر سکینر متعارف کروایا ہے جس میں سکینر ریزولوشن کو کئی گُنا بڑھا دیا گیا ہے تاکہ انگلی ٹھیک سے سکین ہو اور سیکورٹی کے لیک ہونے کا خدشہ نہ رہے۔

نمبر 6 ورچول رئیلٹی

آپ نے وی آر کو بازار میں فیل ہوتے دیکھ لیا ہے لیکن اب نئے آنے والے فونز میں ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جارہی ہے جس میں وی آر کے بغیر فون 4 کے تک ورچول ریئلٹی دیکھانے کی صلاحیت رکھتا ہوگا اور آپ وی آر جیسی ڈیوائسس کو ماتھے پر باندھنے کے پابند نہیں رہیں گے۔

نمبر 7 گرافین

میٹریل سائنس میں گرافین کی ایجاد کسی جادو سے کم نہیں کیونکہ یہ میٹریل سٹیل سے 200 گُنا زیادہ مضبوط اور فلیکس ایبل ہونے کیساتھ الیکٹرک کنڈیکٹینگ ہونے کی وجہ سے الیکٹریکل ڈیوائسس کو نئی جہت دینے والا ہے۔

سمارٹ فون میں گرافین کا استعمال سمارٹ فونز کو مزید ہلکا اور وزن میں انتہائی کم اور سٹیل سے 200 گنا زیادہ مضبوط بنانے جا رہا ہے اور اس میٹریل کو فون میں استعمال کرنے کے لیے سام سنگ آجکل اس پر کام کر رہی ہے اور امید ہے کے آئندہ آنے والے سال میں آپ اس میٹریل سے بنے فونز خرید پائیں گے۔

نمبر 9 ڈاکٹر فون میں

نئے جدید فونز میں ایسے فیچرز متعارف کروائے جارہے ہیں جو جسم کے اندر جراثیموں کو دیکھ پائیں گے اور حال ہی میں Athelas نام سے ایک سوفٹ وئیر بنایا گیا ہے جو ایبولا وائرس کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس طرح کے فونز اور سوفٹ وئیرز مستقبل میں فون کو ایک بہترین میڈیکل لیب اور ڈاکٹر بنانے والے ہیں جو بیماری کی تشخیص منٹوں اور سیکنڈز میں کر دے گا اور اس وقت بھی سمارٹ فونز آپ کو بلڈ پریشر، شوگر اور ہارٹ ریٹ وغیرہ چیک کرنے کی آپشن دیتے ہیں لیکن جدید فونز کینسر تک کو ڈائیگنوز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

نمبر 10 سمارٹ کیمرہ

کول کوم کمپنی نے 2015 میں ایسا کیمرہ متعارف کروایا جو چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا تھا آپ کیمرے کو کسی بھی چیز پر فوکس کرنے کے بعد جان جاتے تھے کہ یہ کیا ہے اور اب یہ ٹیکنالوجی نئی طرز پر جدید طریقے سے نئے فونز میں متعارف کروائی جانے والی ہے کیونکہ گوگل اپنی فوٹو دیٹا بیس کو اس ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک کرنے والا ہے جس کے بعد آپ کسی بھی نئی چیز کو کیمرے کے ساتھ پہچان جائیں گے کہ یہ کیا ہے اور کس کام آتی ہے۔

Featured Image Preview Credit: Superdiddly, CC BY-SA 3.0, via Wikimedia Commons