شادی سے پہلے 8 ضروری میڈیکل ٹیسٹ جو بعد میں تعلقات کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں

Posted by

شادی صرف 2 انسانوں کے آپس میں تعلق کا نام نہیں ہے بلکے یہ 2 خاندانوں کو آپس میں جوڑتا ہے اور اس ازواجی رشتے کی برکت سے کئی خاندان پیدا ہوتے ہیں اس لیے اس تعلق کو جوڑنے سے پہلے ایک دُوسرے کے متعلق سب کُچھ جاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔

G:\Pics Sharing\wedding-2412827_1280.jpg

اس آرٹیکل میں ہم 8 ایسے میڈیکل ٹیسٹوں کو شامل کر رہے ہیں جو شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی دونوں کو کروانا ضروری ہے تاکہ اُن معلومات تک شادی سے پہلے رسائی ہو سکے جن معلومات کا شادی کے بعد پتہ لگنا تعلقات میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔

نمبر 1 ایچ آئی وی ٹیسٹ

اگر یہ جان لیوا بیماری خدانخواستہ دونوں میں سے کسی ایک کو بھی ہے تو شادی کے بعد متاثرہ فریق اپنے ساتھی کو بھی اس بیماری میں مُبتلا کر دے گا چنانچہ اس ٹیسٹ کو کروانا ایک انتہائی ضروری چیز ہے اور پاکستان میں یہ ٹیسٹ تقریباً 2 ہزار روپئے میں کروایا جاسکتا ہے۔

نمبر 2 اصلی عُمر کا ٹیسٹ

اس ٹیسٹ کے ذریعے شادی کرنے والوں کی ٹھیک عُمر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، عُمر کے بڑھنے کے ساتھ خواتین میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے اور عُمر کے یہ اثرات مردوں کو بھی متاثر کرتے ہیں، ہمارے معاشرے میں عام طور پر شادی کے بعد اگر اولاد نہیں ملتی تو میاں بیوی کے رشتے میں دراڑیں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں اور اکثر مرد حضرات اولاد کے لیے دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں اس لیے اس ٹیسٹ کو شادی سے پہلے ہی کروا لیا جائے تو اچھی بات ہے۔

نمبر 3 فرٹیلٹی ٹیسٹ

اگر میاں بیوی میں بچہ پیدا نہ ہو رہا ہو تو یہ ٹیسٹ سب سے زیادہ ضروری ٹیسٹ ہے جس سے پتہ چلایا جاتا ہے کہ پرابلم مرد کیساتھ ہے یا خاتون کے ساتھ اس لیے اگر اسے شادی سے پہلے ہی کروا لیا جائے تو کئی مُشکلات کو بر وقت حل کیا جا سکتا ہے۔

نمبر 4 اوری ٹیسٹ

یہ ٹیسٹ خواتین کے لیے ضروری ہے کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کو ماں بننے میں کوئی مُشکل تو نہیں ہوگی، عام طور پر خواتین شادی سے پہلے اس ٹیسٹ کو کروانے سے گھبراتی ہیں کیونکہ اگر اس ٹیسٹ سے کوئی خرابی نکل آئی تو شادی کے لیے مشکل ہوگی حالانکہ آج کی میڈیکل سائنس میں ان بیماریوں کا علاج موجود ہے اور بیماری کا جتنی جلدی پتہ چل جائے علاج اُتنا ہی سہل ہو جاتا ہے۔

نمبر 5 سیمن ٹیسٹ

سیمن ٹیسٹ میں مرد اور عورت دونوں کے سیمینز ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ یہ جانا جا سکے کے دونوں بچہ پیدا کرنے کے لیے بلکل صحت مند ہیں۔

نمبر 6 جنسی معائنہ

یہ معائنہ گُزرے وقت کی بہت سی تہذیبوں میں انتہائی ضروری مانا جاتا تھا اور عام طور پر سوسائٹی کے امیر اشخاص شادی سے پہلے معالج سے خواتین کا معائنہ کرواتے تھے مگر اس معائنے کی خواتین اور مرد دونوں کو ضرورت ہے کیونکہ کئی ایسی بیماریاں جو ایک سے دُوسرے کو لگنے کا خدشہ ہوتا ہے جانی جا سکیں اور بڑی مشکل سے بچا جا سکے۔

نمبر 7 بلڈ ٹیسٹ

خون کے اس معائنے سے جانا جاتا ہے کہ خُون میں کوئی ایسی خرابی تو نہیں جو پیدا ہونے والے بچے کو متاثر کرے اور اُسے بھی لاحق ہو جائے لہذا بہت ضروری ہے کہ یہ ٹیسٹ بچہ پیدا کرنے سے پہلے کروا کر علاج کروا لیا جائے۔

نمبر 8 ڈی این اے ٹیسٹ

اس ٹیسٹ کی مدد سے خاندانی بیماریوں کا پتہ چلایا جا سکتا ہے اور یہ ٹیسٹ بھی بہت ضروری ہے تاکہ صحت مند زندگی کے حصول کے لیے بیماری پیدا ہونے سے پہلے حفاظتی تدابیر اخیتار کی جاسکیں۔