کرونا ویکسین نہ لگوانے والوں کے خلاف بڑا فیصلہ سرکاردی دفاتر بنک پبلک مقامات شادی حال میں داخلہ بند

Posted by

کرونا کے خلاف حکومت پاکستان اپنے اقدامات میں مزید سختی پیدا کرنے جا رہی ہے اور یہ ایک اچھی بات بھی ہے کیونکہ اس جراثیم کو جب تک آہنی ہاتھوں سے نہیں لیا جائے گا اس کے پھیلاؤ میں کمی پیدا نہیں کی جاسکتی اور اسی مقصد پر کاربند رہتے ہُوئے کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ نے باقی صُوبوں سے پہلے اپنی حکمت عملی میں ویکسی نیشن نہ لگوانے والے افراد کے خلاف بڑی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ نے جو نیا نوٹس جاری کیا ہے اُس کے مطابق ایسے افراد جنہیں کی کرونا ویکسی نیشن نہیں ہُوئی اب پبلک مقامات پر آزادانہ نقل و حرکت جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ ان پبلک مقامات میں تمام سرکاری دفاتر، بینک، پبلک ٹرانسپورٹ، شاپنگ سینٹرز، شادی حال، اور پارکس اور تفریحی مقامات شامل ہیں جہاں ایسے افراد کے ویکسی نینشن کارڈ چیک کیے بغیر ان کا داخلہ بند کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا گیا ہے۔

ساری دُنیا م میں کرونا کے خلاف ویکسی نیشن لگانے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور ورلڈ دیٹا کے مطابق اس وقت دُنیا میں 2.84 بلین ویکسی نینشنز لگائی جا چکی ہیں اور سب سے زیادہ ویکسی نینشن برطانیہ میں لوگوں کو لگائی جا چُکی ہے جہاں کے 47.9 فیصد عوام کرونا کے خلاف ویکسی نیٹ ہو چُکے ہیں برطانیہ کے بعد امریکہ میں بھی 46.1 فیصد لوگ اس عمل سے گُزر چُکے ہیں اور انڈیا جہاں یہ وائرس ساری دُنیا سے زیادہ تیزی سے پھیلا ہے وہاں پر 3.8 فیصد عوام کو ویکسی نینشن لگائی جا چُکی ہے لیکن پاکستان اس لسٹ میں اب تک سب سے پیچھے کھڑا ہے جہاں صرف 1.6 فیصد لوگ ویکسی نیٹ ہُوئے ہیں۔

پاکستان میں ناخواندگی کے باعث لوگوں کے دلوں میں ویکسی نینشن کا جو خوف سوشل میڈیا اور دیگر خبروں سے ڈالا گیا ہے اُسے ختم کرنے اور لوگوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی کوئٹہ ضلعی انتظامیہ کی کرونا ویکسی نیشن نہ لگوانے والوں کے خلاف حکمت عملی جیسی حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ لوگ جلد از جلد ویکسی نیشن کے ذریعے اپنے ایمیون سسٹم کو اس وائرس کے خلاف تیار کر سکیں۔

پاکستان میں کرونا ویکسی نیشن لگوانے کے لیے آپ اپنے موبائل سے اپنا شناختی کارڈ نمبر 1166 پر میسج کریں یا نمز کی ویب سائٹ پر جاکر اپنا اندراج کریں آپ کو فوراً ہی رجسٹر کر لیا جائے گا اور قریبی ویکسی نیشن سینٹر جا کر ویکسی نیشن لگوانے کے لیے کوڈ بھی بھیج دیا جائے گا۔ اگر رجسٹریشن کروانے کے باوجود آپ کو کوڈ وصول نہیں ہوتا تو اس صُورت میں بھی حکومت نے رعایت دی ہے کہ آپ فوری طور پر قریبی ویکسی نیشن سینٹر جائیں اور بغیر کوڈ کے بھی ویکسی نیشن لگوا لیں۔

ویکسی نیشن سینٹر جانے کے بعد اپنا فارم فل کرتے ہُوئے دھیان میں رکھیں کہ فارم پر جو بھی ویکسین لکھی جا رہی ہے وہی ویکسی نیشن آپ کو لگائی جائے کیونکہ ویکسی نیشن سینٹر پر رش ہونے کے باعث فارم جلدی میں پُر کرنے کی کوشش میں غلطیاں ہو رہی ہیں اور جنہیں چائنہ ویکسین لگ رہی ہے اُن کےفارم پر فائزر یا اسٹرازنکا غلطی سے لکھ دیا جاتا ہے جس سے ویکسی نیشن کی دُوسری ڈوز لگوانے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اپنے اہل خانہ اور اپنے ملک کو کرونا وائرس سے محفوظ بنانے کے لیے ویکسی نیشن لگوانا ضروری ہے اس لیے کسی کی پھیلائی ہُوئی غلط باتوں کو دھیان میں مت لائیں اور پہلی فُرصت میں جلد سے جلد اس عمل کو پُورا کریں تاکہ پاکستان میں زندگی کے معمولات کو معمول پر لایا جا سکے اور اس وائرس کا خاتمہ کیا جاسکے۔