ڈسٹ الرجی کیوں ہوتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے 6 قدرتی اور آسان گھریلو ٹوٹکے

Posted by

ڈسٹ اور مٹی سے الرجی پیدا ہونا اور اس سے بیمار ہونا بہت سے لوگوں کے لیے ایک تکلیف دہ مسلہ ہے کیونکہ ہمارے ملک میں ڈسٹ اور مٹی وغیرہ کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جاتے اور جن لوگوں کو ان چیزوں سے الرجی ہوتی ہے وہ اپنے ماحول کے ہاتھوں تکلیف دہ زندگی بسر کرتے ہیں۔

ہمارے ملک میں موسم جب بھی تبدیل ہوتا ہے تو ڈاکٹر حضرات کے کلینکس پر رش لگ جاتا ہے اور لوگ نزلہ، زکام، کھانسی، بخار، آنکھوں میں خارش اور تھکاؤٹ کی شکایت کرتے دیکھائی دیتے ہیں اور ان سب کے لیے ڈاکٹر صاحبان ایسی اینٹی بائیوٹک میڈیسنز تجویز کرتے ہیں جو اس مرض پر قابو تو ڈال لیتی ہیں لیکن صحت کو کئی اور طریقے سے نقصان پہنچاتی ہےاور اس ڈسٹ الرجی کا کوئی مستقل حل نہیں ہیں۔

یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ ڈسٹ الرجی صرف دُھول اور مٹی سے نہیں ہوتی بلکہ دھواں، ہوا میں مائیکرو پارٹیکلز کی بہتات اور فضا میں آلودگی کی بڑھتی ہوئی مقدار بھی اس الرجی کو بیدار کر دیتی ہے اور اسکے ساتھ مریض کو سانس لینے میں دُشواری، سینے میں جکٹرن وغیرہ بھی محسوس ہوتی ہے اور ایسا نہیں ہے کہ یہ الرجی صرف باہر جانے سے ہو کیونکہ یہ گھروں کے اندر رہنے والے افراد کو بھی بیحد متاثر کرتی ہے کیونکہ گھروں میں صفائی کے دوران بھی ڈسٹ وغیرہ ناک کے راستے نظام تنفس میں داخل ہوتی ہے اور الرجی پیدا کرتی ہے۔

ڈاکٹر حضرات اس الرجی کی صُورت میں آپ کو سمجھائیں گے کے ڈسٹ سے دُور رہو کیونکہ اس سے پیدا ہونے والی الرجی کا کوئی مستقل علاج موجود نہیں ہے لیکن آپ خود جانتے ہیں کہ ڈسٹ سے دُور رہنا پاکستان میں رہتے ہُوئے تقریباً ناممکن ہے۔

دُھول سے الرجی کیوں ہوتی ہے

دُھول میں موجود انتہائی چھوٹے ذرات جنہیں مائیکروجنزم کہا جاتا ہے موجود ہوتے ہیں اور یہ آنکھوں سے دیکھائی نہیں دیتے اور ہماری جلد کے مردہ سیلز ان کی خوراک ہیں اور یہ مائکروجنزم نمی میں زیادہ تیزی سے پیدا ہوتے ہیں اور انکے ساتھ لال بیگ سے خارج ہونے والا بیکٹریا بھی ہوا میں این مائیکروجنزم کے ساتھ جب سانس کی نالی میں جاتا ہے تو الرجی پیدا کرتا ہے۔ مولڈ جو فنگس کی ایک قسم ہے اور گھر کے اندر اور باہر ہر جگہ ہی پائی جاتی ہے اور زمین پر ہزاروں سالوں سے رہ رہی ہے خاص طور پر اندھیرے اور نمی والی جگہ پر یہ لازمی موجود ہوتی ہے اور یہ بھی الرجی پیدا کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

گھر میں موجود پالتو جانور جیسے بلی اور کُتا وغیرہ بھی الرجی کا سبب بنتے ہیں کیونکہ ان کے گرنے والے بال اور ان میں موجود ڈینڈر بھی ڈسٹ الرجی پیدا کرنے کا ایک سبب ہے۔

موسم میں تبدیلی کیساتھ جب موسم گرم ہوتا ہے یا سرد ہوتا ہے اور بہار آتی ہے تو ہمارے ماحول میں موجود درخت پولن خارج کرتے ہیں اور بہت سے افراد کے لیے یہ پولن بھی الرجی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

الرجی کی علامات

الرجی پیدا ہونے کے بعد یہ علامات عام طور جسم پر ظاہر ہوتی ہیں جن میں چھینکیں، نزلہ، زکام، تھکاؤٹ اور سستی، آنکھوں کی سوزش، کھانسی، آنکھوں میں خارش اور جلن اور آنکھوں کا سُرخ ہونا اور ان سے پانی نکلنا، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑنا، سانس کی بیماری استھما، کان بند ہونا اور کسی چیز کی بُو محسوس نہ کرنا، گلے کا پک جانا، سردرد، بخار اور جلد پر ریش ہوجانا وغیرہ الرجی کی عام علامات ہیں۔

گھریلو ٹوٹکے جو الرجی کا خاتمہ کر دیتے ہیں

نمبر 1 سیب کا سرکہ: ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک سے دو چمچ سیب کے سرکے کے ڈالیں اور اس کے ذائقے کو بہتر بنانے کے لیے اس میں تھوڑا شہد شامل کریں اور دن میں 2 دفعہ استعمال کریں یہ الرجی کو آپ کے قریب بھی نہیں آنے دے گا۔

نمبر 2 ایزینشل آئل: الرجی کے خاتمے کے لیے سٹیم لینا بیحد مفید ثابت ہوتا ہے اور اگر آپ سٹیم میں چند قطرے کسی ایزینشل آئل خاص طور پر لیوینڈر آئل کے ڈال دیں اور اس سٹیم کو روزانہ 1 سے 2 دفعہ لیں تو یہ بھی نظام تنفس کی صفائی کر دیتا ہے اور الرجی کے خاتمے کا باعث بنتا ہے۔

نمبر 3 شہد: نیم گرم پانی کے ایک کپ میں 1 چمچ شہد شامل کریں اور اس ٹوٹکے کو بھی روزانہ 2 دفعہ استعمال کریں، شہد میں شامل اینٹی مائیکروبل اور اینٹی انفلامیٹری خوبیاں آپ کو الرجی سے محفوظ رکھیں گی اور اگر الرجی کی علامات جسم پر ظاہر ہو رہی ہیں تو یہ ڈرنک ان کی شدت میں کمی لائے گا۔

نمبر 4 ہلدی: ہلدی میں اینٹی بیکٹریل اور اینٹی انفلامیٹری خویبوں کیساتھ ساتھ اینٹی بائیوٹیک خوبیاں بھی شامل ہیں جو الرجی کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اسے کے اثرات کو بھی ختم کرتی ہیں اور اگر روزانہ رات کو سونے سے پہلے ایک کپ دُودھ میں ہلدی شامل کر کے اسے اُبال کر شہد ڈال کر استعمال کر لیا جائے تو یہ ڈرنک ڈسٹ الرجی سے متاثر ہونے والوں کے لیے کسی تریاق سے کم نہیں ہوگا۔

نمبر 6 گُڑ: گُڑ نظام تنفس کی صفائی کردیتا ہے اور استھما وغیرہ کی علامات کو کم کرنے میں بیحد مفید ثابت ہوتا ہے اس لیے اسے اپنی خوراک میں شامل کریں اور ڈسٹ والی جگہ پر سانس لینے کے بعد تھوڑا سا گُڑ استعمال کر لیا کریں یا اسے چائے یا قہوے وغیرہ میں ڈال کر پی لیں تو یہ بھی آپ کو الرجی سے بچائے گا۔

نمبر 6 ڈی ہیموڈیفائر: اگر آپ کو ڈسٹ سے الرجی ہے تو ہوا کو صاف کرنے والا یہ آلہ جیسے ڈی ہیموڈیفائر کہا جاتا ہے خرید لیں یہ ہوا سے نمی کو ختم کرتا ہے اور ہوا کو صاف رکھتا ہے اور آپ کے کمرے کی فضا کو الرجی پیدا کرنے والے عناصر سے پاک کر دیتا ہے۔