پنجابی رومانوی مہینہ ساون اور اس سے جڑی دلچسپ روایات

Posted by

بکرمی یا دیسی کلینڈر جسے پنجابی اور نانک شاہی کلینڈر بھی کہا جاتا ہے کی ابتدا حضرت عیسی کی پیدائش سے کچھ سال پہلے ہندوستان کے ایک راجہ بکرم اجیت کے دور سے شروع ہُوئی اور مہینوں اور سالوں کا حساب رکھنے کے لیے اس کلینڈر کو ترتیب دیا گیا جس کے دنوں کی تعداد شمسی کلینڈر کی طرح 365 ہے مگر اس کے مہینے موسم کے حساب سے بدلتے ہیں۔

ساون پنجابی کلینڈر کا چوتھا اور سکھ نانک شاہی کلینڈر کا پانچواں مہینہ ہے جو جولائی کی 16 تاریخ سے شروع ہوتا ہے اور 15 اگست تک رہتا ہے۔ اس مہینے کے دنوں کی تعداد 31 ہے اور پنجاب کے تہذیب و تمدن میں ساون کے مہینے کو بڑی فوقیت حاصل ہے۔

پنجاب میں ہاڑ کی شدید گرمی جس میں درجہ حرارت بعض جگہوں پر 50 ڈگری تک چلا جاتا ہے کے بعد ساون کے مہینے کا آغاز ہوتا ہے اور یہ مہینہ پنجاب کی پیاسی سرزمین کی پیاس تیز بارشوں سے بجھاتا ہے کیونکہ اس مہینے میں بنگال کے ساحلوں سے اُٹھنے والے مُون سُون کے بادل خطہ پنجاب میں خوب برستے ہیں جس سے اس علاقے میں شدید گرمی کا زور کم پڑ جاتا ہے۔

سخت موسم جب بھی بدلتا ہے تو اس کے ساتھ انسان کا مزاج بھی تبدیل ہوتا ہے اور برسات کے بادلوں سے بھیگا ہُوا ساون کا مہینہ خطہ پنجاب میں سیاحوں کو جو گرمی کی وجہ سے یہ علاقہ چھوڑ جاتے ہیں واپس بلاتا ہے اور اس مہینے کی رم جھم بوندیں شاعروں کو اُکساتی ہیں کے وہ خوشی کے گیت لکھیں اسی لیے آپ کو اس مہینے پر کئی مقبول گیت سننے کو ملیں گے جس میں شاعر اس خطے کے لوگوں کے ساون سے بدلنے والے مزاج کی ترجمانی کرتے ہیں "رم جھم رم جھم پڑے پھوار تیرا میرا نت دا پیار”۔

ساون کے مہینے سے خطہ پنجاب کے لوگوں کی کئی روایات وابستہ ہیں خاص طور پر اس مہینے میں تیاں(بیٹیاں) کا تہوار منایا جاتا ہے جس میں ماں باپ شادی شدہ بیٹیوں کے گھر جاتے ہیں جہاں پنجابی گدا ڈانس اور گیت گائے جاتے ہیں اور اس مہینے کی ابتدا پر اُن کے لیے تحائف اور مٹھایاں وغیرہ خریدتے ہیں اور اس حوالے سے امیر خسرو کا یہ مقبول گیت تو آپ سب نے سن رکھا ہو گا "اماں میرے بابا کو بھیجو ری کے ساون آیا”۔

File:Punjabi mutiyar dancing festival,punjab pakistan.jpg
Beatrix11freedom, CC BY-SA 4.0, via Wikimedia Commons

ساون کا مہینہ محبت کرنے والوں کی ملاقات کا مہینہ مانا جاتا ہے اور زمین پر پائے جانے والی تقریباً تمام مخلوق چاہے وہ انسان ہوں یا حشرات اس بھیگے موسم میں ملاپ کرنے کو پسند کرتے ہیں اور اسی بنا پر پاکستان اور بھارت میں بنائی جانے والی بہت سی رومانوی فلموں میں ساون پر بیشمار گیت لکھے گئے ہیں جو ہر دور میں زبان زدعام رہے ہیں خاص طور پر ناصر کاظمی، چراغ حسرت، جوش ملیح آبادی کے ساون پر لکھے گئے اشعار اب آج بھی لوگوں کی زبانوں پر عام ہیں۔

سکھ مذہب کے بانی بابا گُرو نانک اسے مہینے کے متعلق اپنی کتاب گُرو گرنتھ میں لکھتے ہیں ” ساون سرسی کامنی چرن کمل سو پیار، من تن رتا سچ رنگ اکو نام ادھار” یعنی ساون کے مہینے میں دُلہن کی روح اُس وقت پھولے نہیں سماتی جب وہ خالق کی محبت میں گرفتار ہو کر اُس کے قدموں میں گرتی ہے۔