گھر کو الرجی اور بیماری پیدا کرنے والے جراثیم سے محفوظ بنانے کے 10 آسان طریقے

Posted by

الرجی اور وائرل بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم ہمیں دیکھائی نہیں دیتے اور نہ ہی انہیں پُوری طرح ختم کیا جاسکتا ہے لیکن ان سے محفوظ رہنے کے لیے اگر ہمیں اپنے گھروں میں چند احتیاطی تدابیر استعمال کریں تو جہاں ہم ان جراثیموں کے حملے سے محفوظ رہ سکتے ہیں وہاں بلا وجہ کی ڈاکٹر کی فیس اور ادویات پر اُٹھنے والا خرچہ بھی بچا سکتے ہیں۔

اس آرٹیکل میں گھر کو الرجی پیدا کرنے والے اور وائرل جراثیموں سے محفوظ رکھنے کے 10 طریقے ذکر کیے جائیں گے جو ہمارے اور ہمارے بچوں کے ماحول کو صحت مند بنانے میں ہمارے مددگار ہوں گے۔

نمبر 1 دروازوں پر ڈور میٹ استعمال کریں

C:\Users\zubai\Downloads\PIXNIO-11734-2048x1536.jpg

گھر کے دروازوں پر خاص طور پر داخلی درازوں پر 2 ڈورمیٹ ایک اندر کی طرف اور ایک باہر کی طرف استعمال کریں تاکہ جُوتوں کے ساتھ گھر میں داخل ہونے والی پولن اور دوسرے جراثیم کا داخلہ بند ہو سکے اسکے ساتھ ساتھ گھر کو جُوتا فری زون بنائیں اور جُوتوں کے ساتھ گھر میں داخل نہ ہوں یا گھر میں چلنے پھرنے کے لیے الگ جُوتا رکھیں۔

نمبر 2 گھر میں پودے لگائیں

Photo of Woman Sitting on Chair Next to House Plants

الرجی اور جراثیم ہوا کے ذریعے ہمیں متاثر کرتےہیں اور پودے ہوا کو صاف کرتے ہیں، اپنے گھر کے اندر اور گھر کے کمروں میں گملوں میں پودے لگائیں، پودے آپ کے گھر کے ماحول کو خوبصورت بھی بنائیں گے اور ہوا کی صفائی بھی کریں گے۔

ہوا صاف کرنے والے چند انڈور پلانٹس جیسے، بوٹل پام، پام، ایروکیریا، سپائیڈر پلانٹ، گارڈن ممز، کلیوں کے پودے، نیاز بو، ایلیفینٹ پلانٹ وغیرپودوں کی نرسری سے عام مل جاتے ہیں۔

نمبر 3 ایر پیوریفائر خرید لیں

File:Eureka Forbes EuroAir Air purifier.jpg
Mickey rnmb [CC BY-SA 3.0], via Wikimedia Commons
ایک اچھا Air Purifier 5 سے 10 ہزار روپیے میں مل جاتا ہے، یہ تھوڑا مہنگا ہے مگر ایک دفعہ خرید لیں تو یہ بڑے کام کی چیز ہے جو آپ کووائرل انفیکشنز اور الرجی انفیکشنز سے بچاتا ہے اور ان انفیکشنز کے علاج کے لیے آپ سالانہ کئی ہزار روپیے ڈاکٹر اور ادویات پر خرچ کرتے ہیں۔

گھر کے بیڈ روم ، بچوں کے روم اور مین لیوینگ روم میں ایر پیورفائر کا استعما ل کریں۔

نمبر 4 گھر کے پردے دھوئیں یا تبدیل کریں

File:Black curtain.jpg
Scott Rubin [CC BY 2.0], via Wikimedia Commons
پردے گھر کو خوبصورت بناتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ مٹی کے ذرات، ڈسٹ اور دوسری الرجی پیدا کرنے والی دھول کو اپنے اندر جذب کرتے رہتے ہیں لہذا پردوں کو مہینے میں کم از کم ایک سے دو دفعہ گرم پانی سے دھوکر لٹکائیں۔

نمبر 5 کارپٹ سے نجات حاصل کریں

Carpet, Stack, Tissue, Fabric, Background, Modern

کارپٹ بہت سے الرجی اور وائرل انفیکشن کرنے والے جراثیم کو ہمارے جسم کا راستہ بتاتا ہے اور اگر گھر میں ہم اس سے نجات حاصل کرلیں تو آپ نوٹ کریں گے کہ سارے گھر والوں کی قوت مدافعت اچھی ہوگئی ہے۔

کارپٹ کا استعمال بند کردیں خاص طور پر سونے والے کمرے میں اور اُن مقامات پر جہاں آپ بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گُزارتے ہیں اور کارپٹ کی جگہ آپ چٹائی استعمال کر سکتے ہیں یا کوئی وقتی بچھونا ڈال سکتے ہیں جسے بعد میں آسانی سے دھویا جاسکے۔

نمبر 6 گھر کے فرش کو فنائل سے دھوئیں یا پوچا لگائیں

C:\Users\zubai\Downloads\mop-2736400_1280.jpg

گھر کے فرش کو روزانہ دھوتے وقت اور پوچا لگاتے وقت فنائل کا استعمال لازمی کریں یہ جہاں جراثیم کو مار دے گی وہاں کیڑے مکوڑوں کو بھی گھر میں رہنے نہیں دے گی اور آپ کو بہت سے بیماریوں سے بچائے گی۔

نمبر 7 گھر کی جھاڑ پونجھ کریں

Duster, Feather, Clean, Housework, Cleaner, Home

دروازے کھڑکیاں اور روشن دانوں کی اچھی طرح صفائی رکھیں اور انہیں کسی ایسے کپڑے سے صاف کریں جو مٹی کو اچھی طرح نکال دے۔

نمبر 8 ویکیوم کلینر ہیپا فلٹر کیساتھ استعمال کریں

File:HEPA2.jpg
Puceronpoilu [CC BY-SA 3.0], via Wikimedia Commons
عام طور پر ویکیوم کلینر فلٹر کے ساتھ ہی آتے ہیں مگر چند دفعہ کے استعمال کے بعد ان کا فلٹر گندہ ہوجاتا ہے اور ان ویکیوم سے صفائی کرنے کے دوران آپ کو نظر نہیں آتا مگر فلٹر سے نکلنے والی ہوا پولن اور کئی طرح کے دوسرے ذرات وغیرہ کو ہوا میں پھیلا دیتی ہے جو سانس کے راستے ہماری صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں لہذا ویکیوم کلینر کو بہتر ہے کے HEPA فلٹر کے ساتھ استعمال کریں اور ویکیوم کے فلٹر کو صاف کرنے کے بعد ویکیوم کا استعمال کریں۔

نمبر 9 بیڈ شیٹس اور تکیہ کؤرز کو دھوئیں

Laundry, Bed Linen, Laundry Spider, Clothes Line

گھر میں استعمال ہونے والی بیڈ شیٹس خاص طور پر تکیہ کؤرز تو ہفتے میں ایک دفعہ لازمی دھوئیں اور ان کو کسی ایسے صابن یا صرف سے دھوئیں جو جراثیم بھی مارتا ہو۔

نمبر 10 Air Humidifier

File:Ultrasonic Cool Mist Humidifier.jpg
Roecrew [CC BY-SA 4.0], via Wikimedia Commons
ایر پیوریفائر اور ایر ہومیڈیفائر میں بڑا فرق یہ ہے کے پیورئفائر ہوا کو ڈسٹ، پولن اور دوسرے الرجی پیدا کرنے والے ذرات سے صاف کرتا ہے مگر ہوا میں نمی پیدا نہیں کرتا، ہومیڈیفائر ہوا میں نمی کا تناسب برقرار رکھتا ہے اور یہ تناسب خاص طور پر سردیوں میں جب ہو اخُشک ہوجاتی ہے ہمیں بہت سے بیماریوں سے بچا کر رکھتا ہے۔

ائر ہومیڈیفائر کوئی اتنا مہنگا نہیں ہے مگر انتہائی کارآمد چیز ہے جو ڈاکٹر اور ادویات پر آنے والا بہت سا خرچہ بچاتا ہے۔