وٹس ایپ کے اس فیچر سے آپ کا سارا ڈیٹا چوری ہو سکتا ہے

Posted by

واٹس ایپ دنیا کی سب سے پسندیدہ اور مقبول میسجنگ ایپس میں سے ایک ہےاس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایپ اپنے صارفین کو ہر قسم کی خصوصیات دیتی ہے اور ان کی حفاظت کا بھی خیال رکھتی ہےواٹس ایپ کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فیچر صارف کی چیٹس، تصاویر اور ویڈیوز وغیرہ محفوظ رکھتی ہے اور صرف بھیجے جانے والے کو دیکھنے کی اجازت ہوتی ہے اتنی احتیاط کرنے کے بعد بھی سائبر چور یعنی ہیکرز اپنا راستہ تلاش کر لیتے ہیں اور سیکورٹی کے بلیک ہولز کے راستے ہیکر آپ کے وٹس ایپ اکاونٹ کی معلومات تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

اس آرٹیکل میں وٹس ایک کی سیکورٹی کے ایک ایسے ہی بلیک ہول کے متعلق آپ کو بتایا جائے گا جس کے ذریعے ہیکر حضرات نئے طریقے سے آپ کے وٹس ایپ کی معلومات تک رسائی حاصل کر رہے ہیں اور اس طریقے کو "آؤٹ آف باؤنڈز ریڈ رائٹ وولنیریبلٹی” کہا جاتا ہے اور چیک پوائنٹ ریسرچرز وٹس ایپ کے صارفین کو اس کے متعلق آگاہ کر رہے ہیں۔

وٹس ایپ کا تازہ بگ

چیک پوائنٹ کے محقیقن کا کہنا ہے کہ یہ بگ وٹس ایپ کی فروری اپ ڈیٹ ایمج فلٹر فیچر کیساتھ آیا ہے جسکے ذریعے ہیکر صارف کو نامناسب تصویر بھیج کر اس ایمج فلٹر کے استعمال سے اکاؤنٹ ہیک کر سکتا ہے۔

چیک پوائنٹ ریسرچر نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایسا کرنا آسان کام نہیں ہےاس میں کامیاب ہونے کے لیے ہیکر کو ایک طویل عمل سے گزرنا پڑتا ہےہیکر کو پہلے نامناسب تصویر بنانی ہوتی ہے اورپھر جب صارف اس نامناسب تصویر والے فلٹر پر تصویر پر کلک کرتا ہے تو اُس کا یہ عمل اُسے ہیکر کے پاس لیجاتا ہے اور اس تصویر کے ذرئیعے ہیکر صارف کے اکاونٹ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔

وٹس ایپ نے اسکا کیا حل کیا

واٹس ایپ نے اس بگ کے بارے میں معلومات اپنی سیکورٹی ایڈوائزری ویب سائٹ پر رکھی تھی اور واٹس ایپ اس بگ کو امیج فلٹر سے ہٹانے میں بھی کامیاب رہا ہے،کمپنی نے سورس اور فلٹر امیجز پر مزید دو سیکورٹی چیک شامل کیے ہیں لیکن وٹس ایپ کی اس سیکورٹی کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے مسیجز جو نامعلوم نمبرز سے بھیجے جاتے ہیں اُن پر کلک نہ کریں اور ایسے میسجز کی پہلے اچھی طرح جانچ پڑتال کر لیں تاکہ کسی بھی غلط میسج پر کلک کرنے اور ہیکرز کے بچھائے ہوئے جال سے بچ سکیں۔