عیدالضحی پر کونسی قُربانی فرض ہے؟ سوچنے والوں کے لیے سوال

Posted by

ہر انسان کی زندگی میں اونچ نیچ آتی ہی رہتی ہے۔ میں ایک بڑی نجی کاروباری فرم میں ملازم تھا ۔ میری تنخواہ بہت اچھی تھی ۔ فرم نے گاڑی بھی دے رکھی تھی ۔ اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ میری زندگی ہنسی خوشی گزر رہی تھی ۔ اچانک فرم کو ایک کاروباری ڈیل میں بھاری نقصان ہو گیا۔

فرم کے مالکان نے حالات کو سنبھالنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر فرم کے مالی حالات سے بد سے بدتر ہوتے چلے گئے ۔ مالکان نے فرم بند کرنے کا فیصلہ کیا تو مجھ سمیت فرم کے تمام ملازمین بے روز گار ہو گئے۔

دور بیروز گاری بہت مشکل ہوتا ہے۔ خاص طور پر تب جب آپ شادی شدہ ہوں اور بچوں والے ہوں ۔ آپ کی آمدن رک جاتی ہے مگر اخراجات کو کم تو کیا جا سکتا ہے روکا نہیں جا سکتا ۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اگلے کچھ ماہ جمع پونجی کے سہارے گزر گئے مگر اس کے بعد زندگی گزارنا مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا۔

بجلی کا بل نہ دے سکنے پر میرے گھر بجلی کا کنکشن کٹ گیا۔ایک دوست سے ادھار لے کر بجلی کا بل جمع کروایا تو چند دن بعد سوئ گیس کے محکمہ والے بل کی عدم ادائیگی پر گیس کا میٹر اتار کر لے گئے۔ ایک ہمسائے یہ سوئ گیس کا بل ادا کر کے گیس کا میٹر دوبارہ لگوایا ۔ نوبت فاقوں تک آن پہنچی۔ ادھار مانگنے کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کا حوصلہ نہیں ہو رہا تھا۔کسی بھی سفید پوش کے لئے مالی مدد کے لئے کسی دوست یا رشتہ دار کے سامنے ہاتھ پھیلانا مشکل ترین کام ہے۔  مگر بندہ اپنی بھوک تو برداشت کر لیتا ہے مگر بچوں کی بھوک نہیں دیکھ سکتا۔

عید قرباں چند دن بعد آ رہی تھی ۔ زولحج کا چاند نظر آ چکا تھا ۔ میرے دوست اور رشتہ دار قربانی کے جانور خریدنے میں مصروف تھے۔ کسی کو بھی میرے گھر میں ہونے والے فاقے نظر نہیں آ رہے تھے۔جب بلکل ہی گھر میں کھانے پینے کو کچھ نہ رھا تو میں ادھار مانگنے کے لئے اپنے ایک محلے دار دوست کے ہاں پہنچا۔

دل کڑا کر کے اپنے دوست کے سامنے اپنے گھر کے حالات رکھے اور قرض حسنہ کی درخواست کی ۔ اس نے میری بات تو پوری توجہ سے سنی اور بولے “ یار! تو میرا پرانا یار ہے۔ مجھے تیرے حالات سن کر بہت افسوس ہوا ہے مگر میں اس وقت تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکوں گا ۔ میرے پاس صرف ایک لاکھ روپیہ ہے اس سے میں نے قربانی کا جانور خریدنا ہے۔ اب دیکھو قربانی کرنا بھی تو ضروری ہے ناں ۔ ہاں میں تمہیں قربانی کا گوشت ضرور بھیج دوں گا”

میں اس سے یہ نہیں پوچھ سکا کہ گھی ، مرچ ، مصا لحوں کے بغیر اس کا بھیجا قربانی کا گوشت کیسے پکے گا؟ روٹی پکانے کے لئے آٹا کیسے آئے گا؟۔
یہ سوال سوچنے والوں کے لیے چھوڑ رہا ہُوں فقط تنویر بیتاب