ہم سب جانتے ہیں کہ صحت ہزار نعمت ہے اور یہ سب کے لیے انتہائی اہم چیز ہے اور اگر اس میں کوئی خرابی ہوجائے تو زندگی کا مزہ ختم ہوتا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے افراد صحت میں خرابی کے باعث ڈاکٹر کے پاس جانا پسند نہیں کرتے اور مرض کو بگاڑ لیتے ہیں۔
اس آرٹیکل میں صحت میں کیا خرابی ہے جاننے کے لیے بغیر ڈاکٹر کے ایک ایسا آسان اور آزمودہ طریقہ ذکر کیا جائے گا جس سے صرف ایک منٹ میں آپ جان پائیں گے کہ آپ کی صحت کو کیا مسلہ لاحق ہے۔
صحت میں خرابی جاننے کا آسان طریقہ

ایک سٹیل کی کھانے کی چمچ لیں اور اسے زُبان پر اچھی طرح اس طرح پھیریں کے یہ مُنہ کے لباب سے تر ہو جائے پھر اس چمچ کو کسی ایسے پلاسٹک بیگ میں ڈال دیں جس کے آر پار نظر آتا ہو جیسے مومی لفافہ وغیرہ اور اسے کسی روشنی میں جیسے سُورج کی روشنی یا لیمپ یا بلب وغیرہ کی روشنی میں رکھ دیں اور ایک منٹ تک پڑا رہنے دیں۔
ایک منٹ کے بعد چمچ کو لفافے سے نکالیں، اگر چمچ میں سےتیز بدبو آرہی ہے تو یہ نشانی ہو سکتی ہے کہ آپ کے معدے میں یا پھیپھڑوں میں خرابی ہے۔ اگر چمچ پر مٹھاس ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ آپ کو ذیابطیس ٹائپ 1 یا ٹائپ 2 کی بیماری ہے اوراگر چمچ پر ایمیونیا جیسی بُو ہے تو یہ نشانی ظاہر کرتی ہے کے گُردوں میں خرابی ہے۔
چمچ پر اگر داغ ہوں
اگر چمچ کے اوپر سفید، پیلے یا ہلکے پیلے رنگ کے موٹے داغ پڑے ہیں تو یہ نشانی ہے کہ آپ کے تھائی رائیڈ گلائینڈز میں خرابی ہے اور وہ ٹھیک کام نہیں کر رہے، یہ گلائینڈ اگر ٹھیک کام نہ کر رہا ہو تو تھوک خشک ہوکر سفید یا پیلے رنگ کی پرت کی صورت میں جم جاتا ہے۔
اگر چمچ کے اوپر پرپل رنگ کی پرت جمی ہے تو یہ نشانی ہو سکتی ہے نظام تنفس کی ایک بیماری جسے برونکائٹس کہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ جسم میں دوران خون کا نظام ٹھیک کام نہیں کر رہا اور یہ اس بات کی بھی نشانی ہو سکتی ہے کہ خون میں کولیسٹرال کا لیول ہائی ہے۔
اگر چمچ پر سفید داغ جمے ہیں تو یہ اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ نظام تنفس میں کوئی انفیکشن ہے اور اگر یہ داغ مالٹے رنگ کے ہیں تو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گُردوں میں کوئی خرابی ہے۔
نوٹ: یہ طریقہ کار آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے درج کیا گیا ہے اور اس طریقہ کار کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اوپر دی گئی کسی بیماری کا ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر خود سے علاج شروع کر دیں اس لیے اگر آپ اس طریقہ کار کے بعد سمجھتے ہیں کے آپ کوئی مسلہ ہے تو اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں تاکہ آپ کے مرض کی بہتر تشخیص ہو سکے اور اُسکا وقت پر علاج ہو سکے۔