ڈیلٹا کرونا کے متعلق 5 ضروری باتیں جن کے بارے میں جاننا سب کے لیے ضروری ہے

Posted by

ماہرین کا کہنا ہے کے تمام وائرس بشمول کرونا وقت کے ساتھ اپنی ساخت کو بدلتے ہیں اور زیادہ تر ان میں برائے نام تبدیلی پیدا ہوتی ہے لیکن بعض اوقات ان میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جن سے ان کی پھیلنے کی صلاحیت میں کئی گُنا اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ وائرس کے خلاف بننے والی ویکسین پر بھی اثر انداز ہونا شروع کر دیتے ہیں اور ان کی جسم پر ظاہر ہونے والی علامات میں بھی تبدیلیاں پیدا ہونا شروع کر دیتی ہیں۔

وائرس جب اپنی ساخت بدلتا ہے تو نئی ساخت کو وائرس کے نام کے ساتھ بیٹا، گاما اور ڈیلٹا جیسے ناموں سے پُکارا جاتا ہے اور اس وقت دُنیا کے لیے کووڈ ڈیلٹا جو انڈیا سے پھیلنا شروع ہُوا ہے ایک بڑی پریشانی بن کر سامنے آیا ہے کیونکہ یہ کرونا کی پچھلی اقسام سے کئی گنا زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی علامات میں بھی تبدیلیاں پیدا ہو گئی ہیں اور اس کی علامات جب ظاہر ہوتی ہیں تب تک یہ پھیپھڑوں تک پہنچ چُکا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر حضرات کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جنہیں کرونا کے خلاف ویکسین لگ چُکی ہے وہ کافی حد تک اس وائرس سے محفوظ ہیں لیکن جن کو ابھی ویکسین نہیں لگی اُن کے لیے یہ ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس آرٹیکل میں کرونا کی نئی ساخت ڈیلٹا کے متعلق 5 ایسی باتیں شامل کی جا رہی ہیں جن کے بارے میں سب کا جاننا بہت ضروری ہے۔

نمبر 1 ڈیلٹا کرونا بہت تیزی سے پھیلتا ہے: ڈیلٹا کرونا وائرس کی ایک قسم ہے جو دسمبر 2020 میں شناخت ہُوئی اور انڈیا سے پھیلنا شروع ہُوئی ہے لیکن یہ کووڈ الفا سے 50 گُنا زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ کووڈ الفا کا پہلا کیس برطانیہ میں شناخت ہُوا اسی طرح کووڈ بیٹا ساؤتھ افریقا اور کووڈ گاما برازیل سے پھیلنا شروع ہُوا اور یہ وائرس بھی تیزی سے پھیلتے تھے لیکن ڈیلٹا کے پھیلنے کی صلاحیت نے ماہرین کو پریشان کر دیا ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ یہ کرونا الفا سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ یہ ایک آدمی سے 4 یا اس بھی زیادہ لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

نمبر 2 جنہیں ویکسین نہیں لگی اُنہیں زیادہ خطرہ ہے: ایسے افراد جن کی ویکسین مکمل نہیں ہُوئی انہیں ڈیلٹا کرونا سے شدید خطرہ ہے اور اس بات کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ امریکہ کی جن ریاستوں میں کم لوگوں کو ویکسین لگی ہے خاص طور پر جارجیا، ویسٹ ورجینیا اور الباما وغیرہ وہاں ایک دفعہ پھر ڈیلٹا کرونا تیزی سے پھیلنا شروع ہو چُکا ہے۔

کووڈ کی یہ قسم بچوں اور نوجوانوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہی ہے اور برطانیہ میں ہونے والی ایک تازہ تحقیق کے مطابق بچوں اور 50 سال سے کم عمر افراد کے اس وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ 2.5 فیصد بڑھ چُکا ہے اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ ابھی تک 12 سال سے کم عمر بچوں کے لیے کوئی بھی کرونا ویکسین منظور نہیں ہوئی اور اگرچہ زیادہ تر عمر رسیدہ افراد کو کرونا ویکسین لگائی جا چُکی ہے لیکن جوان اور بچے جنہیں کرونا کی پچھلی اقسام زیادہ متاثر نہیں کر رہی تھی وہ ڈیلٹا سے متاثر ہو رہے ہیں۔

نمبر 3 ڈیلٹا کا مقامی سطح پر شدید تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے: ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیلٹا کسی علاقے میں چند افراد کو متاثر کرتا ہے تو اُنہیں خدشہ ہے کہ یہ اُس علاقے میں انتہائی تیزی سے پھیلے گا اور اُس علاقے میں ایمرجنسی پیدا کر دے گا جیسا انڈیا میں ہم سب دیکھ چُکے ہیں اور ایسی صُورت میں اگر اُس علاقے کے زیادہ افراد کو ویکسین نہ لگی ہُوئی تو پھر اس کی شدت میں کئی گُنا اضافہ ہو گا اور چونکہ ابھی تک بچوں کے لیے بھی کوئی ویکسین نہیں بنی اس لیے ڈیلٹا ایسے علاقوں میں بچوں کو بھی شدید متاثر کر سکتا ہے۔

نمبر 4 ابھی ڈیلٹا کرونا کے متعلق ماہرین کے پاس پُوری معلومات نہیں ہیں: ڈیلٹا کرونا الفا کرونا سے کئی گُنا زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی جسم پر ظاہر ہونے والی علامات الفا کرونا سے مختلف ہیں اور اس پر ابھی ماہرین کی ریسرچ جاری ہے اس لیے وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ جسم کو کس حد تک متاثر کر رہا ہے اور اس سے صحت یاب ہونے والے کیا پُوری طرح صحت یاب ہو رہے ہیں یا اُن میں کوئی دائمی بیماری پیدا ہو رہی ہے اس کے متعلق بھی ابھی ماہرین کے پاس پُوری معلومات نہیں ہیں اس لیے ماسک کا پہننا، ہاتھ دھونا اور بھیڑ والی جگہوں سے دُور رہنا انتہائی ضروری ہے۔

نمبر 5 ویکسین لگوانا ڈیلٹا کرونا کے خلاف بہترین ہتھیار ہے: ڈاکٹر حضرات کا کہنا ہے کہ اگر آپ کرونا کی اس ساخت سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر اپنے آپ کو ویکسین لگوائیں کیونکہ کرونا اب زندگی میں کہاں تک ہمارے ساتھ چلتا ہے اس کے متعلق کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا اور جس طرح آپ تیز سُورج کی روشنی سے بچنے کے لیے سن سکرین لوشن وغیرہ استعمال کرتے ہیں اسی طرح لوگوں کی بھیڑ میں جانے سے پہلے ماسک لازمی استعمال کریں اور اپنے آپ کو جلد سے جلد ویکسین لگوائیں۔

ڈیلٹا کرونا کی علامات: اگرچہ ڈیلٹا کرونا کی علامات الفا کرونا کی علامات سے ملتی جُلتی ہیں اور اس میں بھی بُخار، خُشک کھانسی، گلا خراب جیسی علامات پہلے ظاہر ہوتی ہیں اور اگر علامات شدید ہوں تو سانس لینے میں مشکل، سینے میں کھنچاو اور بولنے میں مشکل پیدا ہوتی ہے لیکن ڈیلٹا کرونا میں شدید سر درد ایک ایسی علامت ہے جو پہلے نمودار ہوتی ہے اور اس وائرس کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ یہ تیزی سے جسم میں پھیپھڑوں کی طرف جاتا ہے اور جب تک علامات ظاہر ہوتی ہیں یہ پھیپھڑوں کو متاثر کر چُکا ہوتا ہے اس لیے احتیاطی تدابیر کا اختیار کرنا اور ویکسین لگوانا انتہائی ضروری ہے۔

نوٹ: اگر آپ میں کرونا کی کوئی ابتدائی علامات ظاہر ہو رہی ہیں تو فوراً خود کو کرنتینا میں لے جائیں اور اپنا کرونا ٹیسٹ کروائیں اور ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

Feature Image Preview Credit: Mos.ru, CC BY 4.0, via Wikimedia Commons