پاکستان بمقابلہ انڈیا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میچ کون جیتے گا جانیے پنڈت نجومی اور بابے کیا کہتے ہیں

Posted by

انڈیا پاکستان کا روئتی حریف ہے لیکن اس بار 24 اکتوبر کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والا ورلڈ کپ ٹی 20 میچ پاکستان ٹیم کے لیے پہلے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس دفعہ پاکستان کی ٹیم بھارت اور اسکے کرکٹ بورڈ سے کافی زخم کھا چُکی ہے اور ان دونوں کی طرف سے ایک تازہ زخم جو نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کا پاکستان کا دورہ کینسل ہونے کی صُورت میں ملا ہے اور میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اسکے پیچھے بھارتی کرکٹ بورڈ کا ہاتھ تھا۔

G:\Pics Sharing\IMG_3607.JPEG
Heinrich Böll Stiftung from Berlin, Deutschland, CC BY-SA 2.0, via Wikimedia Commons

24 اکتوبر کو دوبئی انٹرنیشنل سٹڈیم میں پاکستان اور بھارت کا یہ میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے کھیلا جائے گا۔ پاکستان اب تک بھارت سے 8 ٹی 20 انٹرنیشنل میچ کھیل چُکا ہے جس میں 6 میں پاکستان کو شکست ہُوئی ایک پاکستان جیتا اور ایک میچ برابر ہوگیا۔ پاکستان ون ڈے ورلڈ کپ کی طرح ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی کبھی بھارت سے فتح حاصل نہیں کر سکا لیکن اس دفعہ صُورتحال مختلف دیکھائی دیتی ہے۔

اس وقت انڈین میڈیا اگرچہ بھارت کو مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی فاتح قرار دے چُکا ہے لیکن شائد وہ پاکستان کی کرکٹ کی ہسٹری کو فراموش کر چُکے ہیں۔ پاکستان نے انڈیا سے ون ڈے، ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی میچ ملا کر اب تک 199 میچ کھیلے ہیں جن میں سے 86 پاکستان جیتا ہے 70 انڈیا جیتا ہے اور 43 میچ کسی نہ کسی وجہ سے ڈرا ہو چُکے ہیں۔ اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو پاکستان ٹیم کا پلڑا بھارت پر بہت بھاری ہے۔

پاکستان اور بھارت جب بھی کرکٹ کے میدان میں آمنے سامنے آتے ہیں تو میچ شروع ہونے سے پہلے بہت سے پنڈت، نجومی اور بابے وغیرہ میچ کون جیتے گا اس بارے میں پشین گوئیاں کرتے ہیں اور اس میچ کے متعلق بھی ان سے ملی جُلی اطلاعات میڈیا پر گردش کر رہی ہیں لیکن بیٹ فئیر ویب سائٹ کے مطابق پاکستان کی جیت کے امکانات صرف 40 فیصد ہیں لیکن دُوسری طرف دُنیا جانتی ہے کہ جب پاکستان کھیل رہا ہو تو ان امکانات پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔

پاکستان کی طرف سے شاہد آفریدی، وقار یونس اور شعیب اختر سمیت بہت سے افراد کو یقین ہے کہ اس دفعہ پاکستان انڈیا سے بازی لے جائے گا کیونکہ پاکستان کے پاس اس وقت ٹی ٹونٹی کرکٹ کا سب سے بہترین بلا بابر اعظم کی شکل میں موجود ہے اور پاکستان کی باولینگ لائن میں بھی اچھے باولر موجود ہیں جو میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 1992 کے ورلڈ کپ فائنل میں عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم Corner Tiger ہے اور چیتے کو جب راستہ نہیں ملتا تو وہ بہت خطرناک ہو جاتا ہے۔ اس دفعہ بھی پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ کُچھ ایسے ہی حالات درپیش ہیں اور دُنیا نے اسے کارنر کر دیا ہے۔

پاکستانی کرکٹ کے فینز کے نزدیک پاکستان اور انڈیا کا یہ میچ اس ورلڈ کپ کے فائنل سے زیادہ اہم ہے اور وہ پاکستانی ٹیم کو اس میچ کو جیتتے ہُوئے دیکھنا چاہتے ہیں اور مقابلہ ابھی باقی ہے۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے "پج دیاں نوں وان اکو جیا” اس لیے ہماری پیشین گوئی یہی ہے جو جذبے سے کھیلے گا وہ جیت جائے گا اور پاکستان میں جذبے کی کمی نہیں ہے۔