پیروں میں ان مسائل کا پیدا ہونا جگر کی خرابی کی وجہ سے ہو سکتا ہے

Posted by

جگر سے متعلق بیماریاں ان دنوں بہت عام ہو گئی ہیں۔ کئی وجوہات کی بنا پر کسی بھی شخص کو جگر کی بیماری کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس بیماری سے بچنے کے لیے طرز زندگی اور خوراک اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب جگر کی بیماری ہوتی ہے تو اس کی علامات پاؤں میں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ اس لیے اگر آپ کو بھی اپنے پیروں کے تلووں میں نیچے درج مسائل کا سامنا ہے تو سمجھ لیں کہ جگر میں کوئی مسئلہ ہے۔

جگر ہمارے جسم میں بہت سے کام کرتا ہے۔ جگر پیٹ کے اوپری حصے میں واقع ایک عضو ہے، جو پسلیوں کے اندر واقع ہوتا ہے۔ جگر مختلف افعال انجام دیتا ہے جیسے جسم میں زہریلے مادوں کو توڑنا، صفرا پیدا کرنا۔ گزشتہ چند سالوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد جگر کی بیماری کے مسئلے کا سامنا کر رہی ہے۔ جگر کے خراب ہونے کی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ میڈیکل سائنس میں ان میں سے بہت سی بیماریوں کا علاج موجود ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ جگر کی خرابی کی ابتدائی علامات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

جب جگر میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو ہمارا جسم بہت سے سگنل دیتا ہے۔ جگر کی بیماری کے آثار ہمارے پیروں میں بھی نظر آتے ہیں۔ لہذا اگر یہ علامات آپ کے پیروں میں بھی نظر آ رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جگر میں کوئی مسئلہ ہے۔ آئیے ان علامات کے بارے میں جانتے ہیں۔

سوزش: ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو پیروں، ٹخنوں اور تلووں میں سوزش محسوس ہو رہی ہے تو یہ جگر سے متعلق کئی بیماریوں کی وجہ سے ہو سکتا ہے خاص طور پر جگر کا کینسر، ہیپاٹائٹس سی، سروسس، فیٹی لیور جیسی بیماریوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو ہیپاٹائٹس بی یا ہیپاٹائٹس سی ہے تو جگر کے کینسر کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہ بیماریاں اکثر سیروسس کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔ کسی بھی وجہ سے جگر کی بیماری سروسس میں بدل سکتی ہے جس کی وجہ سے جگر کے کینسر کا خطرہ بھی کافی بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے اگر آپ اپنے پیروں میں سوجن دیکھ رہے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ آپ ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

پیروں کے تلووں کی خارش: ہیپاٹائٹس کے ایڈوانس کیسز میں، کچھ مریضوں کو ہاتھوں اور پیروں کے تلووں میں خارش کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کی جلد میں بہت زیادہ خارش ہونے لگتی ہے۔ خارش کے علاوہ جگر کی بیماری کی وجہ سے آپ کے ہاتھوں اور پیروں کی جلد بہت خشک ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ خارش ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے ہاتھوں اور پیروں میں موئسچرائزر کا استعمال کریں۔

پیروں کے تلووں میں درد: جگر کی بیماری کی وجہ سے پیروں کے تلووں میں درد کا سامنا کر پڑ سکتا ہے اور پیروں کیساتھ ساتھ ٹانگوں میں بے حسی اور کمزوری اور اعصابی کمزوری بھی پیدا ہوتی ہے اور یہ بیماریاں بھی جگر کی خرابی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ہیپاٹائٹس جگر کی بیماری کی سب سے عام وجہ ہے۔ جگر کی بیماری کی دیگر اقسام میں جگر کی سروسس، فیٹی لیور کی بیماری، اور غیر الکوحل جگر کی بیماری شامل ہیں۔ اگر جگر کا مسئلہ ہو تو پاؤں کے تلووں میں درد اور سوجن کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور قابل طبیب سے اس کا معائنہ کروانا چاہیے۔

ٹانگوں میں جھنجھناہٹ اور بے حسی- جگر کے مسائل میں مبتلا افراد کو ہیپاٹائٹس سی انفیکشن یا الکحل جگر کی بیماری کی وجہ سے ٹانگوں میں بے حسی یا جھنجھناہٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ دونوں مسائل ذیابیطس کے مریضوں میں بھی دیکھے جاتے ہیں جو کہ جگر کے مسائل میں مبتلا افراد میں کافی عام ہے کیونکہ جگر گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ تمام مسائل پیریفرل نیورو کی خرابی کی وجہ سے ہوتے ہیں جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے باہر اعصآب کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

جگر کی بیماری پیدا ہونے کے اسباب

غیر میعاری خوراک اور ورزش سے دوری، کسی دوا کے ضمنی اثرات، خوراک میں بہت زیادہ چینی کا استعمال، پروسیسرڈ فوڈ، گوشت کا زیادہ استعمال، کثرت شراب نوشی، تمباکو نوشی، تھکاوٹ سستی اور کاہلی وغیرہ۔

الکوحل اور غیر الکوحل جگر کی بیماری کیا ہے؟

الکحل جگر کی بیماری کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب آپ زیادہ مقدار میں الکحل استعمال کرتے ہیں۔ نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق اگر آپ اعتدال میں الکوحل کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے الکحل جگر کی بیماری کے مسئلے سے نجات مل سکتی ہے۔ غیر الکوحل جگر کی بیماری کا سامنا ان لوگوں کو ہوتا ہے جو شراب نوشی تو نہیں کرتے لیکن خوراک میں بہت زیادہ چکنائی کا استعمال کرتے ہیں جس سے ان کے جگر میں چربی جمنا شروع ہو جاتی ہے۔

نوٹ: جگر میں خرابی کی کسی بھی علامت کو نظر انداز نہ کریں اور فوری اپنے معالج سے رابطہ کریں کیونکہ بروقت علاج آپ کو بڑی پریشانی سے بچا سکتا ہے۔

Feature Image Preview Credit: Shinjo2001, CC BY-SA 4.0, via Wikimedia Commons