بیکینگ سوڈا پسینے کی بدبُو سے نجات دیتا ہے

Posted by

گرمیوں میں پسینہ زیادہ آتا ہے اور پسینے سے پیدا ہونے والی بدبُو ناگوار لگتی ہے، میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ پسینے کی اپنی کوئی Smell نہیں ہوتی اور پسینہ odorless ہوتا ہے لیکن کیونکہ پسینے میں پروٹین کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جسے توڑنے کے لیے جسم پر موجود بیکٹریا اپنی کاروائی شروع کرتا ہے اور پسینے کو Acid میں تبدیل کردیتا ہے اور یہ Acid بدبُو دار ہوتا ہے۔

بیکٹریا کا علاج

جسم پر موجود بیکٹریا اچھی طرح نہانے کے بعد بھی موجود رہتا ہے اور وقتی طور پر اس کی تعداد کم ہوجاتی ہے مگر وقت گُزرنے کے ساتھ یہ اپنی آبادی کو بڑھاتا جاتا ہے اور جہاں پسینہ زیادہ آرہا ہو وہاں اس کی آبادی بڑھانی کی رفتار مزید تیز ہو جاتی ہے اور یہ پسینے کو Acid میں تبدیل کر کے بدبو دار بنا دیتا ہے اس لیے پسینے سے بدبو ختم کرنے کے لیے بیکٹریا کا علاج ضروری ہے۔

نمبر 1 غیر ضروری بالوں کی شیو

کپڑوں کے نیچے جسم کے جن حصوں پر زیادہ بال ہوتے ہیں وہاں اور پاؤں پر سے پسینہ جلد خُشک نہیں ہو پاتا اور بیکٹریا کو اپنا کام دیکھانے کا موقع مل جاتا ہے اور جو لوگ ریگولر ایسے بالوں کی صضائی کر دیتے ہیں وہ پسینے کی بدبو سے محفوظ رہتے ہیں۔

نمبر 2 بیکینگ سوڈآ

بیکینگ سوڈا بیکٹریا کو پسینے میں شامل پروٹین توڑنے نہیں دیتا اور اپنے سے دُور رکھتا ہے، نہانے کے بعد تھوڑا بیکینگ سوڈا بغلوں میں لگا لیا جائے اور پاؤں پر مل لیا جائے تو یہ آپ کے پسینے کی بدبو ختم کردیتا ہے اور آپ کو ایک لمبا عرصہ تک بیکٹریا کی کاروائی سے محفوظ رکتھا ہے۔

نمبر 3 روزانہ نہانہ

جو لوگ روزانہ کسی جراثیم کش صابن سے نہاتے ہیں اور کپڑے تبدیل کر لیتے ہیں وہ بھی پسینے کی اس ناگوار بدبو سے محفوظ رہتے ہیں۔

نمبر 4 ٹالکم پاؤڈراور Deodorants

ٹالکم پاؤڈر پسنے کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور بیکٹریا کو اُسے Acid بنانے نہیں دیتا اسی طرح بازار میں بکنے والے Deodorants Spray جہاں اضافی خُوشبو پیدا کرتے ہیں وہاں پسینے کے ٹُوٹنے کے عمل کو سُست کر دیتے ہیں جس سے بدبو پیدا نہیں ہوتی۔