پاکستان میں 1947 سے لیکر اب تک چینی سونے اور چاول کی قیمتیں کس دور میں کیسے بدلیں

Posted by

معیشت کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے اور جب یہ ڈوب جائے تو روس جیسا سُپر پاوربھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے۔ معیشت کے ڈوبنے سے پہلے ماہرین معیشت اُس وقت خطرے کی گھنٹیاں بجاتے ہیں جب کسی ملک کی سالانہ معیشت پر 10 فیصد یا اس سے زیادہ فرق پیدا ہو جائے۔ اس آرٹیکل میں ہم پاکستان بننے کے بعد 1947 سے اب تک چینی، چاؤل اور سونے کی قیمتیں کس سال کتنا بدلیں کو شامل کر رہے ہیں تاکہ آپ کے اندازہ ہو کہ آپکا ملک کس سمت کی طرف جا رہا ہے۔

چینی کی قیمتیں 1947 سے 2021 تک

اس وقت بازار میں عام گاہک کو چینی 100 روپئے سے اوپر فروخت کی جا رہی ہے لیکن تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے 1947 سے 1951 تک چینی کی قیمت 60 پیسے فی کلو گرام تھی اور یہ دور پاکستان کے پہلے وزیراعظم جناب نواب زادہ لیاقت علی خان کا دور تھا۔ 1952 سے 1957 تک پاکستان کے 5 وزیر اعظم تبدیل ہُوئے اور چینی کی کی قیمت بڑھ کر 75 پیسے ہو گئی۔ جنرل ایوب کے دور میں یہ قیمت بڑھ کر 1.75 فی کلو گرام ہو گئی۔ 1970 سے 77 تک جناب ذولفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم رہے اور اس دور میں چینی کی قمیت بڑھ کر 6 روپئے فی کلو گرام تک چلی گئی۔

جنرل ضیا کے دور جو کے 1977 سے 1988 تک رہا میں چینی 3 روپئے فی کلو گرام بڑھ کو9 روپئے فی کلو گرام تک پہنچ گئی ۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں 1991 تک چینی 10 روپئے فی کلو تھی اور پھر میاں نواز شریف صاحب کے پہلے دور حکومت کے اختتام تک یعنی 1994 میں چینی 13 روپئے فی کلو گرام پر پہنچ گئی، پھر 1997 تک یہ 21 روپئے پر چلی گئی۔ جنرل مشرف کے دور حکمرانی میں چینی 30 روپئے فی کلو تک رہی۔ستمبر 2010 میں چینی کی قیمت 75 روپئے تھی جو نومبر 2010 تک 101 روپئے فی کلو گرام تک گئی لیکن مارچ 2012 تک یہ 59 روپئے تک واپس آگئی۔ میاں نواز شریف کی تیسری دور حکمرانی میں یہ 53 روپئے فی کلو میں فروخت ہوتی تھی جو 2018 میں واپس 100 روپئے فی کلو سے اوپر آگئی اور اور اب بھی اس سے اوپر میں فروخت ہو رہی ہے۔

سونے کی قیمت 1947 سے 2021 تک

قیام پاکستان کے وقت سونے کی فی تولہ قیمت 57 روپئے تھی جو اب 2021 میں فی تولہ تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ اگر 1947 سے اب تک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ 1952 میں سونا 85 روپئے فی تولہ تھا جو 1960 تک 135 روپئے پر آ گیا۔ 1971 میں فی تولہ سونا 246 روپئے کا تھا جو 1980 تک 2 ہزار 23 روپئے تک بڑھ گیا۔ سونے کی قیمت 1990 سے 96 تک پانچ ہزار پانچ سے کے گرد رہی اور سن 2002 تک یہ بڑھ کر10 ہزار 6 سو تک چلی گئی۔ 2008 میں سونا 23 ہزار سے اوپر چلا گیا اور 2010 تک بڑھ کر 54 ہزار 7 سو تک پہنچ گیا۔ 2017 میں سونا تقریباً 56 ہزار فی تولہ تھا جو اب 1 لاکھ بیس ہزار سے اوپر ہے۔

آج پاکستان میں اچھے باسمتی چاول کی قیمت تقریباً 130 روپئے سے اوپر ہے اور اگر 1947 سے لیکر اب تک دیکھا جائے تو چاول کی قیمت میں سالانہ تقریباً 335 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 1947 میں دیگر اشیا خردونوش کی قیمتیں جانکر بھی آپ کو حیرانی ہوگی کیونکہ اُس وقت بڑا گوشت پچاس پیسے فی کلو اور چھوٹا گوشت سوا روپئے فی کلو فروخت ہوتا تھا۔ خالص دُودھ 40 سے بچاس پیسے فی کلو اور آٹا 4 روپئے من تھا۔ 1947 میں دیسی گھی ڈھائی روپئے فی کلو میں فروخت ہوتا تھا جو کے خالص بھی ہوتا تھا اور اب 2012 میں دیسی گھی 1500 روپئے سے لیکر 2 ہزار روپئے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔