ہارٹ کے مریضوں کے لیے احتیاطی تدابیر

Posted by

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک سروے رپورٹ کے مُطابق پاکستان میں ہر ایک گھنٹے میں 46 افراد دل کی کسی نہ کسی بیماری کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور اس بیماری میں سر فہرست ہارٹ اٹیک اور ہارٹ کا اچانک فیل ہو جانا ہے اور دنوں کی صُورت میں مریض کا فوری طور پر ہسپتال پہنچنا انتہائی ضروری ہوتا ہے اور ایسے موقع پر حکیموں کے مشورے اور انٹرنیٹ سے پڑھے ہُوئے ٹوٹکے جن کے آخر پر لکھا ہوتا ہے صرف ایک دفعہ استعمال کر کے ضرور دیکھیں کام نہیں آتے۔

اگر آپ یا آپ کا کوئی قریبی عزیز دل کی کسی بھی بیماری یا ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرال اور شوگر کا مریض ہے تو یہ احتیاطی تدابیر لازمی اختیار کی کرے کیونکہ اس بیماری میں سب سے زیادہ خطرہ ہارٹ اٹیک سے ہوتا ہے جس کی علامات مریض عام طور پر کافی وقت پہلے محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے لیکن عین وقت پر چھاتی میں 15 منٹ سے زیادہ درد کا ہونا، حواس کھونا، دل کی دھڑکنوں کا بے قابو ہونا، سانس میں دُشواری، سر کا ہلکا ہونا، بے ہوشی، متلی اور پسینہ وغیرہ کا آنا ، بازو میں درد کا جانا ہارٹ اٹیک کی واضح علامات ہیں اور ایسی صُورت میں پہلا کام ایمبولینس یا مریض کو دل کے ہسپتال کی ایمرجینسی وارڈ میں لیکر جانا ضروری ہے اور اس بندوبست کے دوران فوری طور پر مریض کو ڈسپرین کی دو گولیاں چبا کر کھانے کو بولیں۔

اگر آپ یا آپ کا کوئی بھی عزیز دل کی کسی بھی بیماری میں مُبتلا ہے تو اپنی جیب میں اینجی سیڈ ٹیبلٹ ضرور رکھے اور خُود میں علامات محسوس کرنے یا کسی اور کو اس حالت میں دیکھنے پر فوری طور پر زُبان کے نیچے رکھیں اور درد ختم نہ ہونے کی صُورت میں پھر رکھیں اور اسکے ساتھ ہارٹ ہسپتال کی فارمیسی سے آپ کو دل کی دھڑکن کنٹرول کرنے والے عارضی پیچ مل جائیں گے وہ بھی لازمی رکھیں اور وقت پر استعمال کریں۔

کسی بھی دائمی بیماری کی صُورت میں سیگرٹ نوشی فوراً بند کر دیں کیونکہ تمباکو دل کی کسی بھی بیماری کی صُورت میں انتہائی خطرناک ہے، اپنے بلڈ پریشر اور کولیسٹرال کو بڑھنے نہ دیں اس کام کے لیے روزانہ ورزش کریں اور صحت بخش کھانا کھائیں اور غیر ضروری فاسٹ فوڈ اور چکنائی والی چیزوں سے پرہیز کریں.

اپنے وزن کو بڑھنے نہ دیں اور اپنے خون میں شوگر کا دھیان رکھیں کیونکہ ذیابطیس ہارٹ اٹیک کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اعصابی تناؤ بھی دل کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے اس لیے روزمرہ کی زندگی میں اعصابی تناؤ کو کنٹرول کرنا سیکھیں اس کے لیے ورزش اور سائیکالوجیکل تھراپی دونوں ہی آپ کے کام آئیں گی۔

سب سے زیادہ ضروری بات

ماہرین کے مطابق سارا دن وقفے وقفے سے پانی پیتے رہنا رات کے اوقات میں دل کا دورہ پڑنے کے چانسز کو کم کر دیتا ہے اور زیادہ تر لوگوں کو دل کا دورہ صبح 6 بجے سے دوپہر کے اوقات میں پڑتا ہے اس لیے رات کو سونے سے پہلے ایک گلاس پانی لازمی پی کر سوئیں اور جو افراد روزانہ کم از کم 8 سے 12 گلاس پانی پیتے ہیں اُن میں ہائی بلڈ پریشر، اور دل کے دورہ پڑنے کے چانسز کم ہوتے ہیں۔