ٹھنڈے اور گرم پانی سے نہانے کے دلچسپ فائدے اور نقصانات

Posted by

نہانا ایک نعمت ہے جو ہمیں پاکیزگی دینے کیساتھ ہمارے جسم و دماغ پر کئی اچھے اثرات مُرتب کرتا ہے اور ہمیں تروتازہ کر دیتا ہے، سردی کے موسم میں لوگ عام طور پر گرم پانی سے غُسل کرنا پسند کرتے اور کُچھ سخت سردی میں بھی تازے اور ٹھنڈے پانی سے نہاتے ہیں۔

اس آرٹیکل میں ٹھنڈے اور گرم پانی سے نہانے کے دلچسپ فوائد کا ذکر کیا جائے گا اور ہم جانیں گے کہ پانی کے درجہ حرارت کے بڑھنے اور کم ہونے سے ہمارے نہانے سے جسم پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔

تازہ اور ٹھنڈا پانی

سردی میں صُبح کے وقت گرم پانی سے نہانے کے شوقین افراد عام طور پر ٹھنڈا پانی جسم پر پڑتے ہی لگنے والے جھٹکے سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور شاور میں گرم پانی کا نل کھول کر اُس وقت تک پانی ضائع کرتے ہیں جب تک وہ مناسب گرم نہ ہو جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صُبح کے نہانے کے وقت جب ٹھنڈا پانی جسم پر پڑتا ہے تو جسم کو ایک جھٹکا لگتا ہے اور یہ جھٹکا جسم کی آکسیجن انٹیک کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے اور یہ دل کی دھڑکن تیز کرتا ہے اور اعصاب کو ایک دم چُوکنا کر دیتا ہے، ڈاکٹرز حضرات کا کہنا ہے کہ اگر جلد پر خُشکی سے خارش پیدا ہو رہی ہو تو ٹھنڈے پانی سے نہانا خارش میں آرام کا باعث بنتا ہے۔

ٹھنڈا پانی خون کی گردش تیز کرتا ہے

صُبح کے وقت ٹھنڈے پانی سے نہانے کا یہ سب سے اہم فائدہ ہے اور اسی وجہ سے ماہرین صُبح کے وقت تازہ اور ٹھنڈے پانی سے نہانے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ ٹھنڈا پانی جلد کا درجہ حرارت کم کرتا ہے جس سے جلد کے نیچے خُون کی روانی درجہ حرارت نارمل رکھنے کے لیے تیز ہوجاتی ہے اور جسم کو خُون کے ساتھ مناسب آکسیجن ملنا شروع ہو جاتی ہے اور جسم و دماغ چاک و چوبند ہوجاتا ہے۔

موٹاپا کم ہوتا ہے

ہمارے جسم میں محفوظ چربی خاص طور پر براؤن چربی پگھل کر ہیٹ پیدا کرتی ہے اور جب جسم سردی میں ٹھنڈا پانی برداشت کرتا ہے تو یہ چربی جو گردن اور کاندھوں کے قریب زیادہ پائی جاتی ہے برن ہونا شروع کر دیتی ہے اور موٹاپے میں کمی پیدا ہوتی ہے۔

سکن اور بالوں کے لیے مُفید ہے

اگر آپ کے جلد اور بال خُشک ہیں تو گرم پانی اس خُشکی کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے جبکہ ٹھنڈا پانی آپ کی جلد کے مسامز کو سخت بناتا ہے اور اُن کے نیچے خُون کی گردش پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے جلد توانا اور بہتر طور پر پرورش پاتی ہے اور بالوں کی جلد میں موجود بالوں کی جڑیں طاقتور ہوتی ہیں اور بال گھنے کرتی ہیں۔

نوٹ: سردی میں اگر آپ نزلہ، زُکام، کھانسی اور بُخار وغیرہ کی شکایت محسوس کر رہے ہیں تو ٹھنڈا پانی آپ کے لیے مُفید نہیں ہوگا کیونکہ بُخار میں ٹھنڈا پانی آپ کی قوت مدافعت پر بھاری پڑے گا اور آپ کی شکایت میں اضافہ پیدا کرے گا۔

گرم پانی سے غُسل اور اُسکے فائدے

اگر آپ کو رات جلدی نیند نہیں آتی تو گرم پانی سے غُسل جسم سے سارے دن کی تھکاوٹ دُور کر کے اُس پُرسکون بنا دیتا ہے اور نیند کو گہرا کر دیتا ہے اسی لیے ماہرین رات کو گرم پانی سے نہانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

موسمی انفیکشن کو دُور کرتا ہے

موسم سے پیدا ہونے والی بیماریاں جیسے نزلہ، کھانسی، زکام وغیرہ میں گرم پانی کا غُسل حکیمی نُسخے کی طرح کام کرتا ہے یہ جسم کے مسام کھول دیتا ہے اور جسم میں ہوا کا داخلہ آسان بناتا ہے، سانس کی نالیوں میں جمی بلغم کو خارج کرکے سانس لینے میں آسانی پیدا کرتا ہے اور بیماری کی شکایت میں کمی لانے کا باعث بنتا ہے۔

شوگر،اعصاب اور پٹھوں کے لیے

گرم پانی جسم پر پڑنے سے جسم کے تناؤ میں کمی کیساتھ ذہنی اور اعصابی تناؤ میں بھی کمی پیدا ہوتی ہے اور ایک تحقیق کے مطابق یہ کھانے کے 2 گھنٹے بعد خُون میں بڑھی ہوئی شوگر کے لیول کو 10 فیصد تک کم کرنے کا باعث بنتا ہے اور اگر ورزش کے بعد گرم پانی سے نہایا جائے تو یہ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی مُفید ثابت ہوتا ہے۔

کیلوریز جلانے کا باعث بنتا ہے

ایک جدید ریسرچ کے مُطابق گرم کے ٹب میں ایک گھنٹہ رہنا آدھا گھنٹہ پیدل چلنے کے برابر کیلوریز برن کرتا ہے اور اگر آپ ورزش کرنا پسند نہیں کرتے تو گرم پانی کا غُسل وزن کم کرنے میں تھوڑا بہت آپکے کام آسکتا ہے۔

نوٹ: گرم پانی آپکے بلڈ پریشر کو تیز کرتا ہے اس لیے بلڈ پریشر کے مریض زیادہ دیر گرم پانی سے غُسل نہ کریں اور گرم پانی جلد کو ڈی ہائیڈریٹ کرتا ہے جس سے جلد خُشک اور خارش پیدا ہوتی ہے اس لیے اگر آپ کی جلد حساس ہے تب بھی زیادہ گرم پانی آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

گرم پانی سے نہانے کے بعد اگر ایک ڈبہ ٹھنڈا پانی جسم پر ڈال لیا جائے تو یہ گرم پانی سے کھلنے والے جلد کے مسام کو کو بند کر دیتا ہے اور جلد میں خُشکی پیدا ہونے سے روکتا ہے اور بلڈ پریشر کو کم کرنے کا باعث بن سکتا ہے