شدید گرمی سے جسم میں نمک کی کمی جان لیوا ہوسکتی ہے یہ علامات نظر انداز نہ کریں

Posted by

پچھلے چند سالوں سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی اور ممالک میں گرمی شدید تر ہوتی جا رہی ہے اور یہ صورتحال جہاں ماحولیاتی طور پر سنگین ہے وہاں یہ انسانی و حیوانی صحت کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے اسی لیے دُنیا کے ممالک کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹس شدید گرمی کی صورت میں اپنے شہریوں کے لیے الرٹس جاری کرتے ہیں تاکہ وہ موسم کی شدت سے بچ سکیں اور انہیں الرٹس میں سے ایک الرٹ جسم میں نمک یعنی سوڈیم کی کمی کے بارے میں بھی دیا جاتا ہے۔

نمک میں زیادہ تر سوڈیم پایا جاتا ہے اور یہ ایک ایسا منرل ہے جو ہمارے جسم میں کئی اہم کام سرانجام دیتا ہے خاص طور پر یہ ہمارے سیلز میں پانی کی مقدار کو تناسب میں رکھتا ہے اور اس کی کمی اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم میں پانی اور سوڈیم کا توازن خراب ہو جائے۔

علامات

File:Headache.png
Injurymap, CC BY 4.0, via Wikimedia Commons

سوڈیم کی کمی سے پیدا ہونے والی علامات ہر فرد میں علیحدہ ہو سکتی ہیں۔ اگر سوڈیم جسم میں آہستہ آہستہ کم ہوا ہے تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو کوئی ابتدائی علامات محسوس نہ ہوں لیکن اگر سوڈیم جسم میں اچانک کم ہُوا ہے جیسے شدید پسینہ آنے سے تو آپ کمزوری محسوس کر سکتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ تھکاوٹ، سردرد، متلی، الٹی، پھٹوں میں درد، کنفویژن اور ڈائیریا اور طبیعت خراب محسوس کر سکتے ہیں۔

سوڈیم کی اچانک کمی ماہرین کے نزدیک ایک میڈیکل ایمرجینسی ہے جسکی صورت میں فوری طبی امداد لازمی ہوتی ہے کیونکہ زیادہ دیر تک اس منرل کی جسم میں کمی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے اس لیے ایسے موقع پر فوری ہسپتال ایمرجینسی میں چلے جانا چاہیے۔

سوڈیم کی کمی کی وجوہات

sodium4

میڈیکل سائنس میں سوڈیم کی کمی کو ہپنوتھرمیا کہا جاتا ہے اور اس کے پیدا ہونی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں پسینہ آنا، بہت زیادہ الٹی اور ڈائیریا ہونا، جسم میں پانی کی کمی، گُردے کی خرابی، جگر کی خرابی، دل کی کوئی بیماری، ہارمونز کی خرابی وغیرہ شامل ہیں۔

اس بیماری کا خدشہ ان افراد کو زیادہ ہے جو گرم علاقوں میں رہتے ہیں، جن کی عمر زیادہ ہے، زیادہ پانی پینے والے، اینٹی ڈپریسنٹ گولیاں کھانے والے، کھانے میں نمک استعمال نہ کرنے والے، اور دل، جگر اور گُردوں کے مریض۔

کیسے بچنا ہے؟

سوڈیم کی کمی سے بچنے کے لیے جسم میں الیکٹرولائٹس اور پانی کا تناسب ٹھیک رکھنا چاہیے۔ گھر سے باہر جاتے وقت پانی کی بوتل ساتھ رکھیں اور وقفے وقفے سے اسے پیتے رہیں اسی طرحاگر آپ ورزش کرتے ہیں تو ورزش کے دوران لازمی پانی استعمال کریں اور زیادہ گرمی کی صورت میں اس پانی میں نمکول یا نمک وغیرہ بھی ڈال کر پیئں۔ شدید پسینہ آنے کی صورت میں یا الٹی اور ڈائیریا کی صورت میں زیادہ پانی استعمال کریں اور اس پانی میں الیکٹرولائٹس یعنی نمکول بھی شامل کریں اور سارا دن تھوڑی تھوڑی دیر بعد اسے پیتے رہنا طبیعت کو جلدی بحال کر دیتا ہے۔

نوٹ: سوڈیم کی کمی کا اگر علاج نہ ہو تو یہ کمی درجہ ذیل بیماریوں کو دعوت دے دیتی ہے جن میں اوسٹیوپروسس، برین سوزش، برین انجری اور ڈیتھ۔ پاکستان میں گرمی میں ہسپتالوں میں ایمرجینسی لگائی جاتی ہے خاص طور پر ڈائیریا کے مریضوں کے لیے اس لیے زیادہ الٹی اور ڈائیریا کی صورت میں فوراً ہسپتال چلے جائیں تاکہ طبی ماہرین آپ کی جان بہتر طریقے سے بچا سکیں۔