ماہرین نفسیات کے مطابق اگر آپ کے بچے کو کوئی دُوسرا بڑا ڈانٹے تو کیا کرنا چاہیے

Posted by

والدین کو یہ بات اکثر ناگوار گُزرتی ہے اگر اُن کے بچے کو کوئی دُوسرا ڈانٹے، اور یہ چیز اُن کے اندر ایسے آدمی کے لیے منفی تاثرات کو جنم دینے کا باعث بھی بنتی ہے اور ان تاثرات سے دماغ میں خطرہ پیدا ہوتا ہے جس سے دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے اور جسم میں ایسے ہارمونز کی مقدار بڑھتی ہے جو آپ کو لڑائی کرنے پر اُکساتے ہیں۔

پاکستان میں ایسے موقع پر اکثر بڑے آپس میں لڑ پڑتے ہیں اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ لڑائی شدت اختیار کر جائے جس سے بڑے نقصان ہو جاتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ماہرین نفسیات کے بتائے ہُوئے 8 اُن اقدمات کو شامل کیا جا رہا ہے جو وہ تاقید کرتے ہیں کہ والدین ایسی صورتحال میں جب کوئی اور بڑا آپ کے بچے کو ڈانٹ رہا ہو اور اُس کا انداز ناپسندیدہ ہو، لازمی اختیار کریں۔

اپنی موجودگی کا احساس دلائیں: ایسے کسی بھی موقع پر ایسے فرد کو اپنی موجودگی کا احساس دلائیں کیونکہ ایسا کرنے سے صورتحال فوری طور پر بدل جائے گی اور آپکا بچہ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرے گا اور ڈانٹنے والے کا گفتگو کا انداز، بدلنے پر مجبور ہوگا۔

صورتحال کو جانیں: غصہ آپکو کبھی بھی اچھا مشورہ نہیں دے گا اس لیے ضروری ہے کہ اپنے دماغ کو ٹھنڈا رکھیں اور پہلے صورتحال کو اچھی طرح سمجھیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ آپ کے بچے سے ہی کوئی غلطی ہُوئی ہو جیسے عام طور پر بچے کوئی چیز توڑ دیتے ہیں، کسی دُوسرے بچے سے ٹکرا جاتے ہیں وغیرہ۔ ایسے موقع پر آپ کے اندر جتنا بھی غُصہ ہو اُسے ظاہر نہ ہونے دیں اور تحمل سے پُوچھیں کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں یا کیا ہُوا جناب وغیرہ۔

بچے کے جذبات: ایسے وقت پر آپ کا بچہ خوفزدہ ہو سکتا ہے اس لیے ضروری ہے کے اپنے تاثرات سے اُسے آگاہ کریں تاکہ اُسے لگے کہ آپ اُس کے احساسات کو سمجھ گئے ہیں اور اُس کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ اس مقصد کے لیے بچے سے آرام سے پُوچھیں کہ کیا ہُوا تھا؟۔ اس سٹیج پر اپنے فیصلے کو فوراً صادر مت کریں بلکہ اُسے ہولڈ کر کے رکھیں اور بچے سے پُوری کہانی سُن لیں اور پھر اپنی عقل سے اسکا حساب لگائیں۔

دُوسرے آدمی کو آگاہ کریں: دُوسرے آدمی سے دوستانہ انداز میں بات کرتے ہُوئے اُس اسے بات آگاہ کریں کہ آپ بچوں کے نظم و ضبط کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور ساتھ ہی اس بات سے آگاہ کریں کہ اُس کے انداز سے آپ کو پریشانی ہوئی ہے اور یقیناً اگر وہ بطور والدین اس صورتحال کو دیکھتا تو وہ بھی پریشان ہوتا۔

مذاق: ایسے موقع پر اگر آپ محسوس کریں کے دُوسرا آدمی اپنے کسی نقصان کی وجہ سے غُصے میں ہے تو بات کو مذاق کا رنگ دیکر ٹالنے کی کوشش کریں جیسے اگر اُس کی موٹر سائیکل کو کوئی نقصان ہُوا ہے تو آپ مسکراتے ہُوئے کہہ سکتے ہیں "یہ صبح سے پانچویں موٹر سائیکل ہے جسے اس سے نقصان پہنچا ہے”۔ انسان کے اندر حس مزاح کسی انتہائی سنجیدہ صورتحال کو بھی بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ ذہنی تناؤ پر فوری طور پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے۔

حد کا تعین کریں: اگر بچے کو ڈانٹنے والا اُس کا کوئی اُستاد ہے، کوچ ہے، رشتہ دار ہے تو آپ کے لیے ضروری ہے کہ بچے کے لیے حد کا تعین کریں کیونکہ آپ بچے سے دوبارہ ایسی حرکت نہیں چاہتے، اس لیے بچے کی آنکھوں میں دیکھتے ہُوئے تاکہ اُس اپنے کیے پر ندامت ہو اُسے بتائیں کہ گھر جا کر یہ بات دوبارہ ڈسکس ہوگی اور گھر میں اُسے دوبارہ صحیح اور غلط کی پہچان کروائیں۔

بچے کو صورتحال سے آگاہ کرنا: اگر بچے نے کسی دُوسرے بچے کا کھلونا اُٹھایا ہے تو اُسے سمجھائیں کہ اگر وہ آپ کا کوئی کھلونا اُٹھا لیتا تو آپ کو کیسا لگتا، اس طریقے سے اُس کے اندر احساس کو قوت کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے رہا کریں کیونکہ احساس ایک ایسی چیز ہے جو معاشرے کو جنت بنا دیتی ہے۔

آپکا غصہ: بچے اگر کلاس میں کوئی بدتمیزی کرتے ہیں تو ٹیچر کا حق بنتا ہے کہ وہ والدین کو اس بات کی آگاہی دیں کیونکہ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ بچے کو معاشرے کے مطابق تہذیب اور صیح اور غلط میں اچھی طرح پہچان کروائیں لیکن ایک چیز کو لازمی یاد رکھیں کہ آپکا غصہ اور لہجے کی سختی اچھی سے اچھی بات کے اثر کو بھی زائل کر سکتا ہے اور بچوں پر چلانا اُن کی شخصیت کی خود اعتمادی میں کمی پیدا کرتا ہے، اُن کے ذہنی تناؤ میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور اُنہیں خوف جیسی بیماری میں مبتلا کرنے کا باعث بنتا ہے۔