ہارٹ بائی پاس سرجری کے بغیر 30 دن میں دل کی بلاکج ختم چائنہ سٹڈی کی دلچسپ تحقیق اور طریقہ علاج

Posted by

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مُطابق پاکستان میں سالانہ 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد کے مرنے کی وجہ دل کی کوئی نہ کوئی بیماری ہوتی ہے جس میں ہارٹ اٹیک سر فہرست ہے اور پچھلے ایک سال میں کرونا سے مرنے والے افراد کی تعداد اب تک 9 ہزار ہے۔

میڈیکل سائنس کے پاس دل کی ان بیماریوں کا کوئی بھی مستقل حل موجود نہیں ہے اور دل کے مہنگے اور فینسی طریقہ علاج نے دُنیا میں میڈیکل مافیا کو جنم دیا ہے اور یہ مافیا ہمارے ملک میں تو بہت ہی فعال ہے جو دل کے ہر مریض کو فوری طور پر ہارٹ سٹنٹ لگوانے کا مشورہ نہیں حُکم دیتے ہیں۔

مریض کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہوتا چنانچہ وہ سٹنٹ لگوانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے تب اُسے پتہ چلتا ہے کہ بازار میں مختلف کوالٹی اور قیمت والے سٹنٹ موجود ہیں، 1 لاکھ والا سٹنٹ، 2 لاکھ والا سٹنٹ، پانچ لاکھ والا سٹنٹ، میڈ ان امریکہ، میڈ ان چائنہ، میڈ ان جاپان اور اب تو میڈ ان پاکستان بھی آ گیا ہے۔

ہارٹ سٹنٹ دل کو خون لیجانے والی شریانوں کو عارضی طور پر کُھلا کر دیتا ہے اور کسی بھی وقت خرابی کی صُورت میں مریض کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے چنانچہ ڈاکٹر حضرات سٹنٹ ڈالنے کےکُچھ عرصے بعد مریض کو بتاتے ہیں کہ اب اُس کے پاس دل کے بائی پاس آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔

دل کے بائی پاس آپریشن کے بعد مریض بیچارہ ادویات پر زندہ رہتا ہے اور ایک سروے کی رپورٹ کے مُطابق یہ آپریشن کروانے والے 74 فیصد افراد کی اوسط عمر 10 سال سے کم رہ جاتی ہے۔

چائنہ سٹڈی کی دلچسپ تحقیق

چائنہ سٹڈی ڈاکٹر کولن کیمبل اور تھامس کمیبل کی 2006 میں غذائی خصوصیات پر شائع ہونے والی ایک ایسی کتاب ہے جسے اگر لائف سیوینگ کتاب کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ اس کتاب میں میڈیکل سائنس کے مُطابق لاعلاج بیماریوں کا کامیاب علاج بالغذا موجود ہے اور میڈیکل سائنس مجبور ہے کے اس کے نتائج کو تسلیم کرے۔

نیچرل بائی پاس کی حقیقت

1950 سے 1953 تک ہونے والی امریکہ اور کوریا کی جنگ میں 30 ہزار امریکی فوجی جان سے گئے، جنگ بندی کے بعد امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں ایک حیرت انگیز رپورٹ پبلیش کی گئی جسکے مُطابق جنگ میں مرنے والے 300 امریکی فوجیوں کے دل کا معائنہ کیا گا ان فوجیوں کی اوسط عمر 22 سال تھی اور انہیں کبھی بھی دل کی کسی بیماری کی شکایت نہیں ہُوئی تھی مگر ان کے دل کے معائنے کے دوران پتہ چلا کے ان میں سے 73 فیصد سے زیادہ فوجی دل کی بیماری کا شکار تھے اور کئی کی دل کی شریانوں میں 50 فیصد سے زیادہ بلاکج تھی ۔

میڈیکل سائنس کے مُطابق دل کی بیماریوں کی ابتدا دل میں خُون لیجانے والی شریانوں میں پلاک جمنے سے شروع ہوتی ہے اور یہ پلاک کولیسٹرال، فاسفولیپڈس اور فیٹی ایسڈز وغیرہ سے ملکر بنتی ہے اور دل میں خون لیجانے والی شریانوں میں یہ پلاک بلاکج پیدا کرتی ہے اور ہارٹ اٹیک کا سبب بنتی ہے لیکن آخر امریکن فوجیوں کو اس بلاکج سے ہارٹ اٹیک کیوں نہیں ہُوا؟۔

میڈیکل سائنس مان گئی

2010 میں میڈیکل سائنس اپنی تحقیقات میں اس نتیجے پر پہنچی کے دل کو خون لیجانے والی شریانوں کے ساتھ بال سے بھی باریک شریانیں موجود ہوتی ہیں اور انہیں کولیٹرل ویسلز کہا جاتا ہے جو بڑی شریان کو بائی پاس کرتی ہیں مگر یہ شریانیں دونوں اطرف سے بند ہوتی ہیں اور جب مین شریان میں بلاکج سے خُون کا پریشر بڑھتا ہے تو ان شریانوں کے ڈھکن کُھل جانے سے بڑی شریان پر خُون کا بہاؤ ان شریانوں سے گُزر کر بلاکج کو بائی پاس کرنا شروع کر دیتا ہے اور ایسی صُورت میں ہارٹ بائی پاس کی ضرورت نہیں رہتی۔

ہماری خوراک اور بیماری

دُوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ میں نیشنل ہارٹ انسٹیٹیوٹ کی بُنیاد رکھی گئی، سائنس دانوں کو اس بات کا تو پتہ چل گیا تھا کہ دل کی نالیوں میں جمنے والی پلاک کن چیزوں سے بنتی ہے لیکن وہ اس کے بننے کی اصل وجہ نہیں جان پائے تھے پھر 1961 میں نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی ایک تحقیق میں اس بات کا پتہ چلا لیا کہ خُون میں کولیسٹرال کی بڑھی ہُوئی مقدار کا دل کی بیماریوں سے گہرا تعلق ہے۔

تحقیقات کا یہ سلسلہ جاری رہا اور 1970 اور 80 کی دہائی میں امریکن سائنس دان امریکہ میں دل کی بیماریوں سے بڑھنے والی شرح اموات سے پریشان یہ سوچنے پر مجبور ہُوئے کہ جو بیماری امریکہ میں تباہی مچا رہی ہے وہاں دُنیا کے دُوسرے کئی ممالک میں اس بیماری کا نام و نشان تک نہیں ہے، تب غور کرنے والوں کو یہ بات سمجھ آئی کہ جن ملکوں میں چکنائی سے بھر پُور اور زیادہ تر ایسے کھانے کھائے جاتے ہیں جو جانوروں سے حاصل کیے گئے ہوں جیسے گوشت، انڈے، دُودھ وغیرہ وہاں دل کی بیماری میں مُبتلا ہونے والوں کی شرح ایسے ممالک جو زیادہ تر سبزیاں کھاتے ہیں کے افراد سے کہیں زیادہ ہے۔

چائنہ سٹڈی ڈائیٹ پلان

2004 میں امریکن صدر بل کلینٹن کو ہارٹ کی نالیوں میں بلاکج کے باعث 4 بائی پاس آپریشن کروانے پڑے اور ان آپریشنز کے دوران اُن کے پھیپھڑے بھی متاثر ہُوئے جس پر اُن کا بھی آپریشن کرنا پڑا پھر 2010 میں اُن کے دل کی خُون لیجانے والی شریانوں میں دوبارہ بلاکج ہو گئی اور وہ اتنے بیمار ہو گئے کہ ڈاکٹرز نے بھی اپنے ہاتھ کھڑے کر دئیے تب کسی نے اُنہیں چائنہ سٹڈی ڈائیٹ پلان پر جانے کا مشورہ دیا اور اُنہیں بتایا کہ اس تحقیق پر عمل کرنے والے 82 فیصد افراد بغیر آپریشن کے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

بل کلینٹن نے 6 ماہ تک اس ڈائیٹ پلان پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر جہاں اُن کے دل کے تمام بلاکج ختم ہوگئے وہاں اُن کے پھیپھڑے بھی دوبارہ سے بلکل ٹھیک کام کرنے لگے، سابق امریکی صدر نے اپنے سی این این کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا جسے نیچے دی گئی ویڈیو میں آپ خود بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

قُدرتی بائی پاس کرنے کا طریقہ

بھارت کے ڈاکٹر بشواروپ رائے چوہدری نے چائنہ سٹڈی ڈائیٹ پلان کو اپنے کلینک پر متعارف کروایا اور اب تک 20 ہزار سے زیادہ افراد اُن کے اس ڈائیٹ پلان سے صحت یاب ہو چُکے ہیں اور ڈاکٹر رائے کا دعوی ہے کہ یہ ڈائیٹ پلان ایک مہینے میں آپ کے دل کی بلاکج ختم کر دے گا۔

اگر آپ بھی ڈاکٹر رائے چوہدری کے فُوڈ پلان پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو اپنی خوراک سے ہر قسم کا گوشت، دُودھ، انڈہ وغیرہ نکال کر نیچے دئیے گئے کھانوں کو اپنی روزانہ کی خوراک میں کم از کم 1 مہینے کے لیے شامل کرلیں۔

صبح کا ناشتہ

صبح کے ناشتے میں کوئی سے موسمی 4 پھلوں کا انتخاب کریں اور ان پھلوں میں سیٹرس فروٹس جیسے چکوترہ، مسمی، مالٹا، کینو وغیرہ کو فوقیت دیں اور یہ پھل اپنے وزن کے حساب سے کھائیں یعنی اگر آپکا وزن 70 کلو ہے تو کم از کم 700 گرام پھل کھائیں اور اگر 80 کلو ہے تو 800 گرام اسی طرح 100 کلو ہے تو 1 کلو فروٹ کھائیں اور یہ ناشتہ دوپہر 12 بجے سے پہلے پہلے کھا لیں۔

دوپہر کا کھانا

دوپہر کے کھانے کے لیے کم از کم 4 ایسی سبزیوں کا انتخاب کریں جنہیں آپ کچا کھا سکتے ہیں اور اگر کچی نہ کھائی جاسکتی ہوں تو تھوڑا سا سٹیم کر لیں اور کچی سبزیوں کا یہ سلاد بھی اپنے وزن کے حساب سے کھائیں یعنی اگر آپ کا وزن 80 کلو ہے تو 4 سو گرام کچی سبزیاں اور اگر وزن 90 کلو ہے تو 450 گرام اور اگر 100 کلو ہے تو کم از کم آدھا کلو کچی سبزیاں کھائیں اور انہیں کھانے کے بعد باقی کی بھوک اپنے گھر میں پکی دال روٹی وغیرہ سے مٹائیں۔

رات کا کھانا

رات کے کھانے میں بھی دوپہر کے کھانے والا طریقہ یعنی اپنے وزن کے مطابق 4 کچی سبزیوں کا سلاد کھائیں اور باقی کی بھوک جو دال روٹی گھر میں ہو اُس سے مٹائیں۔

ان چیزوں سے پرہیز کرنی ہے

جانوروں سے حاصل ہونے والے تمام کھانے ترک کر دیں سوائے مچھلی کے وہ بھی کبھی کبھار استعمال کریں، دُودھ کی جگہ بادام اور اخروٹ اور کاجو وغیرہ کو شیک کر کے ان کا دُودھ بنا لیں اور روزانہ استعمال کریں اور چائے کی جگہ سبز قہوہ اور بہتر ہو گا ہنزہ کا قہوہ استعمال کریں۔

کولڈ ڈرنک کو چھُونا تک نہیں ہے اور اسکی جگہ ناریل پانی پینا شروع کریں اور اگر اس ڈائیٹ پلان کے متعلق مزید معلومات چاہتے ہیں تو یوٹیوب پر ڈاکٹر رائے چوہدری کے تفصیل سے بیان کیے گئے لیکچرز جو کہ اُردو زبان میں بھی موجود ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

Featured Image Preview Credit: https://www.myupchar.com/en, CC BY-SA 4.0, via Wikimedia Commons, The Image Has been edited