ماہرین کے مطابق چھوٹے بھائی بہن زیادہ ہنس مُکھ اور مزاحیہ ہوتے ہیں

Posted by

مالک مُلک کی کائنات میں پیدا ہونے کا ایک لُطف یہ بھی ہے کہ 7 ارب سے زیادہ کی آبادی والی زمین پر آپ جیسا کوئی نہیں ہے اور آپ اپنی ذات کے ماسٹر پیس ہیں آپ کی انگلیوں کی پوریں تک کسی سے نہیں ملتی اور ایک ہی ماں کے پیٹ میں پلنے والے بہن بھائی ایک دُوسرے سےعادات میں، خصائل میں، شخصیت میں بلکہ ہر چیز میں ایک دُوسرے سے جُدا ہیں۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ شخصیت میں جُدا ہونے کے علاوہ بھی ایسی لاتعداد چیزیں ہیں جو ہمیں انسان کی فطرت کو سمجھنے کے لیے توجہ دلاتی ہیں اور ان چیزوں میں سے ایک چیز بچوں کی پیدائش کی ترتیب بھی ہے اور یہ چیز بچوں کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے اور گھر کے چھوٹے بچے بڑے بچوں کی نسبت زیادہ پرمزہ طبیعت اور زندگی سے بھرپور ہوتے ہیں۔

اس آرٹیکل میں ہم ماہرین نفسیات کی رائے کیساتھ اُن تھیوریز کا بھی ذکر کریں گے جو گھر کے بُدھو اور سمجھدار ہونے میں پیدائش کی ترتیب کو بھی ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور انہیں پڑھ کر ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہمارے چھوٹے بہن بھائی جنہیں ہم کبھی بُرا بھلا بھی کہہ دیتے ہیں درحقیقت وہ بچپن سے ہماری زندگی میں روشنی کرتے چلے آرہے ہیں اور اب ماہرین بھی اُن کی خوبیوں کے گُن گا رہے ہیں ۔

پیدائش کی ترتیب شخصیت کو ساخت دیتی ہے

File:Johann Nepomuk Mayer - Three Siblings.jpg
Johann Nepomuk Mayer / Public domain

سائیکالوجیسٹس اور بچوں کے بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ پیدائش کی ترتیب اور بہن بھائی شخصیت کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ایک ہی گھر میں پیدا ہونے والے بچے ایک دُوسرے سے بلکل مختلف طبیعت اور عادات رکھتے ہیں اور عام طور پر گھر کے چھوٹے بچے زیادہ خُوبصورت اور بڑے ہو کر زیادہ پُرکشش اور حسین دیکھائی دیتے ہیں۔

چھوٹے زیادہ مزاحیہ طبیعت کے حامل اور ہنس مُکھ ہوتے ہیں

C:\Users\Zubair\Downloads\pxfuel.com (10).jpg

ہنسی مذاق غم اور پریشانی کو دُور کرتےہیں، نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر کے چھوٹے بڑوں کی نسبت زیادہ مزاحیہ طبیعت کے حامل ہوتے ہیں اور اپنی اس صلاحیت سے وہ گھر کے بڑوں کو ہمیشہ ہنستے مُسکراتا رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اُنہیں غم میں نہیں دیکھ سکتے چنانچہ وہ بڑوں کی سنجیدہ طبعیتوں میں مُسکراہٹوں کے پھول کھلاتے رہتے ہیں۔

امریکہ میں ہونے والے ایک سروے میں 18 سال تک کی عُمر کے بہت سے بہن بھائیوں سے جب یہ سوال پُوچھا گیا کہ آپ میں سے زیادہ پُرمزہ کون ہے تو 70 فیصد سے زیادہ بچوں نے چھوٹے بہن بھائیوں کی طرف اشارہ کیا۔

قُدرتی مددگار ہوتے ہیں

دُنیا میں عام طور پر اگر آپ کو کبھی کسی بھی کام میں مدد کی ضرورت ہو تو آپ دوست احباب سے مدد کی درخواست کرتے ہیں لیکن یہ درخواست چھوٹے بہن بھائیوں سے نہیں کرنی پڑتی کیونکہ وہ آپ کی درخواست سے پہلے ہی آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے چھوٹے بہن بھائی ہوتے ہیں۔

زیادہ بہادر اور مضبوط ہوتے ہیں

C:\Users\Zubair\Downloads\brothers-1507696_1920.jpg
Resim Adina Voicu tarafından Pixabay‘a yüklendi

عام طور پر ماں باپ جو پیار اور توجہ گھر کے پہلے بچوں کو دیتے ہیں وہ بعد میں پیدا ہونے والوں کو نصیب نہیں ہوتی اور یہی چیز چھوٹے بچوں کی شخصیت کو مضبوط بناتی ہے وہ بڑوں کی نسبت زیادہ بہادر اور نڈر ہوتے ہیں بلکہ بڑوں کو بھی اپنی اس صلاحیت سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔

زیادہ ذہین ہوتے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے بہن بھائی جب دیکھتے ہیں کہ والدین بڑوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں تو اس بات سے اُن کو رنج ہوتا ہے چنانچہ وہ والدین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے زیادہ سوچ وچار کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور اپنی سوچ وچار کی ہوئی حرکتوں سے ضروری نہیں کہ اُنہیں کامیابی ملتی ہو چنانچہ وہ ان حرکتوں پر بڑوں کی مار کھا کر ناکامی سے بھی آشنا ہوتے ہیں اور صحیح غلط کی پہچان زیادہ ذہانت سے کرتے ہیں۔

پراعتماد اور سوشل ہوتے ہیں

C:\Users\Zubair\Downloads\outdoor-people-backpack-cute-evening-portrait-1179140-pxhere.com.jpg
Resim Adina Voicu tarafından Pixabay‘a yüklendi

ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے بڑوں کی نسبت زیادہ سوشل ہوتے ہیں اور اسکی ایک وجہ اُن کا ہنس مُکھ ہونا اور حس مذاح سے بھرپور ہونا بھی ہے اور سوشل ہونے کی وجہ سے وہ بڑوں کی نسبت زیادہ پُر اعتماد ہوتے ہیں۔

تخلیقی ہوتے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو بچے بچپن میں زیادہ شرارتی ہوتے ہیں اُن میں تخلیقی صلاحیتیں سنجیدہ بچوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں اُن کا دماغ زیادہ تیز کام کرتا ہے اور وہ جلد مسائل کا حل ڈھونڈنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

چھوٹے بہن بھائیوں کے مسائل

گھر میں چھوٹا ہونا آسان بات نہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر کے چھوٹے بچے ماں باپ کی مناسب توجہ نہ ملنے پر احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں خاص طور پر اُس وقت جب ماں باپ صرف بڑے بچوں کی تعریف کرتے ہوں اور چھوٹوں کو ہمیشہ اُن کی مثال دیتے ہوں، یہ چیز چھوٹوں کو بڑے خطرات مول لینے کے لیے مجبور کرتی ہے اور وہ بڑا سکور کرنے کے لیے حدوں کو پار کرنے کی کوشش میں غلطی کر جاتے ہیں۔