پاکستان نینشنل اسمبلی کی تاریخ جب وہ خودبخود تحلیل ہو گئی

Posted by

پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس کی نیشنل اسمبلی جسے ایوان زیریں یعنی نچلا ایوان بھی کہا جاتا ہے کے ممبران کا انخاب عوام کرتے ہیں۔ نینشل اسمبلی 1947 سے لیکر اب تک کتنی دفعہ خودبخود تحلیل ہو گئی کے بارے میں جاننے سے پہلے ہمارے پاس اس ایوان زیریں کے متعلق بنیادی معلومات کا ہونا بہت ضروری ہے اور اس آرٹیکل میں انہیں بنیادی معلومات کو آپ سے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

پاکستان نیشنل اسمبلی کے کل ممبران کی تعداد 342 ہے جن میں سے 272 کا انتخاب عوام ووٹ دیکر کرتی ہے اور باقی 70 خواتین اور غیر مسلم ممبران کے لیے مختص کی گئی ہیں اور ان ممبران کا انتخاب مخلتف پارٹیوں کو اُن کی اسمبلی میں سیٹوں کے حساب سے دیا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی میں کسی بھی پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے 172 سیٹیں درکار ہوتی ہیں اور اتنی سیٹیں جیتنے والی پارٹی اسمبلی میں لیڈر آف دا ہاوس جو عام طور پر وزیر اعظم ہوتا ہے منتخب کرتی ہیں۔

اسمبلی میں کم اکثریت رکھنے والی پارٹی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی ہے اور اپنا لیڈر منتخب کرنے کے لیے یہاں بھی ووٹ ہوتے ہیں اور زیادہ سیٹوں والی پارٹی لیڈر آف اپوزیشن منتخب کر لیتی ہے پھر ایوان زیریں کے یہ 342 افراد ایوان بالا یعنی سینٹ کے ممبران کو منتخب کرتے ہیں۔

پاکستان میں نیشنل اسمبلی کے ممبران پانچ سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں اور اگر یہ ممبران پانچ سال کا عرصہ پُورا کر لیں تو نیشنل اسمبلی خودبخود تحلیل ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی 13ویں نیشنل اسلمبلی 18 فروری 2008 کو منتخب ہُوئی اور پانچ سال کی مُدت پُوری کرنے کے بعد آئین کے آرٹیکل 58 کے مُطابق خودبخود تحلیل ہو گئی اور مئی 2013 میں 14ویں اسمبلی کے انتخاب کے لیے دوبارہ الیکشن ہُوئے اور اس اسمبلی کے بھی خودبخود تحلیل ہونے کے بعد 2018 میں 15ویں اسمبلی کے ممبران کا انتخاب ہُوا جسے تحریک انصاف نے جیتا اور عمران خان کو وزیر اعظم منتخب کیا۔

پاکستان کی تاریخ میں قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 اگست 1947 میں سندھ کے شہر کراچی میں اسمبلی بلڈنگ میں ہُوا جس کی قیادت قائداعظم محمد علی جناح نے بطور پریزیڈینٹ کی اور اس اسمبلی نے پاکستان کا قومی پرچم پاس کیا اور پھر 2 دن بعد اسی اسمبلی میں پاکستانی کی عوام کے بُنیادی حقوق کا بل پاس ہُوا اور اس بل میں اقلیتوں کے حقوق بھی شامل کیے گئے۔

14 اگست 1947 میں انڈیا کے گورنر جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن نے پاکستان اسمبلی سے خطاب کیا اور پھر 15 اگست کو پاور ٹرانسفر ہونے کے بعد جناب محمد علی جناح نے اسمبلی سے خطاب کیا اور اس خطاب میں پاکستان کے پرنسپلز کیا ہوں گے بات کی۔

پاکستان کا پہلا آئین 1973 میں بنایا گیا اور اس آئین کے تحت عوام کے بُنیادی حقوق کیا ہیں یہ جاننا ہمارے لیے اور بھی زیادہ ضروری ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ کیا نیشنل اسمبلی کے ممبران عوام کے ووٹوں پر پُورے اُتر رہے ہیں یا نہیں اور ان بُنیادی حقوق میں سے چند درجہ ذیل ہیں:

  • قانون کی نظر میں تمام پاکستانی برابر ہیں یعنی قانون کی نظر میں امیر اور غریب وغیرہ سب برابر ہیں۔
  • سٹیٹ پاکستان کے 5 سال سے لیکر 16 سال تک کی عمر کے بچوں کو مُفت تعلیم دے گی یعنی اُن کو کوئی سکول فیس وغیرہ ادا نہیں کرنی پڑے گی۔
  • عوامی مقامات پر کسی سے ذات پات، مذہب، جنس، عمر وغیرہ کے لحاظ سے کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا یعنی جو سب کا ہے وہاں کسی کو وئی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جائے گا۔
  • ہر پاکستانی پاکستان کے تمام عوامی مقامات اور کسی بھی شہر میں آزدی سے گھوم پھر سکتا ہے اور وہ اپنے رہنے کے لیے کسی بھی شہر کا انتخاب کر سکتا ہے یعنی اُسے ایک شہر سے دُوسرے شہر جانے کے لیے فضول تفتیش نہیں کیا جائے گا جیسا کے 1947 سے پہلے ہوتا تھااور وہ ان معاملات میں آزاد ہوگا۔
  • کسی پاکستانی کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس وغیرہ اُنہیں وجہ بتائے بغیر حراست میں نہیں رکھ سکتی اور گرفتار کرنے والا ادارہ پابند ہے کے وہ گرفتار کیے جانے والے فرد کو 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے۔
  • پاکستان میں کوئی شخص بطور غلام نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ خریدہ جا سکتا ہے یعنی پاکستان میں کوئی کسی کا غلام نہیں ہے۔
  • ہر شخص کی ذاتی عزت کو ملحوظ خاظر رکھتے ہُوئے اُس کی ذاتی پراپرٹی جیسے اُسکا گھر وغیرہ inviolable ہوں گے یعنی کسی کے گھر کے اندر بیجا نہیں گُھسا جائے گا۔
  • پاکستان کے آئین کے مطابق ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے یعنی وہ کسی بھی مذہب کی پیروی کر سکتا ہے۔
  • ہر پاکستانی کے پاس فریڈم آف سپیچ کا حق ہے اور وہ کوئی بھی بزنس یا اپنی اہلیت کے مطابق جاب کر سکتا ہے۔

نوٹ: اوپر درج پاکستانیوں کے فنڈامینٹل رائٹس میں سے چند کو عام پاکستانیوں کے سمجھنے کے لیے درج کیا گیا ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ وہ آزاد شہری ہیں۔ ان رائٹس کو لکھنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے تاکہ ہر پاکستانی جان سکے کے نیشنل اسمبلی پر اسکے کیا حقوق ہیں اور اُسے صرف اُسی لیڈر کو ووٹ دینا ہے جو اُسکے یہ حقوق پُورے ادا کرتا ہو۔

Feature Image Preview Credit: Sunni Person, CC BY-SA 3.0, via Wikimedia Commons