پاکستان کا نیشنل ڈرنک گنے کا جُوس پینے کے 15 حیرت انگیز فائدے

Posted by

گنے کی پیداوار میں پاکستان برازیل، بھارت، چین اور تھائی لینڈ کے بعد دُنیا کا پانچواں بڑا مُلک ہے جہاں سالانہ تقریباً 63 ہزار 800 میٹرک ٹن گنا پیدا ہوتا ہے، ایک اندازے کے مُطابق پاکستان میں فی ایکٹر گنے کی پیداوار 450 سے 500 من ہے جو گنے کی پیداور کرنے والے دُوسرے بڑے ممالک کی نسبت انتہائی کم ہے مگر اگر کوالٹی اور ذائقے کو دیکھا جائے تو ہمارے مُلک میں پیدا ہونے والا گنا دُنیا کا بہترین گنا ہے۔

File:Sugarcane in Punjab.jpg
Sarbjit Bahga / CC BY-SA

گنے کا جُوس پاکستان کا قومی مشروب ہے اور اس آرٹیکل میں اس قومی شربت کو پینے کے 15 ایسے فائدوں کا ذکر کیا جائے گا جو ہماری صحت پر انتہائی اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

نمبر 1 سستا انرجی بُوسٹر

آپ نے جسم اور دماغ کو بُوسٹ کرنے والے بازار میں ٹن پیکس اور بوتلوں میں بکنے والے کئی انرجی بُوسٹر ڈرنکس کا نام سُنا ہوگا اور یقیناً اُنہیں استعمال بھی کیا ہوگا لیکن ان میں سے کوئی بھی گنے کے رس کا مُقابلہ نہیں کرتا کیونکہ گنے کا رس قُدرتی انرجی بُوسٹر ہے۔

گنے کے رس میں شامل سکروز ہمارے جسم کو فوری توانا کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتی ہے اور گنے کا رس ہمارے مُوڈ کو خوشگوار بنانے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا۔

نمبر 2 حاملہ خواتین کے لیے انتہائی مُفید

گنے کے حیرت انگیز جُوس میں فولیک ایسڈ اور وٹامن بی 9 جیسے نیوٹریشنز شامل ہوتے ہیں اور ڈاکٹر حضرات کا کہنا ہے کہ یہ نیوٹریشنز حاملہ خواتین کے لیے انتہائی مُفید ہے اور اُنہیں زچگی میں پیدا ہونے والی دُشواریوں سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

نمبر 3 سانس کی بدبُو اور دانت کے کیڑے ختم کرتا ہے

گنے کے رس میں کیلشیم اور فاسفورس جیسے منرلز شامل ہوتے ہیں اور یہ منرلز جہاں دانتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں وہاں دانتوں کی پالش کو تقویت دیتے ہیں اور دانتوں کو کیڑا لگنے سے بھی بچاتے ہیں۔

دانتوں کو لگنے والا کیڑا اور وٹامنز اور منرلز کی کمی مُنہ میں پیدا ہونے والی بدبُو کا بڑا سبب ہیں اور گنے کا رس وٹامنز اور منرلز سے بھرپُور ہونے کے باعث ان بیماریوں کے خلاف قُدرتی ٹانک ہے۔

نمبر 4 ہڈیوں کو طاقتور بناتا ہے

شوگر کین جُوس میں کیلشیم کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے اور یہ منرل ہڈیوں اور دانتوں کے لیے انتہائی اہم ہے جو ان کی پرورش کیساتھ ساتھ اُنہیں مضبوط اور طاقتور بناتا ہے اور وہ بچے جن کا قد لمبا ہو رہا ہو روزانہ کم از کم ایک گلاس گنے کا جُوس اُن کی صحت پر انتہائی اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔

نمبر 5 گُردوں اور جگر کی کارکاردگی بہتر بناتا ہے

مزیدار گنے کا جُوس گُردوں اور جگر کے متعلق بیماریوں کے خلاف ایک قُدرتی اور سستا ٹانک ہے خاص طور پر گُردوں میں پتھری کی صُورت میں اور یرقان کی صُورت میں یہ ایک انتہائی مُفید دوا بن جاتا ہے۔

یرقان جگر کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہونے والا ایک مرض ہے اور گنے کا رس جہاں قُدرتی الکالائن خُوبیاں رکھتا ہے وہاں یہ ہمارے جسم کے الیکٹرولائٹس کا بیلنس دُرست رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے اور ہمارے جسم کا گلوکوز لیول گرنے نہیں دیتا اور نتیجتاً جگر کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔

نمبر 6 ہاضمہ بہتر بناتا ہے

اگر آپ ہاضمے کی بیماری میں مُبتلا ہیں تو گنے کے جُوس کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں کیونکہ اس میں شامل پوٹاشیم معدے کے پی ایچ لیول کو بیلنس رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے اورمعدے میں ہضم کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔

نمبر 7 خراب گلے کے لیے

اگر آپ کا گلا پک گیا ہے تو گنے کے جُوس میں لیموں اور کالی مرچ ڈال کرپینا آپ کے لیے مُفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ لیموں اور گنے میں شامل وٹامن سی اینٹی آکسائیڈینٹ اور اینٹی بیکٹریل خوبیوں کا حامل ہے اور ہمارے نظام مدافعت کو مضبوط بناتا ہے۔

نمبر 8 زخم جلد بھر سکتا ہے

شوگر کین رس جہاں ہماری قُوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے وہاں یہ زخموں کو جلد بھرنے میں بھی انتہائی معاون کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس شامل سکروز ہر قسم کے زخم کے بھرنے کا عمل تیز کر دیتی ہے اور پنجاب کے دیہات میں عام طور پر چھوٹا موٹا کٹ لگ جانے کی صُورت میں اُس پر گنے کا رس بطور دوا لگایا جاتا ہے۔

نمبر 9 وزن کم کرنے میں مددگار ہے

جی ہاں میٹھا تو ہوتا ہے مگر وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے کیونکہ گنے کا رس ہمارے جسم کے کولیسٹرول کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بڑھا ہُوا کولیسٹرول موٹاپے کی ایک بڑی وجہ ہے اور گنے کے رس میں موجود سلوبل فائبر ہماری خوراک کو جہاں ہضم کرنے میں مددگار ہوتی ہے وہاں یہ جمی ہُوئی چربی کو پگھلانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

نمبر 10 خراب ناخنوں کے لیے

اگر آپ کے ناخن کُھردرے اور بد رنگے ہو رہے ہیں تو اس کی بڑی وجہ وٹامنز اور منرلز کی جسم میں کمی ہے اس لیے اگر آپ گنے کے جُوس کو روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں گے تو جہاں یہ کمی پُوری ہوگی وہاں آپ کے ناخن صحت مند ہونا شروع ہو جائیں گے۔

نمبر 11 مسل پاور کے لیے

روزانہ صبح شام ایک گلاس گنے کا جُوس مسلز کی طاقت میں اضافہ کرنے کا باعث ہے اور اگر آپ جم میں مسلز بنانے کی مشقت کرتے ہیں تو یہ جُوس آپ کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔

نمبر 12 بُخار کم کر سکتا ہے

تیز بُخار کی صورت میں گنے کا رس جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے اور بُخار کی صورت میں جب جسم سے پروٹین ضائع ہو رہی ہوتی ہے تو یہ رس پروٹین کو ضائع ہونے سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

نمبر 13 تیزابیت سے بچاتا ہے

گنا قدرتی الکالائن خوبیوں کا حامل ہے جو تیزابیت کو ختم کرتی ہیں، گنے کا رس ہمارے معدے کو ٹھنڈا کرنے اور اُس میں سے تیزابیت کو ختم کرنے کا باعث بنتا ہے۔

نمبر 14 جسم سے فاضل مادے خارج کرتا ہے

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ گنے کے جُوس کو روزانہ خوراک کا حصہ بنانے سے جسم میں موجود فاضل مادے خارج ہو سکتے ہیں اور یہ ہمارے میٹابولیزم کو بہتر بناتا ہے اور بہتر میٹابولیزم جہاں جسم کی فاضل مادوں سے صفائی کرنے میں مددگار ہوتا ہے وہاں یہ جسم میں فاضل چربی کو پگھلانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

نمبر 15 جلد کی خُوبصورتی کے لیے

آپ کو جان کر حیرت ہو سکتی ہے مگر گنے کا رس چہرے کے کیل مہاسوں، داغوں اور چہرے پر پڑنے والی جھریوں کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ گنے کے جُوس میں الفا ہائیڈرویکسی ایسڈ جیسے گلائیکولیک ایسڈ شامل ہوتا ہے اور یہ جلد کی صحت کے لیے انتہائی مُفید کیمیا ہے۔

نوٹ: پاکستان میں گنے کا جُوس ہر گلی مُحلے میں عام نکالا جاتا ہے لیکن اس جُوس کو نکالنے کے لیے ضروری نہیں ہے کہ دُوکان دار صفائی کا بھی خیال رکھ رہا ہو اور عین ممکن ہے کہ جس گلاس میں وہ آپ کو جُوس مہیا کر رہا ہے وہ گندہ ہو لہذا اسی ریڑھی یا دُوکان سے جُوس لیکر پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔