چکوترہ ہائی بلڈ پریشر اور ہائی کولیسٹرال اکھٹے نہیں رہ سکتے

Posted by

چکوترہ صحت کے لیے اپنے بیشمار فائدوں کی وجہ سے سٹرس فروٹس (کینو، مالٹا۔ لیموں وغیرہ) کا بادشاہ مانا جاتا ہے اور اس میں شامل نیوٹرنٹس، اینٹی آکسائیڈینٹس اور فائبر اسے صحت کے لیے انتہائی مفید بنا دیتے ہیں۔ چکوترہ ویسے تو سارے جسم کی صحت پر اچھے اثرات ڈالتا ہے لیکن اس آرٹیکل میں ہم جانیں گے کہ اسے کھانے سے ہائی کولیسٹرال اور ہائی بلڈ پریشر کیسے نارمل رہتا ہے۔

G:\Pics Sharing\grapefruit-g395bcae7d_1920.jpg

چکوترہ اور ہائی کولیسٹرال

ہائی کولیسٹرال ایک ایسی بیماری ہے جو اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب خون میں ایک خاص قسم کی چکنائی جیسے کولیسٹرال کہا جاتا ہے بڑھ جاتی ہے۔ خون میں کولیسٹرال ہائی ہونے کی بڑی وجوہات میں زیادہ چکنائی والے کھانے، ورزش کا نہ کرنا، موٹاپا، تمباکو نوشی اور الکوحل کا زیادہ استعمال وغیرہ شامل ہیں اور یہ بیماری ذیابطیس کی طرح فیملی کی وجہ سے بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

خون میں جب کولیسٹرال کی مقدار بہت زیادہ ہو جائے تو یہ دل میں خون لیجانے والی شریانوں میں جم کر اُنہیں بند کر دیتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کئی گُنا بڑھ جاتا ہے۔ ہائی کولیسٹرال کو خاموش قاتل بیماری بھی کہا جاتا ہے کیونکہ عام طور پر اس بیماری کی جسم پر کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور جب تک خون ٹیسٹ نہ کروایا جائے اس بیماری کا پتہ نہیں چلتا۔ اس بیماری میں مُبتلا افراد اپنی خوراک کو متوازن کرکے اور ورزش سے اسے نارمل رکھ سکتے ہیں لیکن جب کوئی ایسا نہیں کرتا تو پھر ڈاکٹر حضرات اُسے ادویات پر لگا دیتے ہیں تاکہ کولیسٹرال نارمل رہے۔

چکوترہ ایک ایسا کھانا ہے جو نہ صرف براہ راست کولیسٹرال کو کم کرتا ہے بلکہ اس بیماری سے پیدا ہونے والے خدشات جن میں دل کی بیماریاں شامل ہیں کو بھی کم کرتا ہے۔ چکوترے پر ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج کے مطابق ہائی کولیسٹرال کے مریض اگر دن میں 3 دفعہ 6 ہفتے تک کھانے سے پہلے چکوترہ کھائیں تو یہ اُن کے خون میں بُرے کولیسٹرال جسے ایل ڈی ایل کہا جاتا ہے کو نارمل کرتا ہے اور اچھے کولیسٹرال جسے ایچ ڈی کہا جاتا ہے میں بہتری لاتا ہے۔

طبی ماہرین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو ہائی کولیسٹرال کی بیماری ہے تو اپنے ناشتے میں ایک چکوترہ روزانہ شامل کر لیں اور کم از کم 10 منٹ روزانہ سخت ورزش کو اپنی روٹین بنا لیں تو یہ بیماری آپ کے جسم سے ایسے غائب ہو جائے گی جیسے کبھی پیدا ہی نہیں ہُوئی تھی۔

ہائی بلڈ پریشر اور چکوترہ

بلڈپریشر، کولیسٹرال، ذیابطیس اور دل کی بیماریوں کو ایک بیماریوں کے ایک ہی گروپ شامل کیا جاتا ہے جسے میٹابولیک سینڈرم کہتے ہیں۔ ان بیماریوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے کیونکہ ان میں سے کوئی ایک جب پیدا ہوتی ہے تو یہ گروپ میں شامل دُوسری بیماریوں کو پیدا کر دیتی ہے۔

ہائی بلڈ پریشر یا ہاپرٹینشن اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب خون لیجانے والی رگوں میں خون کا پریشر کافی لمبے عرصے تک تیز رہنا شروع کر دیتا ہے اور بلڈ پریشر مونیٹر سے ٹیسٹ کرنے پر ریڈینگ 120 اور 80 کی نارمل سطح سے اوپر آتی ہے۔ بلڈ پریشر کو ناپنے کے لیے ملی میٹر اور مرکری جیسے پیمانے استعال ہوتے ہیں اور اس کی 2 رییڈینگز لی جاتی ہیں جنہیں عام زبان میں اوپر والا بلڈ پریشر اور نیچے والا بلڈ پریشر کہا جاتا ہے۔ اوپر والا بلڈ پریشر (سسٹولیک) دل کے دھڑکنے پر شریانوں میں خون کے پریشر کو ظاہر کرتا ہے اور نیچے والا بلڈ پریشر (ڈسٹولیک) دل کی 2 دھڑکنوں کے درمیان شریانوں میں خون کا کتنا پریشر ہے اس چیز کو ظاہر کرتا ہے۔

ہائی کولیسٹرال کی طرح ہائی بلڈ پریشر بھی عام طور پرغیر متوازن خوراک ،ورزش نہ کرنے، موٹاپے اور تمباکو نوشی وغیرہ سے پیدا ہوتا ہے اور خوراک کو متوازن کرنے اور مناسب ورزش کرنے سے یہ بیماری جسم میں خاموش ہو جاتی ہے۔ میڈیکل سائنس میں چکوترے پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 6 ہفتے دن میں 3 بار کھانے سے پہلے روزانہ چکوترہ کھانا ہائی بلڈ پریشر میں نمایاں کمی لیکر آتا ہے اور دل کے افعال کو بہتر بناتا ہے۔ چکوترے میں وٹامن سی اور پوٹاشیم جیسے انتہائی اہم نیوٹرنٹس پائے جاتے ہیں جو دل کے لیے انتہائی مفید چیز ہے اور ان نیوٹرنٹس کا روزانہ استعمال بلڈ پریشر کو نارمل کر دیتا ہے۔

چکوترے میں ایسے غذائی اجزا شامل ہیں جو میٹابولیک سینڈرم کی تمام بیماریوں پر اچھے اثرات پیدا کرتے ہیں۔ یہ خون میں شوگر لیول کو کم کرتے ہیں اور کم کیلوریز اور فائبر کی وجہ سے یہ موٹاپے جیسے مرض میں جسم کی فاضل چربی کو پگھلنے کا موقع دیتے ہیں۔

نوٹ: اگر آپ ہائی کولیسٹرال اور ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے ادویات کا استعمال کر رہے ہیں تو چکوترہ کھانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں کیونکہ یہ ان بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر آپ روزانہ کھانے سے پہلے 3 دفعہ چکوترہ کھانا چاہتے ہیں تو آدھے چکوترے سے زیادہ مت کھائیں۔

چکوترے کے نقصانات

چکوترہ سب کے لیے نہیں ہے کیونکہ کُچھ افراد پر یہ اچھے اثرات پیدا نہیں کرتا خاص طور پر اس میں کچھ ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جو کُچھ ایلوپیتھی ادیوات پر نیگٹیو اثرات پیدا کرتے ہیں اور ان ادویات میں بلڈ پریشر اور کولسٹرال کنٹرول کرنے والی چند ادویات بھی شامل ہیں اس لیے بہتر ہے کہ ایسی صورت میں اسے ڈاکٹر کی اجازت کے ساتھ کھایا جائے۔ چکوترہ سٹرک ایسڈ ہونے کی وجہ سے دانتوں کی پالش خراب کر سکتا ہے جس سے دانتوں کی بیماریاں جن میں ٹھنڈا اور گرم محسوس ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے کھانے کے بعد اچھی طرح کلی کر لینی چاہیے اور اسکے ساتھ پنیر کو کھانا اس کے بُرے اثرات کو کم کردیتا ہے۔