پنیر ڈوڈے کا اس طریقے سے استعمال شوگر کا 100 فیصد علاج ہے اور استھما سمیت کئی بیماریاں ٹھیک کرتا ہے

Posted by

زمین اپنے رہنے والوں کی ماں ہے اور قدرت نے اس پر رہنے والوں کے لیے جگہ بنائی ہے اور زمین سے ان کے لیے خوراک مہیا کی ہے اور جب اس پر رہنے والے بیمار پڑتے ہیں تو ان کا علاج بھی قدرت نے زمین کے اندر رکھا ہے اسی لیے علم طب کے ماہرین اپنی ادویات میں زمین سے پیدا ہونے والی جڑی بوٹیوں کو شامل کرتے ہیں اور صدیوں سے بیماریوں کے خلاف ان بُوٹیوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور انہیں ادویاتی خوبیوں سے بھرپُور پنیر ڈوڈا علم طب کے ماہرین کے نزدیک ایک اکسیر ہے جو کئی بیماریوں کا علاج ہے۔

پنیر ڈوڈے کا پودا برصغیر پاک و ہند کے علاوہ افغانستان میں بھی کاشت کیا جاتا ہے اور اس پر لگنے والا بیری کی شکل کا پھل اگرچہ ذائقے میں کڑوا ہے لیکن اس کی کڑواہٹ تکلیف دہ بیماریوں کا علاج ہے اور یہ ایسی بیماریوں کا علاج ہے جس کا جدید میڈیکل سائنس کی ایلوپیتھی میں ابھی تک کوئی علاج موجود نہیں۔

طب ایوردیک کے ماہرین کے نزدیک پنیر ڈوڈا ذیابطیس کے علاج کے لیے ایک حیرت انگیز ہربل دوا ہے کیونکہ یہ لبلبے کے بیٹا سیلز کی مرمت کر کے انہیں ٹھیک کر دیتا ہے جس سے جسم میں انسولین کی پیداوار دوبارہ شروع ہو جاتی ہے اور لبلبے کے یہ بیٹا سیلز ہی ہیں جو جب خراب ہوتے ہیں تو انسولین پیدا ہونا بند ہو جاتی ہے جس سے ذیابطیس ٹائپ 2 جیسی بیماری پیدا ہوتی ہے۔

پنیر ڈوڈے پر انڈیا میں ہونے والی ایک ریسرچ میں دیکھا گیا ہے کہ اس کا مسلسل 30 دن تک استعمال جسم میں گلیسمیک سٹیٹس یعنی ذیابطیس کے کنٹرول میں انتہائی مددگار ہے کیونکہ یہ خون میں شامل گلوکوز کو جسم میں جذب ہونے میں مدد دیتی ہے اور جسم کے میٹابولیزم کو کاربوہائیڈریٹس کے لیے تقویت دیتی ہے اور شوگر کے مریضوں کے لیے چینی سے زیادہ پریشانی کاربوہائیڈریٹس ہی پیدا کرتے ہیں کیونکہ چینی تو آسانی سے چھوڑی جا سکتی ہے لیکن ہماری خوراک میں کاربوہائیڈریٹس تقریباً ہر جگہ موجود ہیں اور یہ کاربس جسم میں ہضم ہونے کے دوران گلوکوز میں بدل جاتے ہیں جس سے خون میں شوگر کا لیول چینی کھائے بغیر بھی ہائی ہو جاتا ہے۔

پنیر ڈوڈا صرف شوگر کے خلاف ہی ادویاتی خوبیاں نہیں رکھتا بلکہ یہ سانس کی بیماری استھما کا قدرتی علاج ہے اور یہ بیماری جب بڑھتی ہے تو انتہائی تکلیف دہ اور بعض دفعہ جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہے۔ پنیر ڈوڈا خون سے زہریلے مادوں کو صاف کرنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا اور جب خون سے یہ فاسد مادے صاف ہوتے ہیں تو خون سارے جسم میں آکسیجن کو ٹھیک طریقے سے مہیا کرنا شروع کر دیتا ہے جس سے سارے جسم کی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں خاص طور پر دماغ کی کام کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور ذہنی تناو میں کمی آتی ہے۔

زمانہ قدیم میں گہرے زخموں کے علاج کے لیے پنیر ڈوڈے کی پیسٹ کو زخم کے اوپر لگا کر پٹی کی جاتی تھی اور آج جدید میڈیکل سائنس کا ماننا ہے کہ اس پودے میں اینٹی سیپٹک اور اینٹی بائیوٹیک خوبیاں موجود ہیں جو زخموں کو تیزی سے بھرنے کے لیے انتہائی فائدہ مند ہیں اور ان خوبیوں کے ساتھ اس پودے میں اینٹی بیکٹریکل خوبیاں بھی شامل ہیں جو جسم کو نقصان پہنچانے والے بہت سے بیکٹریا کا علاج ہے خاص طور پر معدے کو نقصان پہنچانے والے بیکٹریا کو ختم کرنے میں پنیر ڈوڈا کسی اکیسر سے کم نہیں۔

اس بوٹی کو علم طب میں اُن خواتین کے لیے انتہائی مفید مانا جاتا ہے جن کو ماہواری کے مسائل کا سامنا ہے یہ ماہواری کی ریگولیشن ٹھیک کرنے میں مدد دیتی ہے اور اس سے پیشاب کی پیدوار بڑھتی ہے جس سے جہاں گُردے صاف ہوتے ہیں وہاں جسم کے فاضل مادے خارج ہو جاتے ہیں۔

پنیر ڈوڈے کا استعمال

اگر آپ اس اکسیر پودے کو ذیابطیس اور دیگر بیماریوں کے خلاف بطور دوا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو علم طب میں اس کے استعمال کے کئی طریقے ہیں لیکن اس کا سب مفید طریقہ پنیر ڈوڈے کے 10 سے 15 دانوں کو رات بھر پانی میں بھگو کر صبح اچھی طرح نچوڑنا تاکہ اس کے ایکسٹریکٹس پانی میں شامل ہو جائیں اور پھر اس پانی کو چھان کر نہار مُنہ پینا ہے۔

نوٹ: آپ پنیر ڈوڈے کے فوائد کو اگر پوری طرح حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اسے 1 سے 2 روز پی کر چھوڑئیے گا مت بلکہ اسے کم از کم 30 دن مسلسل اپنی خوراک میں شامل رکھیں تاکہ آپ کو اس کی ٹھیک صلاحیت کا اندازہ ہو سکے اور ساتھ ہی اگر آپ اسے ذیابطیس کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو اس کے استعمال کے ساتھ اپنی شوگر پر گہری نگاہ رکھیں کیونکہ یہ خون سے شوگر کو تیزی سے کم کرتا ہے اور ایسی صورت میں اگر آپ انسولین وغیرہ استعمال کر رہے ہیں تو آپ کی شوگر کم ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اس لیے اسے ذیابطیس کے خلاف استعمال کرنے سے پہلے اپنے معالج کی رائے ضرور لیں اور انسولین کی مقدار شوگر کم ہونے کے حساب سے کم کرتے جائیں۔