گلے کی سوزش سے بچنے کے لیے قدیم ماہرین طب کے 5 انمول مشورے

Posted by

فضائی آلودگی، کھانسی اور موسمی نزلہ و زکام گلے کو خراب کرکے گلے میں سوزش پیدا کرنے کی سب سے بڑی وجوہات ہیں اور جب گلہ خراب ہوتا ہے تو یہ ہماری قوت مدافعت پر بُری طرح اثر انداز ہوتا ہے اور بیرونی جراثیموں کو موقع دیتا ہے کہ وہ ہمارے جسم پر حملہ کر سکیں۔

آجکل کرونا وائرس کی وبا پھر سے پھیل رہی ہے اور ایسے وقت میں اگر گلہ خراب ہو تو یہ ایک تشویش ناک بات ہے اور اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور فوری اس کا کوئی نہ کوئی اپائے ضرور کرنا چاہیے تاکہ بڑی پریشانی سے بچا جا سکےاور اس کام کے لیے ایلوپیتھی کی ادویات جہاں فوری اثر کرتی ہیں وہاں ان کے سائیڈ ایفیکٹس ہماری صحت کو نقصان بھی پہنچاتے ہیں اور اگر انہیں زیادہ عرصہ استعمال کیا جائے تو جہاں یہ آہستہ آہستہ اثر کرنا بند کر دیتی ہے وہاں صحت کو برباد بھی کر دیتی ہیں۔

اس مضمون میں گلے کی سوزش سے بچے رہنے کے لیے صدیوں پُرانے چند مُفید ٹوٹکے شامل کیے جا رہے ہیں جو گلے میں سوزش پیدا ہونے سے روکتے ہیں اور موسمی امراض کے جراثیموں کو موقع نہیں دیتے کہ وہ جسم پر حملہ کر سکیں۔

نمبر 1 گرم پانی

قدیم طب کے ماہرین ہمیشہ گرم پانی پینے کا ہی مشورہ دیں گے کیونکہ ٹھنڈا پانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور گرم پانی جہاں جسم میں فاضل چربی کو جمنے کا موقع نہیں دیتا وہاں ہمارے نظام انہظام کو بہتر بناتا ہے اور ہماری قوت مدافعت کا 80 فیصد تعلق ہمارے نظام انہظام سے ہی ہے اس لیے گرم پانی پینے کو اپنا معمول بنائیں یہ ذہنی تناؤ کو بھی کم کرے گا اور نظام تنفس کو صاف کر کے آپ کے گلے کو بلا وجہ کی سوزش سے بچائے گا۔

نمبر 2 رات کو دہی مت کھائیں

طب ایوردیک کے ماہرین کا ماننا ہے کہ زندگی کی 3 طاقتیں ہیں جنہیں ہندی میں 3 دوشا کہا جاتا ہے اور اس میں سے ایک بلغم ہے جو رات کے وقت جسم میں زیادہ مقدار میں پیدا ہوتی ہے اور چونکہ دہی جسم میں اس دوشا کو بڑھاتا ہے اس لیے رات کے وقت دہی کا استعمال مت کریں کیونکہ اس سے جسم میں بلغم کا تناسب بڑھ جاتا ہے جس سے گلے میں سوزش پیدا ہونے اور نزلہ زکام جیسے امراض کے بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

دہی کھانے کا سب سے اچھا وقت صُبح کا وقت ہے اس لیے دہی کا استعمال دن کے اوقات میں کریں تاکہ آپ اس زبردست خوراک کے فائدوں سے بہرمند ہو سکیں اور اس کے نقصانات سے محفوظ رہ سکیں۔

نمبر 3 صُبح کی چائے میں ہلدی کا استعمال شروع کریں

ہلدی میں قدرتی اینٹی بائیوٹیک شامل ہیں جو ہمارے جسم میں سوزش کو پیدا ہونے سے روکتی ہے اور اگر آپ صبح کی چائے میں ہلدی لونگ اور تھوڑا سا ادرک ڈال کر پینا اپنا معمول بنا لیں تو فضائی آلودگی اور دیگر جراثیم آپکے گلے کو کبھی بھی متاثر نہیں کر پائیں گے۔

نمبر 4 نمکین پانی سے غرارے کریں

یہ چھوٹا سا عمل آپ کو بہت سی پریشانیوں سے بچا سکتا ہے کیونکہ یہ نظام تنفس میں موجود جمی بلغم کو خارج کرتا ہے اور گلے کی سوزش کو آرام دیتا ہے اس لیے روزانہ نیم گرم پانی سے کم از کم ایک دفعہ غرارہ کرنا اپنا معمول بنا لیں۔

نمبر 5 گھریلو علاج

گلہ خراب ہونے کی صُورت میں فوری طور پر ایلوپیتھی ادویات کی طرف جانے کی بجائے گھریلو ٹوٹکوں کو فوقیت دیں ان گھریلو ٹوٹکوں میں شہد، ادرک، ہلدی، لونگ، الائچی اور باورچی خانے کے دیگر مصالحوں کا استعمال کرنا ایلوپیتھی ادویات سے زیادہ بہتر ہے لیکن اگر علامات برقرار رہیں اور بڑھ جائیں تب ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

Feature Image Preview Credit: https://www.myupchar.com/en, CC BY-SA 4.0, via Wikimedia Commons, The Image has been edited.