موت کے بعد کیا ہوتا ہے طبعی موت کے بعد زندہ ہونے والوں کے چونکا دینے والے انکشافات

Posted by

زندگی میں موت کا ذائقہ ہر ذی روح نے چکھنا ہے اور یہ ذائقہ کیسا ہے اس کے متعلق کوئی بھی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی اور اسے چکھنے والا ذائقہ بتانے کے لیے زندہ نہیں رہتا چنانچہ یہ ایک معمہ ہے جو سب پر ہی اپنے اپنے وقت پر کُھلنا ہے لیکن پھر بھی ہر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے اور یہ جواب صرف مرنے والے ہی دے سکتے ہیں لہذا اس آرٹیکل میں موت کے متعلق اُن لوگوں کی رائے کو شامل کیا جا رہا ہے جنہیں طبعی طور پر مُردہ قرار دے دیا گیا لیکن تقدیر سے وہ بچ گئے۔

طبعی طور پر مرنے والوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں مرنے والوں نے اپنے دلچسپ تجربات کا ذکر کیا اور تحقیق کے نتائج میں ان مرنے والوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا جن میں ایک کی رائے تھی کے مرنے کے بعد اُنہوں نے کچھ محسوس نہیں کیا، دوسرے گروپ کے لوگوں نے روشنی دیکھی تھی اور تیسرے گروپ کے مطابق انہوں نے کسی سے گفتگو کی تھی۔

اس تحقیق میں شامل ایک شخص نے اپنا تجربہ بیان کیا”میں فروری 2014 میں ایک ورک میٹنگ کے دوران گر گیا تھا اور میری دل کی دھڑکن اور نبض پانچ منٹ کے لیے رک گئی تھی۔ میری آخری یادداشت گرنے سے ایک گھنٹہ پہلے کی تھی اور اگلی یاد دو دن بعد تھی میں اس وقت کے درمیان ہونے والے تمام واقعات بھول گیا تھا اور تمام وقت کومہ میں رہا لیکن اس دوران میں نے دیکھا کے روشنی کی ایک بہت بڑی دیوار ہے میں جسکے پاس کھڑا ہوں اور بس میں وہیں کھڑا ہوں اور پھر وہ دیوار وہاں سے ہٹ گئی اور میری آنکھ کھلی تو میں ہسپتال میں تھا۔

تحقیق میں شامل ایک خاتون نے بتایا کہ وہ ہارٹ اٹیک کے باعث شدید نگہداشت وارڈ میں تھی اور ڈاکٹر اُسے وینٹی لیٹر پر منتقل کر رہے تھے پھر اُس کے آنکھوں کی بینائی دھندلی ہوئی اور پھر ہر طرف اندھیرا چھا گیا وہ 3 دن تک اسی طرح بے ہوشی میں رہی اور جب تین دن بعد اُسے ہوش آیا اور اُس کا کہنا تھا کہ اس دوران اُس نے کوئی چیز نہیں دیکھی۔

ایک شخص نے بتایا کہ اُس نے حد سے زیادہ نشہ آور ادویات کا استعمال کیا تھا جس کے بعد وہ گر گیا تھا گرنے کے کچھ دیر بعد اُس نے دیکھا کہ اُس کا جسم سڑک پر پڑا ہے اور وہ خود یعنی اُس کی روح سٹرک پر کھڑی ہے اور پھر وہ لوگوں سے گفتگو کر رہا ہے لیکن کوئی اسے جواب نہیں دے رہا۔

موت کے بعد کیا ہوتا ہے اس بارے میں اہل علم بتاتے ہیں کہ ہر آدمی روزانہ اس چیز کا تجربہ کرتا ہے کیونکہ نیند کی حالت میں جانا اہل علم کے نزدیک 90 فیصد موت ہے اور نیند کے دوران اگر دماغ خواب نہ بُن رہا ہو تو انسان کچھ بھی محسوس نہیں کر رہا ہوتا۔ اللہ پاک سورہ یاسین میں گہنگاروں کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب قیامت کے دن اُٹھائے جائیں گے تو وہ کہیں گے ” ہائے ہائے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے جگا دیا”۔ اس ارشاد کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ وہ افراد کسی ایسی نیند میں تھے جس سے جاگنا انہیں اچھا نہیں لگا لیکن یہ جاگنا ہمارے رب کا ایک وعدہ ہے جو عنقریب پورا ہو جائے گا اس لیے ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک سب کو ایمان اور یقین کے ساتھ اس دنیا سے لیکر جائے اور کامیاب کر دے۔